کھیل کو نان کرکٹر کے حوالے کرنا زیادتی ہے، رمیز راجہ

منگل 10 جنوری 2023
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان کرکٹ بورڈ کے سابق چیئر مین رمیز راجہ نے کہا ہے کہ پاکستان کرکٹ فکسنگ کے اندھیرے سے گزری، شاید میں واحد تھا جس کا اس طرف دھیان نہیں گیا تھا، اس کی وجہ یہ تھی کہ مجھے تعلیم نے اچھے برے کی پہچان دی.

گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور میں خطاب کرتے ہوئے رمیز راجہ نے کہا کہ پہلے ہی دن کہا تھا کہ جو ٹیم کی پرفارمنس ہوگی وہ میری ہوگی، پورے پاکستان سے سو بہترین کھلاڑیوں کا انتخاب کیا، ان سو بچوں کو بہترین کوچ اور مفت تعلیم کے انتظامات کیے، پاکستان جونیئر لیگ کا انعقاد بی کرایا۔

انہوں نے کہا کہ سرفراز ہمیشہ سے ٹیم کا حصہ رہے ہیں، سولہ لڑکوں کی ٹیم میں فائنل کوچ اور کپتان کرتے ہیں۔

نئی رجیم جو آئین لیکر آئی ہے وہ فرسودہ ہے، نئے آئین کو ہٹا کر فرسودہ آئین نافذ کردیا گیا ہے، کھیل کو نان کرکٹر کے حوالے کرنا زیادتی ہے، پاکستان میں باقی کھیلوں کے ماڈل کو بدلنے کی ضرورت ہے، جب تک اس پراپرٹی میں پیسے نہیں آئیں گے ہاکی اور فٹبال بہتر نہیں ہوسکتے۔

سابق چئیرمین نے کہا کہ کرکٹ ٹیم میں زبردستی کی کچھ چیزیں کرنی کی کوشش کی جارہی ہیں، ٹیم کے موجودہ کمبینیشن نے ورلڈ کپ جیتا، نئی ایڈمسنٹریشن اگر کوئی تبدیلی کرتی ہے تو اس سے نقصان ہوگا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پیٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا، حکومت نے 25 اگست کے لیے نئی قیمتوں کا اعلان کردیا

برطانیہ میں سالمونیلا پھیلنے کا خدشہ، علامات، علاج اور بچاؤ کے طریقے

امریکی یونیورسٹیوں کی غیرملکی طلبہ کو 15 ستمبر سے قبل امریکا واپس پہنچنے کی ہدایت

معاشی تنہائی یا عالمی معیشت میں شمولیت، امریکا کا ایران کو سخت پیغام

اسلام آباد کے قریب ہزار سال پرانے گکھڑ دور کے تاریخی مقامات سیاحوں کے لیے کھول دیے گئے

ویڈیو

فیلڈ مارشل دنیا کو تباہی سے بچانے کے مشن پر، ن لیگ اور پیپلز پارٹی کی راہیں جدا؟ مولانا کا یہودی ایجنٹ سے غیر فطری اتحاد

جیل رولز کسی بھی قیدی کو پرائیویٹ اسپتال سے علاج کی اجازت نہیں دیتے: سینیئر وکلا

بلوچستان کا طالب علم اے آئی کی مدد سے انسانوں کو نئی زندگی فراہم کرے گا؟

کالم / تجزیہ

کیا شہباز حکومت توہینِ عدالت کے ’جرم‘ میں گھر جا سکتی ہے؟

گر آنکھ چھلک پڑے تو …… معاف کرنا

سفید جادو، مثبت اور مددگار