عمران خان ’سسرال‘ میں وقت کیسے گزاریں؟

ہفتہ 2 دسمبر 2023
author image

عبیداللہ عابد

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

فرزند راولپنڈی جناب شیخ رشید احمد کے ایک قول زریں کا مفہوم ہے کہ سیاست دان جیل سے گھبراتے نہیں ہیں، کیونکہ جیل ان کے لیے سسرال کا درجہ رکھتی ہے، ہتھکڑیاں زیور ہوتی ہیں اور موت محبوبہ۔

جن دنوں قبلہ شیخ صاحب نے یہ ارشاد فرمایا تھا، جناب عمران خان ابھی اپنے گھر واقع زمان پارک لاہور میں مقیم تھے۔ اس وقت کے وزیر داخلہ رانا ثنااللہ زیر مونچھ مسکراتے ہوئے عمران خان کو دھمکی دیا کرتے تھے کہ وہ انھیں بلوچستان کی مچھ جیل کے مرچی وارڈ میں رکھیں گے۔ جبکہ عمران خان کہا کرتے تھے کہ انھیں دس سال کے لیے جیل میں رکھنے کا منصوبہ لندن میں بنایا گیا ہے۔

جب شیخ صاحب کا یہ سنہری قول سنا تو خیال گزرا کہ شاید وہ عمران خان کو سبق پڑھا رہے ہیں کہ چڑھ جا بیٹا سولی، رام بھلی کرے گا۔ پھر اگلے دن شیخ رشید زیر زمین کسی مقام سے پکارتے’عمران خان! میں آپ کو انقلابی لیڈر دیکھنا چاہتا ہوں۔ نکلو قوم انتظار میں ہے‘۔ ان دنوں ہر لمحہ چیئرمین تحریک انصاف کی گرفتاری کے امکانات ظاہر کیے جارہے تھے۔ جب بھی کوئی ایسا امکان ظاہر ہوتا، شیخ رشید کھڑے ہوجاتے، سینہ تان کر للکارتے’ ان حکمرانوں کی شکلیں ہیں عمران خان کو گرفتار کرنے والی؟‘،’ان کا باپ بھی عمران خان کو گرفتار نہیں کرسکتا‘۔

شیخ صاحب جنھیں للکار رہے تھے، یا شاید اس للکار کے پردے میں شہہ دے رہے تھے، بالآخرانھوں نےعمران خان کو پکڑ کے جیل میں ڈال دیا گیا۔ حالانکہ سابق وزیراعظم نے گرفتاری سے بچنے کی لاکھ کوششیں کیں لیکن شیخ صاحب کو قرار نہیں تھا۔

تفنن برطرف، جیل سسرال والا قول غلط نہیں ہے۔ جیلوں میں جاکر ہی سیاست دان لیڈر بنتے ہیں۔ جنوبی افریقہ کے عظیم رہنما نیلسن منڈیلا کسی کا قول دوہرایا کرتے تھے کہ کوئی فرد اس وقت تک اپنی قوم کے بارے میں بہتر طور پر جان نہیں سکتا، جب تک وہ جیل میں قید نہ ہو۔ پھر وہ مسکراتے ہوئے کہتے’ میرے ملک میں سربراہ مملکت بننے سے پہلے جیل جانا ضروری ہوتا ہے‘۔

حقیقت میں جیل سیاست دانوں کے لیے نہایت مفید ثابت ہوتی ہے۔ اولاً، جیل جانے سے ان کی مقبولیت میں اضافہ ہوتا ہے۔ ثانیاً، انھیں خود احتسابی کا موقع ملتا ہے، وہ اپنی اب تک کی حکمت عملی کا جائزہ لیتے ہیں، خوب غوروفکر کرکے اپنی غلطیاں تلاش کرتے ہیں، اور پھر ان غلطیوں سے سبق سیکھ کراگلا منصوبہ تیار کرتے ہیں۔

عموما ہمارے ہاں کارکن اپنے لیڈر کی پوجا کرتے ہیں، ایک لمحہ کے لیے بھی ماننے کو تیار نہیں ہوتے کہ لیڈر کچھ غلط بھی کرسکتا ہے یا اس سے کچھ غلط ہوسکتا ہے۔ کارکنوں کا یہ طرزعمل قابل فہم ہوتا ہے لیکن لیڈر خود ہی اپنی پوجا و پرستش کرنے لگے تو یہ اس کی سب سے بڑی بدقسمتی ہوتی ہے۔ مثلاً وہ اس بات پر یقین کامل رکھے کہ وہی سب سے بہتر جانتا ہے، وہ کوئی غلط فیصلہ کر ہی نہیں سکتا۔ اس کے علاوہ باقی سب لوگ جاہل، احمق اور گاؤدی ہیں۔ وہ ہر ایک کو پکڑ پکڑ کے کہتا ہے’میں تم سے بہتر جانتا ہوں‘۔

یہ طرزفکر انسان کو سب سے پہلے تنہا کرتا ہے، پھر نہایت برے انجام سے دوچار کرتا ہے۔

جناب عمران خان کے لیے یہ بہترین وقت ہے کہ وہ خود احتسابی کریں۔ ان سب فیصلوں کے بارے میں سوچیں جو انھوں نے خود کیے تھے، اور پھر ان فیصلوں کا بھی جائزہ لیں جو انھوں نے کسی نہ کسی کے کہنے پر کیے تھے۔ اپنے سابقہ ساتھیوں اور اتحادیوں کے اس سارے طرزعمل کا جائزہ لیں جو انھوں نے پانچ، دس برس میں روا رکھا تھا۔ ہوسکتا ہے کہ وہی انھیں اس برے مقام پر لے آئے ہوں۔

عمران خان اس بات کو دماغ سے نکال ہی دیں تو زیادہ بہتر ہے کہ ان کی حکومت امریکا یا اسٹیبلشمنٹ وغیرہ نے گرائی۔ اگر وہ اور ان کے حامی جان کی امان دیں تو عرض کروں کہ عمران خان اور ان کے حامی خود ہی اپنی حکومت ختم کرنے کے ذمہ دار ہیں۔ وہ پہاڑ جیسی غلطیاں نہ کرتے تو نہ صرف پانچ سال پورے کرتے بلکہ اگلے پانچ سال کے لیے بھی منتخب ہوتے۔ اور آج ان کے سیاسی مخالفین کسی قابل نہ ہوتے۔

جناب عمران خان ایوان اقتدار میں داخل ہونے سے پہلے جو کچھ کہا کرتے تھے، اس سے مسلسل یوٹرن لیتے چلے گئے، پہلے وہ صرف اور صرف عام آدمی کی بات کرتے تھے، وزیراعظم بن کر مافیاز کے مفادات کا تحفظ کرنے لگے۔ پہلے شاندار حکمرانی کرنے کے وعدے کرتے تھے، حکمران بنے تو سارا زور مخالفین کو رگیدنے پر ہی لگا دیا۔ روزانہ ترجمانوں کا اجلاس بلاتے، جہاں فیصلہ ہوتا کہ آج سیاسی مخالفین کے خلاف صبح آٹھ بجے کون سا ٹرینڈ چلے گا، دس بجے کون سا اور پھر بارہ بجے کیا ٹرینڈ چلایا جائے گا۔

خان صاحب کی حکومتی کارکردگی فوٹو شاپ سے گزر کر سوشل میڈیا پر ہی نظر آتی تھی۔ نو برس تک صوبہ خیبر پختونخوا میں حکمران رہے، وہاں جو کچھ کیا، وہ سب کے سامنے ہے۔ بلین ٹری پروگرام صرف فوٹو شاپڈ تصاویر ہی میں نظر آتا، اور ساڑھے تین سو چھوٹے ڈیمز بھی اسی انداز میں صوبے کو ثمرات بخشتے تھے؟ تنگی داماں کا احساس نہ ہوتا تو تحریک انصاف کی حکومتوں کی ایک ایک کرکے ساری فوٹو شاپڈ خدمات سامنے رکھتا۔

جناب عمران خان قید سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ایک کام کریں، سن دوہزار اٹھارہ سے پہلے قوم سے کیے گئے سارے وعدوں کی ایک فہرست تیار کریں، پھر جائزہ لیں کہ ان میں سے کتنے وعدوں سے یوٹرن لیا؟ خان صاحب نے اقتدار میں آکر پہلے 100 دنوں میں کچھ کام کرنا تھے، اسی طرح کچھ کام پہلے 6 مہینوں میں کرنے تھے، جائزہ لیں کہ کیا وہ مقررہ مدت میں ہوئے یا ساڑھے تین برسوں میں بھی نہ ہوئے؟ اگر نہیں ہوئے تو کیوں نہیں ہوئے؟

اگر ایک دیوالیہ ملک ترکی ( اب ترکیہ) کی حکرانی سنبھالتے ہی رجب طیب ایردوان اپنی قوم کو بڑے بڑے ریلیف دے سکتے تھے، تو عمران خان کیوں پاکستانی قوم کو ریلیف نہیں دے سکتے تھے؟ بھارت میں خراب معاشی حالت والی ریاست دہلی کی حکمرانی سنبھالتے ہی اروند کیجری وال بجلی سمیت کئی بنیادی اشیائے ضروریہ 50 فیصد سستی کرسکتے تھے، اور کئی چیزیں بالکل مفت کرسکتے تھے تو عمران خان ایسا کیوں نہیں کرسکتے تھے۔

مسئلہ یہ ہے کہ اہمیت ترجیحات کی ہوتی ہے کہ آپ نے حکمران بن کر مافیاز کی خدمت کرنی ہے یا عوام کی؟

خود احتسابی کے اس سارے عمل میں عمران خان اپنے آپ کو کسی قسم کی رعایت نہ دیں تو بہتر ہوگا۔ اپنی غلطیوں کا بوجھ کسی دوسرے کے کندھے پر نہ رکھیں، کیونکہ نااہل لوگ ہی اپنی ناکامیوں کی ذمہ داری دوسروں پر عائد کرتے ہیں۔

عمران خان کو جیل میں رہتے ہوئے ایک اور کام کرنا چاہیے کہ وہ ایسی کتب کا مطالعہ ضرور کریں جن میں بتایا گیا ہو کہ غربت کی دلدل میں دھنسے معاشروں کی تعمیر و ترقی کیسے کی جاسکتی ہے، انھیں خوشحال کیسے بنایا جاسکتا ہے؟

سنا ہے کہ عمران خان نے گھر سے کتابیں منگوائی ہیں۔ یہ اچھی بات ہے۔ ورنہ ہمارے سیاست دانوں کو مطالعہ کی عادت بالکل نہیں ہے۔ مطالعہ کتب ہی انسان کو بڑا بناتا ہے، سیاست میں قدم رکھنے والوں کو لیڈر بناتا ہے۔ ہم دنیا بھر سے اپنے مطلب کی چیزیں فٹافٹ سیکھتے ہیں لیکن نہیں دیکھتے کہ دوسری اقوام کے رہنما کیسا اور کس قدر مطالعہ  کتب کرتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp