کوئٹہ کے شہری سراپا احتجاج کیوں ہیں؟

جمعہ 3 مئی 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بلوچستان کا صوبائی دارالحکومت کوئٹہ ان دنوں احتجاج کی زد میں ہے۔ اساتذہ، پولٹری فارم ایسوسی ایشن اور ٹرانسپورٹر اپنے حقوق کے لیے سراپا احتجاج ہیں۔

جامعہ بلوچستان کے ملازمین کو 3 ماہ کی تنخواہیں نہ ملنے پر اساتذہ تب سے جامعہ بلوچستان کے سامنے احتجاج میں دھرنا دیے بیٹھے ہیں۔

دوسری جانب نئی سیکیورٹی پالیسی کے خلاف کوئٹہ، تفتان، چاغی، نوشکی، نوکنڈی سمیت مکران ڈویژن کے علاقوں کو جانے والے ٹرانسپورٹرز نے بھی سریاب روڈ پر احتجاجی دھرنا دیا ہوا ہے۔

علاوہ ازیں ضلعی انتظامیہ اور پولٹری فارم ایسوسی ایشن کے درمیان مرغیوں کے گوشت کے نرخ پر ٹھن گئی ہے جس کی وجہ سے مرغی کا گوشت شہر میں بلیک میں 1100 روپے میں فروخت کیا جارہا ہے۔

ایسے میں مسلسل احتجاج کے باعث شہریوں کی زنگی بھی اجیرن ہو گئی ہے۔

وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے ایک شہری نے بتایا کہ کوئٹہ پہلے ہی مسائل کا گڑھ تھا لیکن اب مسائل اتنے بڑھ چکے ہیں کہ ہر شخص ہی احتجاج کا راستہ اپنا رہا ہے۔

ٹرانسپورٹرز کے احتجاج کے باعث سڑکیں اکثر اوقات بند رہتی ہیں جس کی وجہ سے شہریوں کو آمد ورفت میں بے پناہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

اس کے علاوہ پولٹری فارم کے احتجاج کے باعث شہر میں مرغی کا گوشت نایاب ہو گیا ہے اور چھوٹے تاجر اس احتجاج کی آڑ میں بلیک میں مرغی فروخت کر رہے ہیں۔

پہلے شہر میں500 سے 600 روپے میں ملنے والی مرغی اب ایک ہزار سے 1100 روپے میں دستیاب ہے۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ ایسی صورتحال میں غریب عوام کہاں جائیں۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت کو عوامی مسائل حل کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے تاکہ عوام کو ریلیف مل سکے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

حنا جاوید قتل کیس ہائی پروفائل قرار، خصوصی کمیٹی قائم

چین کی اہم دریا سے سمندر تک نہر کی تعمیر مکمل، ستمبر میں کھولنے کی تیاری

وفاقی سرکاری اسپتالوں میں فوری فائر سیفٹی آڈٹ کا حکم جاری

’آپ جیکولین سے حسد کرتی تھیں‘، سکیش چندر شیکھر کا نورا فتیحی کے نام خط وائرل

نیپال میں تباہی کا انتباہ 5 ماہ قبل کیا گیا، ہمالیائی گلیشیئرز تیزی سے پگھلنے کا انکشاف

ویڈیو

ٹرمپ کا وینزویلا سے ’تاریخ کا سب سے بڑا تیل معاہدہ‘، 65 ارب بیرل ذخائر پر امریکی کنٹرول اور پیٹرول سستا ہونے کا دعویٰ

پمز چلڈرن اسپتال یورپ و امریکا کے اسپتالوں سے بہتر بنا تھا، کام چلاؤ طریقوں نے یہاں تک پہنچایا، معروف آرکیٹیکٹ ہارون رشید

پمز سانحہ: ’ایک شخص کو ذمہ دار ٹھہرانے کے بجائے پورے ہیلتھ سسٹم کو دیکھنا ہوگا‘، پروفیسر ڈاکٹر خلیق الزمان

کالم / تجزیہ

ہم کیوں لکھتے ہیں؟

کیا امریکا ہر جنگ جیت سکتا ہے؟

جب فیصلے خوف کے تابع ہوجائیں