گوگل نے اپنے مصنوعی ذہانت کے نظام کو مزید وسعت دیتے ہوئے میک او ایس کے لیے ایک علیحدہ جیمنائی ایپ متعارف کرا دی جو ایپل کے کمپیوٹر صارفین کے لیے اے آئی کے استعمال کے طریقے کو تبدیل کرنے کی سمت ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: گوگل ’بیک بٹن ہائی جیکنگ‘ کے خلاف مستعد، ویب سائٹس یہ ہتھکنڈا کیوں استعمال کرتی ہیں؟
نئی ایپ کے ذریعے صارفین کسی بھی وقت اپنے ڈیسک ٹاپ پر آپشن پلس اسپیس شارٹ کٹ استعمال کر کے جیمنائی کو بلا سکتے ہیں جس سے ایک فلوٹنگ چیٹ ونڈو کھل جاتی ہے۔
اس فیچر کی بدولت صارفین کو براؤزر یا مختلف ونڈوز کے درمیان جانے کی ضرورت نہیں رہتی۔
ایپ میں موجود شیئر ونڈو آپشن کے ذریعے اگر سسٹم کی اجازت دی جائے تو جیمنائی کسی بھی کھلی ونڈو جیسے ویب پیج، دستاویز یا ویڈیو کا تجزیہ کر کے مخصوص مدد فراہم کر سکتی ہے۔
مزید پڑھیے: کیا مصنوعی ذہانت کبھی حقیقی شعور حاصل کر سکتی ہے، جواب جاننے کے لیے گوگل کا اہم اقدام
جیمنائی ایپ میں گوگل کے جدید تخلیقی ماڈلز کی مکمل سپورٹ بھی شامل ہے جن میں نینو بنانا شامل ہے جو اعلیٰ معیار کی تصاویر بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے جبکہ ویو ویڈیو جنریشن کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
گوگل کے مطابق میک او ایس ورژن اس بڑے منصوبے کا ابتدائی مرحلہ ہے جس کا مقصد ایک ایسا پروایکٹو ڈیسک ٹاپ اسسٹنٹ تیار کرنا ہے جو صارف کے کام میں براہ راست مدد فراہم کرے۔
یہ پیشرفت گوگل کی جانب سے ایپل اور مائیکروسافٹ کے مربوط اے آئی سسٹمز کے مقابلے میں ایک مضبوط قدم سمجھا جا رہا ہے اور آئندہ مہینوں میں مزید فیچرز شامل کیے جانے کی توقع ہے۔ اس اپ ڈیٹ کے بعد جیمنائی صرف ایک ویب ٹول نہیں رہے گا بلکہ میک او ایس کا ایک اہم حصہ بن جائے گا جو صارف کے کام پر ایک اضافی معاون کے طور پر کام کرے گا۔
مزید پڑھیں: جی میل میں تاریخی تبدیلی، گوگل کا نیا فیچر کیا کچھ بدل سکتا ہے؟
جیمنائی برائے میک مفت ڈاؤن لوڈ اور استعمال کے لیے دستیاب ہے تاہم گوگل نے اس کے لیے مختلف سبسکرپشن پلان بھی متعارف کرائے ہیں جن میں گوگل اے آئی پلس 7.99 ڈالر ماہانہ، گوگل اے آئی پرو 19.99 ڈالر ماہانہ اور گوگل اے آئی الٹرا 24.99 ڈالر ماہانہ شامل ہیں۔













