رفح پر اسرائیل کا زمینی حملہ ناقابل برداشت ہوگا، اقوام متحدہ

منگل 7 مئی 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کہا ہے کہ رفح پر اسرائیل کا زمینی حملہ ناقابل برداشت ہوگا۔ انہوں نے اسرائیل اور حماس پر زور دیا ہے کہ وہ جنگ بندی کے معاہدے تک پہنچنے کے لیے اضافی قدم بڑھائیں۔

نیو یارک میں اطالوی صدر سرجیو میٹاریلا کے ساتھ ملاقات سے قبل انتونیو گوتریس نے کہا کہ یہ ایک ایسا موقع ہے جسے ضائع نہیں کیا جا سکتا اور رفح میں زمینی حملہ اس کے تباہ کن انسانی نتائج اور خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے والے اثرات کی وجہ سے ناقابل برداشت ہوگا۔

واضح رہے کہ حماس نے گزشتہ روز کہا تھا کہ اس نے قطر اور مصر کی ثالثی میں طے پانے والے معاہدے کو قبول کرلیا ہے لیکن اسرائیل کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ اس کے کچھ اہم مطالبات کو پورا نہیں کرتا۔

اسرائیلی کابینہ نے یہ بھی اعلان کیا تھا کہ اسرائیلی فوج ’حماس پر فوجی دباؤ ڈالنے کے لیے‘ رفح پر حملے کو آگے بڑھا رہی ہے۔

ادھر اردن کے وزیر خارجہ ایمن صفادی نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیل رفح پر بمباری کرکے معاہدے کو خطرے میں ڈال رہا ہے۔
یاد رہے کہ 7 اکتوبر 2023 سے جاری جنگ نے غزہ کے رہائشیوں کو تباہ کن نقصان پہنچایا ہے۔ غزہ کی وزارتِ صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ اب تک قریباً 35 ہزار سے زیادہ لوگ شہید کیے جا چکے ہیں جو جنگ سے پہلے کی کل آبادی کا 1.6 فیصد ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

میڈیا طلبہ کی عملی تربیت، وی نیوز میں انٹرن شپ مکمل ہونے پر تقریب

سانحہ پمز کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ وزیراعظم کو پیش، ذمہ داروں کے خلاف فوری کارروائی کی سفارش

’وہ اپنا ذہنی توازن کھو رہے ہیں‘، جھیل کا نام تبدیلی کرنے کے فیصلے پر امریکیوں کی ٹرمپ پر تنقید

’صہیونی لابی سرگرم ہے‘، خواجہ آصف کا اسکائی نیوز کی کوریج پر سخت ردعمل

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی چینی سرمایہ کاروں کو پنجاب میں سرمایہ کاری کی دعوت

ویڈیو

میڈیا طلبہ کی عملی تربیت، وی نیوز میں انٹرن شپ مکمل ہونے پر تقریب

ٹرمپ کا وینزویلا سے ’تاریخ کا سب سے بڑا تیل معاہدہ‘، 65 ارب بیرل ذخائر پر امریکی کنٹرول اور پیٹرول سستا ہونے کا دعویٰ

پمز چلڈرن اسپتال یورپ و امریکا کے اسپتالوں سے بہتر بنا تھا، کام چلاؤ طریقوں نے یہاں تک پہنچایا، معروف آرکیٹیکٹ ہارون رشید

کالم / تجزیہ

ہم کیوں لکھتے ہیں؟

کیا امریکا ہر جنگ جیت سکتا ہے؟

جب فیصلے خوف کے تابع ہوجائیں