لیبیا کشتی حادثے میں ملوث گرفتار انسانی اسمگلر کو 20 سال قید، 14 لاکھ جرمانے کی سزا

اتوار 25 فروری 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

لیبیا سے یورپ جانے کی کوشش کے دوران ہونے  والے کشتی حادثے میں ملوث ملزمان میں سے ایک گرفتار انسانی اسمگلر کو  قید و جرمانے کی سزا سنا دی گئی۔

کیس کی سماعت اسپیشل جج سنٹرل-I گوجرانوالا محمد نعیم کی عدالت میں ہوئی۔ اس موقع پر گرفتار ملزم پر فرد جرم عائد کی گئی تاہم  ملزم نے صحت جرم سے انکار کیا۔

 عدالت نے ملزم کے برخلاف جرم ثابت ہونے ہر کیس کا فیصلہ سنا دیا۔ انسانی اسمگلر شہزاد الہٰی کو 20  سال قید  اور  14 لاکھ روپے جرمانےکی سزا سنائی گئی۔ استغاثہ کے مطابق ملزم نے  ہوائی جہاز  کے ذریعے اٹلی بھجوانےکا جھانسہ دیکر 24 لاکھ روپے وصول کیے تاہم بعد میں غیر قانونی طور  پر لیبیا بھجوا دیا۔

ترجمان ایف آئی کے مطابق ملزم کے خلاف سال 2023 کمپوزیٹ سرکل گجرانوالہ میں مقدمہ درج ہوا تھا۔ سپیشل جج سنٹرل-I گجرانوالہ محمد نعیم شیخ نے مقدمے کی سماعت مکمل کرتے ہوئے شہزاد الہی کو 20 سال قید اور 14 لاکھ جرمانے کی سزا سنائی ہے۔

پس منظر

واضح رہے کہ فروری 2023 میں جنوبی اٹلی میں تارکین وطن کی کشتی ڈوبنے سے 59 افراد جاں بحق ہوگئے تھے، مرنے والوں میں 12 بچے بھی شامل تھے۔

ڈوبنے والی کشتی میں سوار افراد کا تعلق پاکستان، افغانستان، صومالیہ اور ایران سے تھا۔ کشتی حادثے کے بعد کچھ افراد کی لاشیں فوری نکال لی گئی تھیں، جبکہ متعدد افراد لاپتا ہوگئے تھے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

نیپال میں تباہی کا انتباہ 5 ماہ قبل کیا گیا، ہمالیائی گلیشیئرز تیزی سے پگھلنے کا انکشاف

وزن نارمل ہونے کے باوجود دل کو خطرہ، کمر کا گھیر اہم علامت قرار

’ہمیں مدد کی ضرورت نہیں‘ سے ’غیرملکی مدد قبول‘، نیپال کا سیلاب پر مؤقف بدل گیا

چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا پاکستان آرڈیننس فیکٹری کا دورہ، دفاعی پیداوار اور خود انحصاری پر بریفنگ

بھارت سندھ طاس معاہدے سے یکطرفہ طور پر نہیں نکل سکتا، پاکستانی سفیر کا بھارتی سفیر کو کرارا جواب

ویڈیو

ٹرمپ کا وینزویلا سے ’تاریخ کا سب سے بڑا تیل معاہدہ‘، 65 ارب بیرل ذخائر پر امریکی کنٹرول اور پیٹرول سستا ہونے کا دعویٰ

پمز چلڈرن اسپتال یورپ و امریکا کے اسپتالوں سے بہتر بنا تھا، کام چلاؤ طریقوں نے یہاں تک پہنچایا، معروف آرکیٹیکٹ ہارون رشید

پمز سانحہ: ’ایک شخص کو ذمہ دار ٹھہرانے کے بجائے پورے ہیلتھ سسٹم کو دیکھنا ہوگا‘، پروفیسر ڈاکٹر خلیق الزمان

کالم / تجزیہ

ہم کیوں لکھتے ہیں؟

کیا امریکا ہر جنگ جیت سکتا ہے؟

جب فیصلے خوف کے تابع ہوجائیں