موسم گرما کی سریلی دھن ’جھینگر‘ کے بارے میں دلچسپ حقائق

ہفتہ 15 جون 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

موسم گرما کی شاموں میں اکثر شام ڈھلتے ہیں جھینگر کی آواز دلوں میں ایک خوش کن اور رومانوی تاثر بیدار کرتی ہے، جھینگر جسے سیکاڈا بھی کا کہا جاتا ہے تقریباً دُنیا کے ہر ملک میں ہی پایا جاتا ہے، لیکن اس کی زیادہ افزائش ایشیائی ریاستوں میں اور امریکا میں زیادہ ہوتی ہے۔

امریکا کی وسط ریاستوں میں موسم گرما تو جیسے جھینگر سے بھر جاتا ہے، یہاں کوئی تو اس کی آواز کو خوفناک اور افسردگی سے تعبیر کرتا ہے تو کوئی اس کی آواز کو موسم گرما کے رومانوی اور خوبصورت گانے سے تعبیر کرتا ہے۔

حال ہی میں امریکی محکمہ زراعت کی ریسرچ انٹومولوجسٹ ریبیکا شمٹ نے جھینگر کی آواز کو شام کی ایک خوبصورت افراتفری کا نام دیا ہے اور کہا ہے کہ ’جھینگر ایک طرح کی سمفونی بناتا ہے۔ریبیکا شمٹ نے جھینگر پر کی گئی تازہ تحقیق میں بتایا ہے کہ یہ سریلی آواز زیادہ تر نر جھینگر نکالتا ہے جب کہ مادہ جھینگر کا اپنا الگ گیت ہوتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ یہ دونوں اپنی خصوصیات اور شکل میں ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں، نارنجی دھاری والے جھینگر کو ڈیسیم کہلاتا ہے جب کہ دوسرے کو کیسینی جھینگر کہتے ہیں، جو چھوٹا ہوتا ہے اور اس کے پیٹ پر نارنجی دھاریاں نہیں ہوتی ہیں۔

ڈوپیج کاؤنٹی فاریسٹ پروسرو کی کیڑوں کی ماہر ماحولیات جینیفر ریڈزوسکی نے ایک انٹرویو میں کہاکہ جس جھینگر کی ہم سب سے زیادہ آواز سن رہے ہوتے ہیں وہ کیسینی جھینگرہے، جس کی آواز ایک لہر کے طور پر اوپر جاتی ہے اور پھر واپس نیچے آ رہی ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ تحقیق کے دوران دیکھا گیا ہے کہ جب بھی ان جھینگر کی آواز ایک لہر کے ساتھ اوپر کو جاتی ہے اور واپس نیچے آتی ہے تو دیکھا گیا ہے کہ درختوں کی چوٹیوں پر ان کا ایک گروپ اڑنا شروع کر دیتا ہے۔ لہٰذا یہ دیکھا گیا ہے کہ یہ آواز ان کے اپنے ساتھیوں کے لیے ہوتی ہے ۔

ان کا کہنا تھا کہ دوسری آواز جسے آپ مسلسل شور مچانے والی گونج سے تعبیر کر سکتے ہیں وہ ڈیسیم جھینگر کی ہوتی ہے، اس کی آواز ہر وقت انفرادی آواز ہوتی ہے جو ’ففارو، ففارو‘ کی طرح ہے۔

شمٹ اور ریڈزوسکی نے بتایا کہ یہ آواز نر جھینگر کے درمیانی حصے پر ایک سفید جھلی سے آتی ہے جس کا نچلا حصہ ایکو چیمبر کی طرح کام کرتا ہے۔ وہ جب اپنے پر پھڑپھڑاتاہے تو اس کے پروں سے ہی یہ سریلی آواز پیدا ہوتی ہے۔

شمٹ کا کہنا ہے کہ اس  جھینگر کے پر طبیعیاتی آلے کے طور پر کام کرتا ہے ۔ لہٰذا آپ اسے ایک چھوٹے ڈھول سے تعبیر کر سکتے ہیں جو کسی ایسے شخص کی طرف سے مارا جا رہا ہے جو اسے اتنی زور سے نہیں مار رہا ہے، لیکن پھر بھی اس کی آواز بہت زیادہ ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ڈیجیٹل دور میں والدین اور بچوں کے تعلق کی نوعیت بدل چکی ہے، روبینہ اشرف

اے آئی کے پھیلاؤ کے دوران نیویارک کا بڑا فیصلہ، بڑے ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر پر ایک سالہ پابندی

اسلام آباد میں شدید گرمی سے متاثرہ پرندوں کی جان بچانے کے لیے امدادی سرگرمیاں تیز

ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر 20 فیصد فیس لینے کا منصوبہ واپس لے لیا، تیل کی قیمتوں میں کچھ کمی

ناروے کے تعلیمی نظام نے ایک شخص کی بچپن سے متعلق سوچ بدل دی، سوشل میڈیا پر بحث چھڑگئی

ویڈیو

ایم کیو ایم کے دھڑے آمنے سامنے، شہری سندھ کے حقوق کی تحریک یا اقتدار کی نئی جنگ؟

خوبصورت پنجاب: گوجرانوالہ کے ایمن آباد بازار کی اپ گریڈیشن مکمل

ممنون حسین نے دور صدارت میں اردو، سی پیک کے قومی بیانیے اور کفایت شعاری کو فروغ دیا، ڈاکٹر فاروق عادل

کالم / تجزیہ

پانی کی بڑھتی قلت ایک مربوط منصوبہ بندی کی متقاضی

پاکستان کی اسلامی روح اور خوارج کا جھوٹا پروپیگنڈہ….!!

ہم چین سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟