مصور صفدر علی کی ’گم شدہ‘ پینٹنگز کی یوٹیوب پر ڈرامائی بازیافت

پیر 16 ستمبر 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

مقبول عام ڈراما سیریل ’کبھی میں، کبھی تم‘ بڑے چاؤ سے دیکھتے ہوئے مصور صفدر علی کی کہانی سے دلچسپی اچانک ایک سین پر اچاٹ ہوکر رہ گئی، اگر وہ یوٹیوب پر ڈرامے کی وہ قسط نہ دیکھ رہے ہوتے تو ان کے لیے اس منظر کو ری وائنڈ کرکے دیکھنا ناممکن ہوجاتا۔

فہد مصطفیٰ اور ہانیہ عامر کی جوڑی کے ساتھ اس ڈرامے کے مذکورہ سین میں صفدر علی کو اپنی زمانہ طالب علمی میں بنائی پینٹنگز کی جھلک نظر آئی جسے متعدد مرتبہ دیکھنے کے بعد انہیں یقین ہوگیا کہ یہ وہی پینتنگز ہیں، جو انہوں نے 2016 میں جامشورو یونیورسٹی کے فائنل ایئر کے طالب علم کی حیثیت سے اپنے تھیسز کے لیے تخلیق کی تھیں۔

 

میڈیا رپورٹس کے مطابق سندھ کے شہر ڈہرکی کے رہائشی مصور صفدر علی ایک روز جب یوٹیوب پر’کبھی میں کبھی تم‘ کی حالیہ قسط دیکھ رہے تھے تو ایک سین میں انہیں اپنی مبینہ طور پر گمشدہ پینٹنگز ڈرامے نطر آئیں، انہیں 7 سال بعد اپنے 2 فن پارے نطر تو آگئے مگر ان کی بازیابی ایک اور دردِ سر بن کر رہ گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:سنگین جرائم میں سزا یافتہ قیدی جو زندگی کے کینوس پر رنگ بکھیر رہے ہیں

ڈرامے کے اس سین میں کردار ’عدیل اور نتاشا‘ کے پس منظر میں صفدر علی کے دونوں فن پارے موجود تھے، مصور صفدر علی کا کہنا ہے کہ وہ اس سین کو بار بار ری وائنڈ کرکے دیکھتے رہے کہ آیا یہ واقعی ان کی پینٹنگز ’ان نوسینٹ فیسز‘ ہی ہیں کہ نہیں۔

صفدر علی نے مذکورہ فن پارے 2017 میں کراچی میں ہونے والی نمائش میں کراچی کے فریئر ہال میں جمع کرائے تھے، اس نمائش کے ضوابط کے مطابق فن پاروں کی فروخت کے بعد رقم مصور کو ادا کردی جاتی ہے اور فروخت نہ ہونے کی صورت میں فن پارے مصور کے حوالے سے کردیے جاتے ہیں۔

مزید پڑھیں:معاصر شعرا کے اشعار پر مبنی پینٹنگز کی منفرد نمائش

اس نمائش سے متعلق صفدر علی کو بتایا گیا کہ ان کے فن پارے فروخت نہیں ہوئے، جس پر مصور نے منتظمین سے مذکورہ فن پاروں کی واپسی کا تقاضا کیا، تاہم ایک ماہ بعد انہیں مطلع کیا گیا کہ ان کی پینٹنگز کھوچکی ہیں۔

’میری طرح دیگر آرٹسٹوں کے فن پارے بھی اسی طرح کھو گئے، میں نے یہی سوچ کر کچھ نہیں کیا کہ جب باقی لوگ کچھ نہیں کر رہے تو میں اکیلا کیا کروں‘۔

صادقین آرٹ گیلری کا موقف

فریئر ہال میں واقع صادقین آرٹ گیلری کی انتظامیہ کے مطابق مذکورہ ڈرامے میں دکھائے گئے فن پارے گیلری میں موجود ہیں اور کوئی مصور انہیں اپنی قرار دیتا ہے تو وہ رسید دکھا کر اسے حاصل کر سکتے ہیں، تاہم یہ واضح نہیں ہو سکا ہے کہ ڈرامے کا پینٹنگز والا سین فریئر ہال کی صادقین آرٹ گیلری میں ہی ریکارڈ ہوا تھا کہ نہیں۔

مزید پڑھیں:سنگین جرائم میں سزا یافتہ قیدی جو زندگی کے کینوس پر رنگ بکھیر رہے ہیں

انتظامیہ کے مطابق نمائش کے بعد آرٹسٹوں سے اپنے فن پارے وصول کرلینے کا کہا جاتا ہے لیکن اکثر مصور بوجوہ رابطہ نہیں کرپاتے، اخباری اشتہار کے ذریعے بھی کہا گیا تھا کہ جن مصوروں نے 2017 میں فن پارے جمع کروائے تھے وہ انہیں رسید دکھا کر وصول کر سکتے ہیں۔

رسید سے متعلق مصور صفدر علی نے میڈیا کو بتایا کہ انہیں یاد بھی نہیں کہ ان کی پینٹنگز کی رسید کہاں ہوگی، وہ کئی دن سے فریئر ہال، یوٹیوب اور نجی ٹی وی اے آر وائی چینل کی انتظامیہ سے رابطے کی کوشش کررہے ہیں، لیکن انہیں ابھی تک کوئی جواب نہیں ملا، تاہم سوشل میڈیا پر ان کی پوسٹ کےبعد یوٹیوب پر مذکورہ ڈرامے کی سترہویں قسط کی ویڈیو کے نیچے متعدد صارفین نے اپنے تبصروں میں پینٹنگز واپس کرنے اور صفدر علی کو معاوضہ ادا کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

فاطمہ ثنا کی عالمی کرکٹ میں دھوم، کینیڈا سپر 60 کی فرنچائز سے معاہدہ

ماہرین آثارِ قدیمہ کا موئن جو دڑو میں نئی تحقیق اور شہر کی فصیل کی نقل تعمیر کرنے کا مطالبہ

ورلڈ کپ کے اہم معرکے سے قبل قومی ہاکی ٹیم کی قیادت میں بڑی تبدیلی، عماد شکیل بٹ کو کپتانی سے ہٹا دیا گیا

بی جے پی رہنما کی بیٹی نے بھارتی نوجوانوں کے احتجاج کی حمایت کی وجہ بتا دی

دوران سفر متلی کی شکایت: ازالے کے لیے آئی فون کی ایک خفیہ سیٹنگ استعمال کرکے دیکھیں

ویڈیو

جسٹن گریوز نے ٹیسٹ کرکٹ میں منفرد عالمی ریکارڈ قائم کرلیا، ’سہولت کار‘ پاکستان ٹیم

پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن پھر آمنے سامنے، آخر اس لڑائی کی وجہ کیا ہے؟

اسحاق ڈار اور کویتی وزیر خارجہ کے درمیان اہم ملاقات، دوطرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال

کالم / تجزیہ

ایک اور میچ، ایک اور شکست، اب تو عادت سی ہے ہم کو!

اے ٹی ایم مشین 

28 جولائی 2010: وہ دن جب میرے قدموں تلے زمین نکل گئی