عراقی سیاستدان اور عالم دین مقتدیٰ الصدر نے اعلان کیا ہے کہ انہوں نے اپنی صدرسٹ تحریک ایک سال کے لیے منجمد کردی ہے کیوں کہ فی الحال اسی میں عافیت ہے۔
عرب میڈیا کے مطابق صدرسٹ تحریک کے رہنما مقتدیٰ الصدر نے جمعہ کو کہا ہے کہ عراق کے لیے مصلح ہونا ایک گناہ ہے اور وہ اپنی تحریک کی اصلاح نہیں کرسکتے۔
مقتدیٰ الصدر نے اس حوالے سے ایک ٹوئٹ بھی کیا جس میں ان کہنا تھا کہ تحریک میں کچھ بدعنوان افراد بھی شامل ہیں لہذا ایسی صورت میں قیادت جاری رکھنا ان کے لیے نقصان کا باعث ہوگا۔ ’میں اس تحریک کو مکمل طور پر منجمد کرنا مفاد میں سمجھتا ہوں اور یہ انجماد ایک سال سے کم کا نہیں ہوگا۔‘
انہوں نے کسی کا نام لیے بغیر کہا کہ ’میں بھی ان سے بیزار ہوں اور وہ بھی مجھ سے بیزار ہیں۔‘
— مقتدى السيد محمد الصدر (@Mu_AlSadr) April 13, 2023
میڈیا کے مطابق مقتدیٰ الصدر کے قریبی ساتھی صالح محمد العراقی نے اعلان کیا ہے کہ مقتدیٰ الصدر نے کوفہ کی مسجد میں اپنا اعتکاف منسوخ کر دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ کرپٹ عناصر کے کرتوت کی وجہ سے کیا گیا ہے جنہیں اللہ معاف نہیں کرے گا۔
مقتدیٰ الصدر نے تحریک کا دفتر اور اپنا ٹوئٹر اکاؤنٹ بھی بند کردیا ہے۔ یاد رہے کہ مقتدی الصدر نے اگست 2022 میں سیاست چھوڑنے کا اعلان کیا تھا۔
مقتدیٰ الصدر گزشتہ دو دہائیوں سے عراق کی ایک اہم عوامی و سیاسی شخصیت رہے ہیں۔ ان کی مہدی آرمی ایک طاقتور ترین ملیشیا کے طور پر ابھری تھی، جس نے سابق حکمران صدام حسین کا تختہ الٹنے کے بعد امریکی اور اتحادی عراقی افواج کے ساتھ لڑائی لڑی تھی۔














