الیکشن کمیشن کا مخصوص نشستوں سے متعلق سپریم کورٹ فیصلے کیخلاف نظرثانی درخواست دائر کرنے کا فیصلہ

بدھ 7 اگست 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

الیکشن کمیشن کی جانب سے مخصوص نشستوں سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف نظرثانی درخواست آج سپریم کورٹ میں دائر کی جائے گی۔

ذرائع کے مطابق، الیکشن کمیشن کی قانونی ٹیم نے نظر ثانی اپیل تیار کرلی ہے اور اس حوالے سے الیکشن کمیشن کا اہم اجلاس اجلاس آج طلب کیا گیا ہے، چیف الیکشن کمشنر کے زیرصدارت اجلاس میں نظرثانی اپیل دائر کرنے کی حتمی منظوری دی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں: مخصوص نشستوں سے متعلق حکم ماورائے آئین، ادارے اس پر عملدرآمد کے پابند نہیں، 2 ججز کا اختلافی نوٹ

الیکشن کمیشن ذرائع کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن آزاد ارکان کو 15 دن کا وقت دینے پر اعتراض عائد کرے گا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف تو کیس میں فریق اور ریکارڈ میں ادارہ ہی نہیں تو کیسے مخصوص نشستیں دی جاسکتی ہیں۔

ذرائع الیکشن کمیشن نے مزید کہا کہ پارٹی ٹکٹ جمع نہ کرانے والے امیدوار کیسے تحریک انصاف کے ہوسکتے ہیں، سپریم کورٹ کے فیصلے میں ابہام بھی اپیل کا حصہ ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں: کیا مخصوص نشستوں سے متعلق بل کے بعد سپریم کورٹ کا فیصلہ برقرار رہے گا؟

ذرائع نے بتایا کہ الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف کی دستخط اتھارٹی سے متعلق ابہام دور کرنے کے لیے پہلے ہی سپریم کورٹ سے رجوع کر رکھا ہے جس پر سپریم کورٹ نے تاحال کوئی جواب نہیں دیا۔

واضح رہے کہ گزشتہ ماہ چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں سسپریم کورٹ 13 رکنی بینچ نے سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق درخواست پر محفوظ فیصلہ سنایا تھا۔

سپریم کورٹ کے فل کورٹ بینچ میں شامل 8 ججز نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے حق میں فیصلہ سناتے ہوئے کہا تھا کہ پی ٹی آئی مخصوص نشستوں کی حقدار ہے۔

یہ بھی پڑھیں: مخصوص نشستوں کے معاملے میں اس جماعت کو ریلیف دیا گیا جو درخواست گزارہی نہیں تھی، وفاقی وزیراطلاعات

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں الیکشن کمیشن اور پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے  کو کالعدم قرار دیتے ہوئے مخصوص نشستیں پی ٹی آئی کو دینے کا حکم دیا تھا۔

سپریم کورٹ کے 2 سینیئر ترین ججز جسٹس امین الدین خان اور جسٹس نعیم اختر افغان نے گزشتہ ہفتے سپریم کور ٹ میں مخصوص نشستوں کی الاٹمنٹ سے متعلق سنی اتحاد کونسل کی طرف سے دائر مقدمے پر سپریم کورٹ کے اکثریتی فیصلے میں اپنا تفصیلی اختلافی نوٹ جاری کیا تھا۔

جسٹس امین الدین خان اور جسٹس نعیم اختر افغان نے اپنے تفصیلی اختلافی نوٹ میں کہا تھا کہ پی ٹی آئی کو ریلیف دینے کے لیے آئین کے آرٹیکل 51، آرٹیکل 63 اور آرٹیکل 106 کو معطل کرنا ہوگا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

97 سالہ خاتون نے  ہوائی جہاز کے پروں پر کھڑے ہو کر اپنا ہی عالمی ریکارڈ توڑ دیا

سابق بنگلہ دیشی کپتان شکیب الحسن کی رہائش گاہ پر پیٹرول بموں سے حملہ، سبب کیا بنا؟

خضدار: رشتے سے انکار پر خاندان کے 3 افراد قتل، اسپیکر بلوچستان اسمبلی نے رپورٹ طلب کرلی

3 گنا قیمت، جعلی اور ایکسپائر اشیا، سلمیٰ بٹ کا موٹروے ریسٹ ایریاز پر موجود مارٹس کے خلاف سخت ایکشن

پاکستان اور صومالیہ میں بحری دفاعی تعاون بڑھانے پر اتفاق

ویڈیو

سولر انقلاب کے بعد پاکستان کا اگلا بڑا امتحان، ماہرین کا بیٹری اسٹوریج اور اسمارٹ گرڈز کی اہمیت پر زور

آزاد کشمیر میں اقتدار کی دوڑ تیز، ن لیگ کی سادہ اکثریت، وزارت عظمیٰ کے لیے بڑے نام سامنے آگئے

صومالی وزیرِ دفاع کی نیول اور ایئر ہیڈکوارٹرز آمد، دفاعی شراکت داری، تربیت اور استعدادِ کار بڑھانے پر اتفاق

کالم / تجزیہ

گلا سڑا نظام اور وزیر داخلہ کی تقریر

کشمیر: بین الاقوامی قانون کیا کہتا ہے؟

پہلا دروازہ