ایف بی آر کی تنظیم نو، ٹیکس پالیسیاں بنانے کے اختیارات ریونیو ڈویژن کو منتقل

ہفتہ 6 جنوری 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (ایس آئی ایف سی) نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر )کی تنظیم نو کی منظوری دیتے ہوئے ٹیکس پالیسیاں بنانے کے اختیارات ختم کر دیے ہیں۔

تنظیم نو کا مقصد محصولات کی وصولی میں اضافہ کرنا اور سالانہ جی ڈی پی کے تقریباً 8 فیصد کے بجٹ خسارے کو پورا کرنا ہے۔

وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ کی سربراہی میں کونسل نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو 2 اداروں میں تقسیم کرنے کی توثیق کرتے ہوئے ٹیکس پالیسیاں بنانے کے اختیارات ختم کر دیے ہیں۔

نئے منظور شدہ ڈھانچے کے تحت 2 نئے بورڈز قائم کیے جائیں گے جن میں فیڈرل بورڈ آف کسٹمز اور فیڈرل بورڈ آف ان لینڈ ریونیو (آئی آر) شامل ہیں۔ ان بورڈز کی سربراہی کسٹمز اور ان لینڈ ریونیو سروس گروپس کے الگ الگ چیئرپرسن کریں گے جو براہ راست وزیر خزانہ کو رپورٹ کریں گے۔

ایس آئی ایف سی کی جانب سے اس ہفتے منظور کی گئی تنظیم نو پر ایک ماہ کے اندر عمل درآمد کیا جائے گا۔ اعلیٰ حکومتی ذرائع کے مطابق آئندہ عام انتخابات سے قبل عملدرآمد کی حکمت عملی تیار کرنے کے لیے ایف بی آر کی ری اسٹرکچرنگ عملدرآمد کمیٹی تشکیل دی جائے گی۔

نئے ڈھانچے میں ایف بی آر کی موجودہ شکل کو ختم کرتے ہوئے انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور فیڈرل ایکسائز پالیسیوں کی تشکیل کی ذمہ داری ریونیو ڈویژن کو منتقل کردی گئی ہے۔

ریونیو ڈویژن کے سیکرٹری کی سربراہی میں ریونیو ڈویژن فیڈرل پالیسی بورڈ کے نام سے ایک ٹیکس پالیسی آفس پر مشتمل ہوگا۔

ایس آئی ایف سی کے فیصلے کے بعد عبوری وزیر خزانہ ڈاکٹر شمشاد اختر نے اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ ایک اجلاس کی صدارت کی، جس میں کچھ ترامیم کے ساتھ فیصلے کی توثیق کی گئی ہے۔

تنظیم نو کا مقصد محصولات کی وصولی میں اضافہ کرنا اور جی ڈی پی کے تقریباً 8 فیصد سالانہ بجٹ خسارے کو پورا کرنا ہے، جس سے پاکستان کی بڑھتی ہوئی مالی ضروریات اور قرضوں کے بوجھ کو دور کیا جا سکے گا۔

ایس آئی ایف سی نے حکومت کو تنظیم نو کے نفاذ کے لیے ایک ماہ کا وقت دیا ہے اور موجودہ قواعد و ضوابط کے مطابق ہم آہنگی کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ ان قانونی تبدیلیوں کے لیے ممکنہ صدارتی آرڈیننس کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔

یہ اقدام گزشتہ 32 سالوں میں ٹیکس پالیسی اور انتظامیہ میں اصلاحات کی 9 ویں کوشش کے طور پر کیے گئے ہیں، جس میں کارکردگی کو بڑھانے کے لیے انتظامی بہتری پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی سربراہ کاجا کالاس اسٹریٹجک مذاکرات کے لیے یکم جون کو اسلام آباد پہنچیں گی

یو ایف او فائلز جاری ہونے کے بعد نئی بحث: حقیقت، راز یا محض غلط فہمیاں؟

اگر مختلف چیٹ بوٹس کو انسانوں پر حکومت سونپی جائے تو کیا ہوگا؟ دلچسپ نتائج، گروک نے تباہی مچا دی

ٹیکنالوجی کی دنیا میں ہلچل: اوپن اے آئی کا آئی فون کو ٹکر دینے کے لیے اسمارٹ فون لانے کا فیصلہ

کراچی: ڈکیتی ناکام ہونے پر مبینہ ڈاکو نے خود کا خاتمہ کرلیا، معاملہ شرمندگی کا یا کچھ اور؟

ویڈیو

عرفات منہاس ون ڈے ڈیبیو میں 5 وکٹیں لینے والے پاکستان کے پہلے بولر بن گئے

امریکا کے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے حقیقی دوستی والے تعلقات ہیں، امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ

فلسطینی ریاست کے قیام تک اسرائیل سے تعلقات کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، اسحاق ڈار کا دوٹوک اعلان

کالم / تجزیہ

اچکزئی صاحب کا مسئلہ کیا ہے؟

بڑے شہر نگل جاتے ہیں

عید الاضحی ، بھارتی مسلمان اور ہندو شاؤنزم