فرانس نے سرکاری ملازمین پر ٹک ٹاک سمیت متعدد ایپس کے استعمال پر پابندی عائد کردی

ہفتہ 25 مارچ 2023
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

فرانسیسی حکومت نے ڈیٹا کے تحفظ کے لیے سرکاری ملازمین پر ٹک ٹاک، ٹوئیٹر، انسٹاگرام اور دیگر ایپس کے استعمال پر پابندی لگانے کا اعلان کردیا۔

فرانسیسی وزیر برائے تبدیلی اور پبلک ایڈمنسٹریشن اسٹینسلاس گورینی کا کہنا ہے کہ یہ تمام ایپس ریاست کے زیرِ انتظام اداروں میں استعمال کرنے کے لیے محفوظ نہیں ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے لگائی گئی پابندی کی نگرانی فرانس کی سائبر سیکیورٹی ایجنسی کو سونپی گئی ہے۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹوئیٹر، انسٹاگرام، نیٹ فلکس، کینڈی کرش جیسی گیمنگ ایپس اور ڈیٹنگ ایپس پر پابندی لگائی گئی ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق اگر کوئی بھی سرکاری ملازم کسی ممنوعہ ایپ کو پیشہ ورانہ مقاصد کے لیے استعمال کرنا چاہتا ہے تو ایسا کرنے کے لیے اسے باقاعدہ درخواست دے کر اجازت لینا ہوگی۔

واضح رہے کہ امریکا، برطانیہ اور یورپی یونین نے پہلے سے ہی سرکاری فونز پر ٹک ٹاک استعمال کرنے پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔ مغربی ممالک کا ماننا ہے کہ چینی ٹک ٹاک ایپ اپنے صارفین کا ڈیٹا چینی حکومت کو فراہم کرتا ہے۔

دوسری جانب ٹک ٹاک کمپنی کی اس دعوے کو مسترد کردیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ایران کے ساتھ ڈیل ہو گئی تو ہو سکتا ہے میں اسلام آباد جاؤں، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ

پی ایس ایل 11: اسلام آباد یونائیٹڈ نے کراچی کنگز کو 8 وکٹوں سے شکست دیدی

امریکا کا شام سے فوجی انخلا مکمل، اڈے دمشق کے حوالے

اے آئی تصاویر کے ذریعے انشورنس فراڈ میں اضافہ، جعلی نقصان اور فرضی اشیا دکھائے جانے کا انکشاف

سابق کپتان قومی کرکٹ ٹیم عامر سہیل (ڈمی) کا ’وی ٹو‘ میں دلچسپ انٹرویو

ویڈیو

سابق کپتان قومی کرکٹ ٹیم عامر سہیل (ڈمی) کا ’وی ٹو‘ میں دلچسپ انٹرویو

فیلڈ مارشل کی جدوجہد: ایران میدان جنگ میں داخل، امریکا کے ساتھ اگلا مرحلہ کیا ہوگا؟

اسلام آباد امن مذاکرات نے پاکستان کو عروج بخشا، اگلا مرحلہ جلد منعقد ہوگا، عظمیٰ بخاری

کالم / تجزیہ

ہنساتے ببو برال کی اداس کہانی

جب پاکستان ہے تو کیا غم ہے؟

محبت، کتابیں اور دستوئیفسکی کے ’بیچارے لوگ‘