ٹیلن نیوز کی نئی انتظامیہ کا نشریات دوبارہ شروع کرنے کا اعلان

اتوار 17 مارچ 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سیٹلائٹ چینل ٹیلن نیوز کو نئی انتظامیہ نے خرید لیا ہے اور اعلان کیا ہے کہ معلطل کی گئی نشریات جلد دوبارہ آن ایئر ہو جائیں گی۔

واضح رہے کہ سیٹلائٹ چینل ٹیلن نیوز کچھ عرصہ قبل ہی آن ایئر ہوا تھا مگر پھر اچانک 3 روز قبل نشریات بند کرنے کا اعلان کیا گیا تھا۔

چینل کی بندش پر نوخیز اختر نے کیا وضاحت کی تھی؟

اس کے ساتھ ہی ڈائریکٹر پروگرامز کی ذمہ داریاں نبھانے والے گل نوخیراختر نے کچھ وضاحتیں کی تھیں کہ چینل کو کیوں بند کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہاکہ چونکہ چیئرمین سلیم بریار خدا ترس انسان ہیں اور ہر کسی سے ان کے تعلقات ہیں، جب کسی کے خلاف خبر لگتی تھی تو لوگ ان کو شکوہ کرتے تھے جس پر انہوں نے سوچا کہ کیوں ہم ہر کسی سے ناراضی مول لیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اس کے علاوہ اخراجات روز بروز بڑھ رہے تھے جس کی وجہ سے بالآخر چینل کی بندش کا فیصلہ ہوا۔

دوسری جانب ٹیلن نیوز کی نئی انتظامیہ نے یہ نہیں بتایا کہ چینل کب آن ایئر ہوگا۔

اِدھر اس حوالے سے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطااللہ تارڑ نے نجی ٹی وی سے گفتگو میں کہا تھا کہ میں چینل کی بندش کا نوٹس لے رہا ہوں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

سپریم کورٹ کے فیصلے کیخلاف سماعت کے لیے بڑا بینچ ضروری نہیں، وفاقی آئینی عدالت

سعودی عرب میں نایاب ریم غزال کی جنگلی ماحول میں افزائشِ نسل دوبارہ شروع

پاکستان کی کامیاب سفارتکاری دنیا بھر میں تسلیم، مسئلہ کشمیر ہماری خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے، رانا قاسم نون

معروف اداکارہ محض 35 برس کی عمر میں انتقال کرگئیں

پاکستان اور برطانیہ میں اقتصادی تعاون بڑھانے پر اتفاق، اصلاحات اور علاقائی استحکام پر تفصیلی تبادلۂ خیال

ویڈیو

امریکا اور ایران کے درمیان معاملات طے، بلوچستان کے کاروبار پر اس کے کیا اثرات ہوں گے؟

خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کے بڑھتے اندرونی اختلافات سے پشاور کے عوام پریشان

ایران امریکا فریم ورک معاہدہ کیا ہے اور آئندہ ہونے والے تکنیکی مذاکرات میں کیا طے ہو گا؟

کالم / تجزیہ

امن معاہدہ اور پاکستان

پنجاب کا حق، ایتھے رکھ

سرحدوں سے ماورا یاری: سید بابر علی اور ہرچرن سنگھ