پی ٹی آئی نظریاتی کے ساتھ اتحاد؛ عمران خان کو اعتماد میں نہ لیے جانے کا انکشاف

منگل 16 جنوری 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان تحریک انصاف اور پی ٹی آئی نظریاتی کے ساتھ اتحاد کے معاملے میں عمران خان کو اعتماد  میں نہ لیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔

ذرائع نے وی نیوز کو بتایا کہ عمران خان سے پی ٹی آئی نظریاتی کے چیئرمین اختر اقبال ڈار سے معاہدے پر منظوری نہیں لی تھی اور سابق وزیراعظم اس حوالے سے لاعلم تھے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان نے پیر کو اڈیالہ جیل میں سماعت کے موقع پر قانونی ٹیم سے اس متعلق وضاحت طلب کی اور سخت برہمی کا اظہار بھی کیا ہے۔ عمران خان نے چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر خان کی سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ اختر اقبال ڈار سخت حالات میں کھڑا ہونے والا بندہ نہیں تھا اور اس پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا تھا۔

ذرائع نے دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی نظریاتی کے ساتھ اتحاد کا فیصلہ سیاسی کمیٹی کا تھا، پارٹی کے سیکرٹری جنرل عمر ایوب خان نے پی ٹی آئی نظریاتی کے ساتھ اتحاد کرنے کی سفارش سیاسی کمیٹی کو کی تھی جسے مختلف وجوہات کی بنا پر منظور کرلیا گیا تھا۔

ذرائع نے بتایا کہ عمران خان نے سیاسی کمیٹی کو بلے کا نشان نہ ملنے کی صورت میں صاحبزادہ حامد رضا کی جماعت سنی اتحاد کونسل کے ساتھ بات چیت کرنے کا مشورہ دیا تھا تاہم حتمی فیصلہ سیاسی کمیٹی پر چھوڑ دیا تھا۔ سیکرٹری جنرل عمر ایوب خان نے پی ٹی آئی نظریاتی کے چیئرمین اختر اقبال ڈار کی پی ٹی آئی کے ساتھ اتحاد کی پیشکش کو سیاسی کمیٹی کے سامنے رکھا۔ کمیٹی نے ’بلے‘ سے ملتے جلتے نشان کی وجہ سے اختر اقبال ڈار کی پیشکش قبول کرلی۔

ذرائع نے بتایا کہ عمران خان نے پیر کو اڈیالہ جیل میں بیرسٹر گوہر خان سے وضاحت طلب کی  کہ ’جب میں نے صاحبزادہ حامد رضا کی جماعت کے ساتھ اتحاد کرنے کا مشورہ دیا تھا تو اختر اقبال ڈار کے ساتھ اتحاد کیوں کیا گیا؟ صاحبزادہ رضا ہمارے ساتھ مشکل وقت میں کھڑے رہے ہیں اور وہ کبھی اپنے موقف سے پیچھے نہ ہٹتے‘۔

ذرائع نے بتایا چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر خان نے عمران خان کو بتایا کہ یہ ان کا نہیں بلکہ سیاسی کمیٹی کا فیصلہ تھا۔

وی نیوز نے ایک سے زائد مصدقہ ذرائع سے اس خبر کی تصدیق کی تاہم ترجمان پی ٹی آئی روف حسن نے اس حوالے سے وی نیوز کو بتایا کہ ’تمام فیصلے عمران خان کی ہدایات کی روشنی میں کیے جاتے ہیں، ہمارے پاس اتحاد کے لیے مختلف آپشنز موجود تھے اور سیاسی کمیٹی نے اتحادی جماعتوں سے ملاقاتیں بھی کی تھیں۔‘

پی ٹی آئی ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ مذہبی عنصر ہونے کے باعث صاحبزادہ حامد رضا کی سنی اتحاد کونسل اور مجلس وحدت المسلمین کی جماعت پر پی ٹی آئی نظریاتی کو ترجیح دی گئی۔ دونوں جماعتوں کا اتحاد ایک ہفتے قبل ہوا، تحریک انصاف نے پی ٹی آئی نظریاتی کے چیئرمین اختر اقبال ڈار کو 5 روز تک محفوظ مقام پر بھی رکھا تاہم وہ 13 جنوری کو اپنے اہل خانہ سے ملاقات کا کہہ کر محفوظ مقام سے نکلے تھے۔

ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ عمران خان نے پنجاب میں جاری کیے گئے بعض ٹکٹوں پر بھی تحفظات کا اظہار کیا ہے اور پارلیمانی بورڈ کو نظرثانی کی ہدایت کی ہے جس کے بعد امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ پنجاب کے قومی و صوبائی اسمبلی کے بعض حلقوں کے ٹکٹوں میں رد و بدل کیا جائے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

بابر اعظم کی بیٹنگ میں تکنیکی خامی کی نشاندہی، محمد یوسف نے اہم مسئلہ بتا دیا

اسلام آباد کی خواتین کے لیے مفت اسکوٹی ٹریننگ پروگرام کا اعلان

انسٹاگرام پر 90 منٹ تک کی طویل ویڈیوز پوسٹ کرنے کا نیا فیچر متعارف

سی پیک نے معیشتوں کو جوڑا، چین پاکستان انفارمیشن کوریڈور ذہنوں کو جوڑے گا، عطا اللہ تارڑ

سیکیورٹی فورسز کے 67 بڑے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز: داعش کے 50 سے زائد دہشتگرد ہلاک، 100 سے زائد گرفتار

ویڈیو

پاکستانی ہر حال میں کشمیریوں کے ساتھ ہیں، شاہراہ دستور پر ارکان پارلیمنٹ اور عوام کا کشمیریوں سے اظہار یکجہتی

5 باہمت بہنوں نے روایتی ذائقوں کو روزگار کا ذریعہ بنا لیا، کوئٹہ کے رامین ریسٹورنٹ کی منفرد کہانی

چار دیواری نہ سیکیورٹی، پنو عاقل کے 105 سال پرانے تھانے میں قانون کے محافظ کیسے کام کرتے ہیں؟

کالم / تجزیہ

27 اکتوبر، یوم سیاہ: بین الاقوامی قانون کیا کہتا ہے؟

تحریک انصاف : رُل تے گئے آں پر چس بڑی آئی اے

درختوں پر جھولے اچھے لگتے ہیں، لاشیں نہیں