یورپی ممالک میں سرکاری سطح پر واٹس ایپ کے استعمال پر پابندی کی تیاری، وجہ کیا ہے؟

جمعرات 16 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

یورپ میں سرکاری حکام کے لیے واٹس ایپ کے استعمال کو محدود یا مرحلہ وار ختم کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے جس کی بنیادی وجوہات میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے متعلق پالیسیوں اور سیکیورٹی خدشات کو قرار دیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: واٹس ایپ کا گوگل اور ایپل کو ٹکر دینے کا فیصلہ، صارفین کے لیے نئے پرائیویسی فیچرز متعارف

رپورٹس کے مطابق میٹا پر یورپی یونین کی جانب سے عارضی پابندی کا خطرہ بھی ظاہر کیا گیا ہے کیونکہ کمپنی پر الزام ہے کہ اس کی پالیسیز ممکنہ طور پر دیگر اے آئی کمپنیوں کو واٹس ایپ پر خدمات فراہم کرنے سے روکتی ہیں۔

یورپی کمیشن نے کہا ہے کہ اگر یہ پالیسیز تبدیل نہ کی گئیں تو مارکیٹ کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے اس لیے عارضی اقدامات پر غور کیا جا رہا ہے۔

جرمنی، فرانس، پولینڈ، نیدرلینڈز، لکسمبرگ اور بیلجیئم سمیت کئی ممالک نے حکومتی سطح پر اپنی مخصوص میسجنگ سروسز متعارف کرانی شروع کر دی ہیں تاکہ سرکاری مواصلات کے لیے عام اینکرپٹڈ ایپس پر انحصار کم کیا جا سکے۔

ان کا مؤقف ہے کہ اگرچہ واٹس ایپ اور دیگر ایپس اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن فراہم کرتی ہیں لیکن یہ بڑے پیمانے پر سرکاری آپریشنز کے لیے موزوں نہیں ہیں جہاں رسائی پر سخت کنٹرول اور نگرانی کی ضرورت ہوتی ہے۔

حکام کے مطابق نئی ترجیح ان پلیٹ فارمز کو دی جا رہی ہے جن میں صارفین کی اجازتیں واضح طور پر کنٹرول کی جا سکیں، گروپس تک رسائی محدود ہو اور میٹا ڈیٹا جیسے پیغامات کے اوقات اور کال لاگز کی نگرانی ممکن ہو۔

مزید پڑھیے: واٹس ایپ بزنس پالیسی تنازع: یورپی یونین نے میٹا کے خلاف تحقیقات تیز کر دیں

یورپی حکام نے غیر ملکی مداخلت کے خطرات اور حساس سیاسی مواصلات کی سیکیورٹی پر بھی تشویش ظاہر کی ہے۔ اسی وجہ سے بعض ممالک واٹس ایپ اور سگنل جیسی ایپس کو سرکاری استعمال سے مرحلہ وار ختم کر کے ریاستی کنٹرول والے پلیٹ فارمز متعارف کروا رہے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن ایک مضبوط سکیورٹی معیار ہے لیکن حکومتیں اب ایسے نظام چاہتی ہیں جو ادارہ جاتی ضروریات کے مطابق ہوں نہ کہ صرف عام صارفین کے لیے بنائی گئی ایپس۔

دوسری جانب ڈیجیٹل رائٹس کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ریاستی کنٹرول والی ایپس کی طرف منتقلی سے شفافیت میں کمی آ سکتی ہے اور حساس فیصلوں کی عوامی نگرانی کمزور ہو سکتی ہے۔

رپورٹس کے مطابق یورپی کمیشن بھی سال کے آخر تک اپنا اندرونی میسجنگ سسٹم متعارف کرانے کی تیاری کر رہا ہے، جس سے یہ تبدیلی مزید تیز ہو سکتی ہے۔

یہ اقدام اس وسیع حکمتِ عملی کا حصہ ہے جس کا مقصد امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں پر انحصار کم کرنا اور حساس مواصلاتی نظام پر یورپی کنٹرول مضبوط بنانا ہے۔

بیلجیئم سمیت بعض ممالک پہلے ہی اپنے سرکاری میسجنگ سسٹم متعارف کر چکے ہیں جن میں اعلیٰ حکام کو مخصوص ایپس استعمال کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔

مزید پڑھیں: ٹیکنالوجی کی دنیا میں ہلچل: ایلون مسک اور پاول دوروف کے واٹس ایپ کی سیکیورٹی پر سنگین سوالات

یہ تبدیلی سائبر سکیورٹی خدشات، ہیکنگ کے خطرات اور فشنگ حملوں کے تناظر میں سامنے آئی ہے جبکہ یورپی ممالک اسے ’ڈیجیٹل خودمختاری‘ کی جانب ایک اہم قدم قرار دے رہے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

’ناکام ملک‘ کیوبا نے مدد طلب کی ہے، امریکا اس سے مذاکرات کرے گا، ڈونلڈ ٹرمپ

امریکا ایران مذاکرات میں پاکستان نے تعمیری کردار ادا کیا، چین کی جانب سے حمایت کا اعادہ

اسحاق ڈار اور آسٹریا کی وزیر خارجہ کے درمیان رابطہ، خطے کی بدلتی صورتحال پر تبادلہ خیال

پی ٹی آئی کے روپوش رہنما مراد سعید کا طویل انٹرویو، کس طرح اور کیسے ممکن ہوا؟

قائمہ کمیٹی برائے ہاؤس و لائبریری کا اجلاس، پارلیمنٹ لاجز میں اضافی فیملی سوئٹس پر پیشرفت کا جائزہ

ویڈیو

عبدالستار ایدھی کا مجمسہ دہشتگردی کا شکار‘ مجمسہ ساز کی حکومت سے بحالی کی اپیل

خیبرپختونخوا حکومت بیڈ گورننس کا گڑھ ہے، مانسہرہ کے شہریوں کے شکوے

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایرانی تجاویز مسترد کیے جانے کے بعد مذاکرات کا کتنا امکان ہے؟

کالم / تجزیہ

12 مئی والی ایک لاش بول پڑی

ایک تباہ کن جنگ: جو نہ ہو سکی

آدمی جو موٹر بند کرنا بھول گیا تھا