2 مخالف ممالک امریکا اور ایران کے سفیروں کی ایک وقت میں دفترخارجہ آمد

جمعرات 18 اپریل 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکا اور ایران 2 مخالف ممالک کے سفیر ایک ہی وقت میں پاکستان کے دفتر خارجہ پہنچ گئے۔

سفارتی ذرائع کے مطابق امریکی سفیر ڈونلڈ آرمن بلوم اپنے وفد کے ہمراہ دفتر خارجہ پہنچے جبکہ ایرانی سفیر رضا امیری مقدم بھی وفد کے ساتھ دفتر خارجہ آئے۔

دونوں مخالف ممالک کے سفیروں کی دفتر خارجہ میں علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں شیڈول تھیں۔

سفارتی ذرائع کے مطابق امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم نے وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے ملاقات کی۔ ’امریکی سفیر نے پاک امریکا تعلقات، آئی ایم ایف، پاکستان کے ساتھ اقتصادی تعاون سمیت دیگر معاملات پر بات چیت کی‘۔

ذرائع نے بتایا کہ ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے ایڈیشنل سیکریٹری رحیم حیات قریشی سے ملاقات کی ہے۔

رحیم حیات قریشی ایڈیشنل سیکریٹری برائے مغربی ایشیا، یورپ، افغانستان و ترکیہ ہیں۔

ذرائع کے مطابق ایرانی سفیر نے ایرانی صدر ڈاکٹر ابراہیم رئیسی کے دورہ پاکستان سے متعلق معاملات پر تبادلہ خیال کیا۔

حالیہ ایران اسرائیل کشیدگی کے بعد پہلی مرتبہ دونوں ممالک کے سفیر ایک ہی وقت میں دفتر خارجہ موجود رہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف وفاقی آئینی عدالت میں درخواست دائر

پاکستان اور امریکا کی توانائی میں شراکت داری، گرین الائنس سے قابل تجدید توانائی کا فروغ

خطے میں کشیدگی کے تناظر میں خارجہ پالیسی سے متعلق تبصروں میں احتیاط برتنا چاہیے، وفاقی وزرا کی پریس کانفرنس

ملک بھر میں ’کفایت شعاری اور ایندھن بچاؤ‘ اقدامات کے فوری نفاذ کا نوٹیفکیشن جاری

ٹی 20 ورلڈ کپ جیتنے پر بھارتی کرکٹ بورڈ نے ٹیم کے لیے ریکارڈ انعامی رقم کا اعلان کردیا

ویڈیو

لاہور میں ملک کی پہلی سمارٹ روڈ روٹ 47 کی خصوصیات کیا ہیں؟

اسلام میں ذہنی سکون حاصل کرنے کے طریقے

تیل کی قیمتوں میں اضافہ، حالات کنٹرول سے باہر ہونے کا خدشہ، امریکا و اسرائیل کو بھاری نقصان، ٹرمپ کی چیخیں

کالم / تجزیہ

ایران کی موزیک دفاعی پالیسی کیا ہے، اس نے کیا کرشمہ کر دکھایا؟

بوئے خوں آتی ہے امریکا کے افسانے سے

انڈین کرکٹ ٹیم مسلسل ناقابل شکست کیسے بنی؟