کینسر میں مبتلا برطانوی بادشاہ چارلس نے ایک بار پھر ذمہ داریاں سنبھال لیں

جمعرات 22 فروری 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

کینسر کے مرض میں مبتلا برطانوی بادشاہ چارلس سوم نے ایک بار پھر ذمہ داریاں سنبھال لیں، بادشاہ چارلس کی برطانوی وزیر اعظم رشی سوناک سے مصافحہ کرتے ہوئے تصویر وائرل ہوگئی، جب وہ گزشتہ روز سہ پہر کو بکنگھم پیلس پہنچے۔ ان کی اس ملاقات سے یہ بات واضح ہے کہ انہوں نے حکومتی معاملات پر تبادلہ خیال کرنے کے لیے ہفتہ وار بریفننگ کو دوبارہ شروع کردیا ہے۔

برطانوی میڈیا کے مطابق بادشاہ چارلس نے اپنے کینسر کے علاج کے دوران عوامی مصروفیات کو ترک کر دیا تھا، لیکن وہ ریاست کے سربراہ کے طور پر اپنے فرائض کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔

برطانوی خبر رساں ایجنسی پی اے میڈیا کی تصاویر میں دکھایا گیا ہے کہ چارلس، سوٹ اور ٹائی میں ملبوس، ایک وسیع مسکراہٹ کے ساتھ رشی سوناک کا استقبال کر رہے ہیں اور دونوں خوشی کا اظہار کررہے ہیں۔ اس دوران رزی سوناک نے کہا کہ ہم سب آپ کے ساتھ کھڑے ہیں، جس پر چارلس نے جواب دیا کہ مجھے بہت سارے پیغامات اور کارڈز موصول ہوئے ہیں جنہوں نے مجھے حوصلہ دے رکھا ہے۔

وزیر اعظم سے ملاقات سے قبل، چارلس نے شاہی رہائش گاہ پر ذاتی طور پر پرائیوی کونسل کا انعقاد کیا، جس میں کونسل کے لارڈ صدر پینی مورڈانٹ سمیت وزراء نے شرکت کی۔

یاد رہے 6 فروری کو بکنگھم پیلس کی جانب سے اعلان کیا گیا تھا کہ 75 سالہ بادشاہ چارلس کو کینسر کی ایک نامعلوم شکل کی تشخیص ہوئی ہے اور وہ علاج کے دوران عوامی سطح پر فرائض سے دستبردار رہیں گے۔ لیکن توقع کی جا رہی ہے کہ بادشاہ چارلس گھر پر ریاستی دستاویزات کے ذریعے کام جاری رکھ سکیں گے۔

’اگر ان کے ڈاکٹر انہیں ذاتی طور پر عوامی رابطے کو کم سے کم کرنے کا مشورہ دیتے ہیں تو متبادل انتظامات کیے جائیں گے‘۔

واضح ہے بادشاہ چارلس کے بیٹے اور تخت کے وارث شہزادہ ولیم  اور ملکہ کیملا سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ چارلس کی غیر موجودگی پر مزید عوامی مصروفیات میں حصہ لیں اور عوام کے اندر ان کی کمی کو پورا کریں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

رائٹرز کی مالک کمپنی نے عالمی پرنٹ کاروبار کے 51 فیصد حصص 50 کروڑ ڈالر میں فروخت کردیے

میٹا پر طبی مسائل کے شکار ملازمین کو برطرفیوں میں نشانہ بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت استعمال کرنے کا الزام

حکومت نے ہمیشہ مذاکرات کا راستہ اپنایا، تشدد ایکشن کمیٹی کی جانب سے کیا گیا، طارق فضل چوہدری

ذہنی تھکن سے پریشان ہیں؟ صدیوں پرانے طریقے آج بھی مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں

اداروں اور شہدا سے متعلق استعمال کیے گئے الفاظ ناقابل قبول، مولانا فضل الرحمان معافی مانگیں : حافظ میاں محمد نعمان

ویڈیو

ایم کیو ایم کے دھڑے آمنے سامنے، شہری سندھ کے حقوق کی تحریک یا اقتدار کی نئی جنگ؟

خوبصورت پنجاب: گوجرانوالہ کے ایمن آباد بازار کی اپ گریڈیشن مکمل

ممنون حسین نے دور صدارت میں اردو، سی پیک کے قومی بیانیے اور کفایت شعاری کو فروغ دیا، ڈاکٹر فاروق عادل

کالم / تجزیہ

پانی کی بڑھتی قلت ایک مربوط منصوبہ بندی کی متقاضی

پاکستان کی اسلامی روح اور خوارج کا جھوٹا پروپیگنڈہ….!!

ہم چین سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟