انوارالحق کاکڑ وزیراعظم ہاؤس سے رخصت

ہفتہ 2 مارچ 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

نگراں وزیراعظم پاکستان انوارالحق کاکڑ نے وزیراعظم ہاؤس خالی کر دیا ہے، جس کے بعد وہ منسٹر انکلیو منتقل ہو گئے ہیں۔

نگراں وزیراعظم انوارالحق کاکڑ کو منسٹر انکلیو میں بنگلہ نمبر 15 الاٹ کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ ملک میں عام انتخابات کے بعد چاروں صوبائی وزرائے اعلیٰ نے حلف اٹھا لیا ہے، جبکہ قومی اسمبلی میں بھی نئے قائد ایوان کا انتخاب کل 4 مارچ کو ہو جائے گا۔

یہ بھی یاد رہے کہ 12 اگست 2023 کو اس وقت کے وزیراعظم شہباز شریف اور اپوزیشن لیڈر راجا ریاض نے انوارالحق کاکڑ کو نگراں وزیراعظم کے لیے نامزد کیا تھا۔

عام طور پر نگراں وزیراعظم کا تقرر 3 ماہ کے لیے ہوتا ہے، اور اس مدت میں وہ انتخابات کرانے کا پابند ہوتا ہے، تاہم شہباز شریف کی اتحادی حکومت نے اپنے آخری ایام میں مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس بلا کر نئی مردم شماری کی منظوری دیدی تھی جس کی وجہ سے کچھ قانونی پیچیدگیاں پیدا ہو گئی تھیں۔

نئی مردم شماری کی منظوری کے بعد ضروری تھا کہ الیکشن کمیشن نئی حلقہ بندیاں کرے، اور ایسی صورت میں الیکشن کمیشن آف پاکستان نے 90 روز میں انتخابات کرانے سے معذوری کا اظہار کیا تھا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

جنوبی ٹوریڈز شہابیوں کی بارش آج عروج پر ہوگی، آسمان پر روشن شعلے دکھائی دینے کا امکان

اولمپک گولڈ میڈلسٹ کے گھر چوری، ڈاکو 1980 کا تاریخی طلائی تمغہ بھی لے اڑے

یوکرین میں امدادی مرکز پر روسی بمباری، ہلاکتیں 40 تک پہنچ گئیں

ٹرمپ کو انتخابی دھچکا، ایران، اسرائیل اور یوکرین سے متعلق امریکی پالیسی میں تبدیلی کا امکان

ٹیکساس میں نئے ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر روکنے کا اعلان، اربوں ڈالر کے منصوبے غیر یقینی کا شکار

ویڈیو

کیا مریم نواز مستقبل کی وزیراعظم ہوں گی؟ پنجاب کے شہریوں کی رائے سامنے آگئی

13 سالہ اقتدار کے باوجود پی ٹی آئی لنڈی کوتل میں کوئی بڑا ترقیاتی منصوبہ شروع نہ کر سکی، شہری مایوس

مہمند میں ایک لاکھ سے زائد بچے اسکولوں سے باہر، پی ٹی آئی 13 سال میں ایک جامعہ بھی نہ بناسکی

کالم / تجزیہ

تحریک انصاف، جے یو آئی اور جماعت اسلامی: ایک سماجی مطالعہ

نئے صوبے کس کی اجارہ داری توڑیں گے؟

مولانا فضل الرّحمان اور خواجہ آصف کا نقد سودا