بھاگنے والی نہیں، مجھے ڈی چوک پر اکیلا چھوڑ دیا گیا، بشریٰ بی بی کا شکوہ

جمعہ 6 دسمبر 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بانی تحریک انصاف عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی نے شکوہ کرتے ہوئے کہا کہ بھاگنے والی عورت نہیں ہوں، سب سے کہا تھا کہ مجھے اکیلا نہیں چھوڑنا لیکن پھر بھی ڈی چوک پر اکیلا چھوڑ دیا گیا تھا، جو لوگ روڈ خالی کرا رہے تھے وہ بھی اس بات کے گواہ ہیں۔

بشریٰ بی بی اسلام آباد دھرنے میں جاں بحق ہونے والے تاج الدین کے گھر چارسدہ پہنچ گئیں، لواحقین کو ایک کروڑ کا چیک دیتے ہوئے کہا کہ پٹھانوں نے ہمیشہ غیرت مندی کا ثبوت دیا ہے، خان کے لیے نکلنے والوں کو کبھی اکیلا نہیں چھوڑ سکتی۔

انہوں نے چارسدہ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ صرف یہ بتانا چاہتی ہیں کہ وہ ڈی چوک میں اکیلی تھیں۔ سمجھ نہیں آرہا تھا لوگ جھوٹ کیوں بول رہے تھے، ڈی چوک پر رات ساڑھے 12بجے وہ گاڑی میں اکیلی تھیں۔

’میں وہاں سے نہیں ہٹی تھی کیونکہ خان نے ہٹنے کا نہیں کہا تھا، جب میں وہاں سے نہیں جارہی تھی تو سیدھی میری گاڑی پر فائرنگ ہوئی، باقی قافلہ بعد میں آیا‘۔

بشریٰ بی بی نے کہا کہ عمران خان نے کہا تھا شہدا کے گھر جانا، ورکرز بانی کے نام پر شہید ہوئے ہیں، شہادتوں کی وجہ سے بہت تکلیف میں تھی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

دفتر خارجہ میں قونصلر خدمات کے لیے شام کی شفٹ کا آغاز، اوقات کار رات 8 بجے تک بڑھا دیے گئے

اسٹیٹ بینک کا شرح سود 11.50 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ، کاروبار اور معیشت کو کیا فائدہ ہوگا؟

پیٹرولیم کی قیمتوں میں ردوبدل، پیٹرول ایک روپے سستا اور ڈیزل 3.37 روپے مہنگا

ایران سے بات چیت جاری ہے، ناکامی کی صورت میں سخت حملہ کردیں گے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ

ڈی ڈبلیو کی پاکستان کے ایٹمی پروگرام پر دستاویزی فلم: صحافت یا پروپیگنڈا؟

ویڈیو

ڈی ڈبلیو کی پاکستان کے ایٹمی پروگرام پر دستاویزی فلم: صحافت یا پروپیگنڈا؟

طالبان مخالف مزاحمت نئے مرحلے میں داخل، مسلح جدوجہد مقامی کارروائیوں سے منظم بغاوت کی جانب گامزن

کراچی کی منور چورنگی پر اب ٹریفک جام نہیں ہوگا، انڈر پاس عوام کے لیے کھول دیا گیا

کالم / تجزیہ

فخر درانی۔ ایک دلیر صحافی

دریاؤں کا مقدمہ اور معرکۂ حق

دو ہم سفر دو ہم عصر: منیر نیازی اور محمد سلیم الرحمان