سائفر ایک حقیقت، فیصلے میں قومی سلامتی کو ملحوظ خاطر رکھا جاتا تو بہتر ہوتا، بیرسٹر عقیل ملک

پیر 3 جون 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وفاقی حکومت کے ترجمان برائے قانونی امور بیرسٹر عقیل ملک نے کہا ہے کہ سائفر ایک حقیقت ہے جسے جھٹلایا نہیں جاسکتا، عمران خان اور شاہ محمود کی اپیلوں کے معاملے پر فیصلے میں قومی سلامتی کو ملحوظ خاطر رکھا جاتا تو بہتر ہوتا۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بیرسٹر عقیل ملک نے کہاکہ قومی سلامتی کا معاملہ ایک حساس ایشو ہے، پی ٹی آئی نے سائفر کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا۔

انہوں نے کہاکہ قومی سلامتی سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں اور اس پر کمپرومائز نہیں کیا جائے گا۔

بیرسٹر عقیل ملک نے کہاکہ آج کے فیصلے کے بعد ایک راستہ کھل گیا ہے کہ کل کوئی بھی اپنے ذاتی مقاصد کے لیے خفیہ دستاویزات کو پبلک کرسکتا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ فیصلے کو چیلنج کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ پراسیکیوشن نے کرنا ہے۔

انہوں نے کہاکہ ایک مخصوص جماعت کے حق میں فیصلہ آئے تو مٹھائیاں بانٹی جاتی ہیں جبکہ خلاف فیصلہ آنے پر ججوں پر وار بھی کیے جاتے ہیں۔

واضح رہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے 2 رکنی بینچ نے سائفر کیس میں عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو بری کردیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پاک مصر مشترکہ مشق ’تھنڈر II‘ کامیابی سے مکمل، انسداد دہشتگردی تعاون مزید مضبوط

پاکستان کی ایران، امریکا مذاکرات کے دوسرے دور کو کامیاب بنانے کے لئے کوششیں جاری

صوبائی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری کی جعلی ویڈیو وائرل کرنے کا مقدمہ، فلک جاوید کی ضمانت منظور

پنجاب میں شرمپ فارمنگ کے انقلابی منصوبوں پر تیز پیشرفت، بنجر زمینیں معاشی زونز میں تبدیل

یورپ کی طرف سے اسرائیل کو سفارتی دھچکا، پابندیوں کا امکان بڑھ گیا: برطانوی اخبار دی گارڈین

ویڈیو

فیلڈ مارشل نے ایران میں امن کے لیے عظیم کام کیا، شیخ حسن سروری

ضلع مہمند کے عمائدین کا پاک فوج اور حکومت پر اعتماد، امن کوششوں پر خراجِ تحسین

‘پاؤں نہیں مگر ہاتھ تو ہیں نا’، فور ویل بائیکیا چلا کر گھر کی کفالت کرنے والا باہمت نوجوان

کالم / تجزیہ

مطالعہ پاکستان : بنیان مرصوص ایڈیشن

امریکا ایران مذاکرات: کیا ہونے جا رہا ہے؟

ہنساتے ببو برال کی اداس کہانی