الظواہری کے بعد القاعدہ کا سربراہ کون؟ امریکا نے لا علمی ظاہر کر دی

بدھ 11 جنوری 2023
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

میڈیا میں شائع رپورٹ کے مطابق امریکی حکام نے کہا ہے کہ القائدہ کے سربراہ ایمن الظواہری کی ہلاکت کے بعد ان کی جانشینی ابھی تک واضح نہیں ہوئی۔

واشنگٹن میں ایک تقریب کے دوران القاعدہ کی موجودہ قیادت کے بارے میں پوچھے گئے سوال پر امریکی نیشنل انسداد دہشت گردی سینٹر کی ڈائریکٹر کرسٹین ابی زید نے کہا کہ القاعدہ کے لیے یہ سوال ہے جس کا اس نے ابھی تک جواب نہیں دیا کہ ایمن الظواہری کا جانشین اب کون ہیں۔

خیال رہے کہ گزشتہ برس 2022 میں امریکا نے افغانستان میں القاعدہ کے رہنما ایمن الظواہری کو ایک ڈرون حملے میں ہلاک کرنے کا اعلان کیا تھا۔

واضح رہے کہ ایمن الظواہری کو امریکا نے ڈرون کے ذریعے افغانستان میں ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا تھا جو کہ 2011 میں کالعدم تنظیم کے بانی رکن اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد انتہاپسند گروہ کے لیے سب سے بڑا دھچکا تھا۔

ایمن الظواہری کئی برسوں تک روپوش تھا، تاہم القاعدہ نے تاحال ان کے جانشین کا اعلان نہیں کیا۔

تاہم ماہرین کہا کہنا ہے کہ مصری اسپیشل فورسز کے سابق افسر اور القاعدہ کے اعلیٰ سطحی رکن سیف العدل تنظیم کے سربراہ کے لیے نامزد ہیں، امریکا کی طرف سے سیف العدل کی گرفتاری کے لیے ایک کروڑ ڈالر انعام دینے کا اعلان بھی کر رکھا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پاکستان کی پیش کردہ اسلحہ کنٹرول کی 3 قراردادیں اقوام متحدہ میں منظور، بھارت اور اسرائیل کی مخالفت

کانگریس میں نیو جرسی سے پہلے مسلمان رکن منتخب، ڈاکٹر آدم حموی نے تاریخ رقم کر دی

امیگریشن فراڈ تحقیقات کے باوجود الہان عمر پانچویں بار امریکی کانگریس کی رکن منتخب

غیر قانونی مقیم افغان باشندوں کی بے دخلی: پنجاب میں کریک ڈاؤن تیز، اب تک 28 لاکھ سے زائد شہری واپس روانہ

چیٹ بوٹ کا مشورہ جان لیوا بن سکتا ہے، اے آئی ہارڈویئر ہیک کرنے کا انکشاف

ویڈیو

کیا پی ٹی آئی 28ویں آئینی ترمیم کی حمایت کر سکتی ہے، پشاور کے صحافی کیا کہتے ہیں؟

پاک افغان مذاکرات کی کامیابی طالبان کے دہشتگردوں کے خلاف عملی اقدامات پر منحصر ہے، سابق سفیر ابرار حسین شاہ

ضلع ٹنڈو محمد خان میں بیڈ گورننس کی انتہا

کالم / تجزیہ

تحریک انصاف، جے یو آئی اور جماعت اسلامی: ایک سماجی مطالعہ

نئے صوبے کس کی اجارہ داری توڑیں گے؟

مولانا فضل الرّحمان اور خواجہ آصف کا نقد سودا