یہ 2 دسمبر 1998ء کا ایک عام سا دن تھا۔ جنگ اخبار لاہور کے کرائم ایڈیٹر جمیل چشتی اپنے دفتر میں بیٹھے ایک خط پڑھ رہے تھے۔ ایک ایسا خط جس میں ایک ناقابلِ یقین حد تک سفاکی کی داستان درج تھی۔ خط جس لفافے میں آیا تھا اُس میں اس سفاکی کے تصویری ثبوت بھی تھے۔
یہ خط لاہور کے ایک شہری جاوید اقبال کی جانب سے بھیجا گیا تھاجس میں اس نے 100 بچوں کو بے رحمانہ طریقے سے قتل کرنے کا اعتراف کیا تھا۔ جمیل چشتی سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ کوئی آدمی اتنا بھی سفاک ہو سکتا ہے لیکن انہوں نے جاوید اقبال کے بتائے ہوئے پتے پر جانے کا فیصلہ کیا۔
جب وہ جاوید کے راوی روڈ والے مکان پر پہنچے تو وہاں تالہ لگا تھا۔ وہ مقامی پراپرٹی ڈیلر کے ہمراہ ہمسائے کے مکان سے سیڑھی لگا کر اندر گئے۔ جاوید کے مکان میں سب کچھ ویسا ہی تھا جیسا اس نے خط میں بتایا تھا۔ وہاں پڑی بوریوں میں سے ایک پر “100 بچوں کے جوتے” اور دوسری پر “100 بچوں کے کپڑے” لکھا تھا۔ انہیں کھولنے پر چھوٹے بچوں کے کپڑے اور جوتے ہی نکلے۔
جمیل چشتی جب سٹور میں گئے تو جاوید کے بتائے گئے ایک ڈرم کو دیکھا جس کا ڈھکن اٹھانے پر تیز بد بو کا بھبھکا اٹھا۔ ڈرم میں تیزاب تھا جس میں انسانی اعضا کے ٹکڑے تیر رہے تھے۔ جمیل چشتی کا ہاتھ بھی تیزاب سے جل گیا۔
انہوں نے اگلے روز یعنی 3 دسمبر1998ء کو اس واقعے کی خبر اخبار میں شائع کر دی جس کے بعد پولیس حرکت میں آئی اور جاوید اقبال کے خلاف بچوں کے ساتھ زیادتی اور قتل کا مقدمہ درج ہوا۔
جاوید اقبال جنگ اخبار کے دفتر جانے سے قبل پولیس کے پاس گیا تھا اور انہیں بتایا تھا کہ اس نے 100 بچوں کو قتل کیا ہے۔ لیکن پولیس نے اس کو پاگل سمجھ کر تھانے سے نکال دیا تھا۔ اس کے بعد وہ جنگ کے دفتر گیا اور خط اور تصاویر جمیل چشتی کو دے کر آیا۔ جاوید اقبال پر اس سے پہلے بھی بچوں کے ساتھ زیادتی کے 2 مقدمات درج تھے تاہم اس کے پولیس کے ساتھ گہرے تعلقات تھے اور وہ ان مقدمات میں کبھی گرفتار نہیں ہوا۔
پولیس نے جاوید اقبال کے چند ساتھی گرفتار کر لیے تھے لیکن جاوید پکڑ میں نہیں آ رہا تھا۔ وہ مفرور تھا اور اس کے پاس 3 بانڈز کے علاوہ کوئی رقم نہ تھی۔ پولیس نے ان بانڈز کی تفصیل ہر بینک سے شئیر کر رکھی تھیں تاکہ جونہی وہ بانڈ کیش کرانے کسی بھی برانچ میں ٓئے، دھر لیا جائے۔ ایک بانڈ تو وہ کیش کرانے میں کامیاب ہو گیا اور دوسرا بانڈ کیش کرانے اپنے قریبی ساتھی ساجد کو سرائے عالمگیر کے ایک بینک میں بھیجا۔ کیشیئرنے بانڈ دیکھتے ہی شور مچا دیا اور ساجد گرفتار ہوگیا مگر جاوید بچ نکلا۔
پولیس کے ساتھ فوج بھی جاوید اقبال کی گرفتاری کے لیے کاروائیاں کر رہی تھی مگر اس کا سراغ نہیں مل رہا تھا۔ آخر کا ر 30 دسمبر کو جاوید اقبال خود ہی جنگ اخبار کے دفتر کے پہنچا جہاں پہلے اس کا 2 گھنٹے طویل انٹرویو ہوا اور پھر گرفتاری۔
اس کے ٹرائل میں زیادہ وقت نہیں لگا۔ عدالت نے اسے سزائے موت سناتے ہوئے حکم دیا کہ مینار پاکستان کے سامنے متاثرہ والدین کی موجودگی میں جاوید کے جسم کے 100 ٹکڑے کر کہ تیزاب میں ڈال دیے جائیں۔ جمیل چشتی بھی اس وقت عدالت میں تھے۔ سزا سننے کے بعد جاوید اقبال جب جمیل چشتی کے پاس سے گزر رہا تھا تو انہیں گلے لگایا اور کہا کہ “میں آپ کا بہت مشکور ہوں۔”
جاوید اقبال کے وکلاء اور پولیس افسران کے مطابق جاوید شہرت کا متمنی تھا۔ اسی لیے اس نے پہلے 100 بچوں کو قتل کیا۔ پھر خود ہی اس سفاک جرم سے پردہ اٹھایا اور خود ہی گرفتاری دی۔ اس دوران وہ اپنے متعلق چلنے والی خبروں سے لطف اندوز ہوتا رہا۔ یہی وجہ تھی کہ اس نے صحافی جمیل چشتی کا آخری وقت شکریہ ادا کیا کیونکہ اگر وہ اس کے جرم کو اپنی خبر کے زریعے سامنے نہ لاتے تو وہ “شہرت” کی اس بلندی کو کبھی نہ پہنچ پاتا جس کا وہ متمنی تھا۔
آج غلامی کے خاتمے کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔
سال 1988ء میں آج کے دن بینظیر بھٹو نے پاکستان کی وزیر اعظم کا حلف اٹھایا تھا۔ وہ مسلم دنیا کی پہلی خاتون وزیر اعظم تھیں۔
آج کے روز سال 1942ء میں دنیا کا پہلا خود کو برقرار رکھنے والا نیوکلیئر چین ری ایکشن ہوا جس نے جوہری سائنس میں نئے تجربات اور ترقی کی راہ ہموار کی۔
آج کے دن سال 1971ء میں متحدہ عرب امارات کا قیام عمل میں آیا جو جزیرہ نما عرب کے مشرقی ساحل پر ۷ عرب مملکتوں پر مشتمل تھا۔
سال 1982ء میں ڈاکٹر ولیم ڈی وریس نے 61 سالہ مریض بارنی سی کلارک کا آپریشن کر کہ ان کے سینے میں مصنوعی دل لگایا۔ یہ دنیا کا پہلا مصنوعی دل تھا جو کسی مریض کو لگایا گیا اور اس دل کے ساتھ کلارک 112 دن زندہ رہے تھے۔
2 دسمبر 1979 ء کو کرکٹر عبدالرزاق کی پیدائش ہوئی۔
آج کے روز1980ء میں قائداعظم کی بہن محترمہ شیریں جناح کراچی میں انتقال کر گئیں۔
آج کے روز2020ء میں سابق وزیراعظم میر ظفر اللہ خان جمالی کاانتقال ہوا۔














