سیلز ٹیکس رولز میں ترمیم، ریٹیلرز کے کاروباری مراکز کو سیل کرنے کے دائرہ کار میں اضافہ

منگل 18 فروری 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے سیلز ٹیکس رولز مجریہ 2006 میں ترمیم کرتے ہوئے ٹیئر ون ریٹیلرز کے کاروباری مراکز کو سیل کرنے کے دائرہ کار میں اضافہ کردیا ہے۔

سیلز ٹیکس رولز 2006 میں ترمیم کا ایس آر او جاری کرتے ہوئے ایف بی آر نے بتایا ہے کہ کاروباری احاطے کو ان صورتوں میں سیل کر دیا جائے گا جہاں ریٹیلرز یعنی خوردہ فروش غیر تصدیق شدہ انوائس جاری کرنے میں ملوث ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ہم غلط جانب جا چکے، ٹیکسز میں کمی کرنی چاہیے، چیئرمین ایف بی آر

نوٹیفکیشن کے مطابق اگر کوئی اسٹور یا کاروباری مرکز ایف بی آر ڈیٹا بیس سے 48 گھنٹوں کے لیے منقطع ہو جائے یا اگلے 24 گھنٹوں میں آف لائن مدت کے انوائس سسٹم میں داخل نہ ہوں یا ڈیوائس آف لائن مدت کے دوران انوائسز کا ریکارڈ نہ رکھنے کی صورت میں بھی متعلقہ اسٹور سیل کردیا جائے گا۔

قواعد میں مزید انکشاف کیا گیا ہے کہ رجسٹرڈ شخص کی جانب سے کی گئی مذکورہ خلاف ورزیوں پر رجسٹرڈ شخص کی کاروباری جگہ کو سیل کیا جاسکتا ہے۔

مزید پڑھیں: ایف بی آر نے افسران کے لیے ایک ہزار سے زیادہ نئی گاڑیاں خریدنے کا عمل روک دیا

ایف بی آر نے انٹیگریٹڈ ٹیئر ون ریٹیلر کے کاروباری احاطے کو ڈی سیل کرنے کے طریقہ کار کو بھی واضح کیا ہے، جہاں کاروباری احاطے کو رول l50ZF-O کے تحت سیل کر دیا گیا ہے اسے ڈی سیل کرنے کے لیے درج ذیل طریقہ کار اپنایا جائے گا۔

کمشنر ان لینڈ ریونیو جس کا اس کیس پر دائرہ اختیار ہے سیلز ٹیکس ایکٹ کے سیکشن 33 کے سیریل نمبر 24 کے تحت فراہم کردہ آرڈر پاس کرکے جرمانہ عائد کرے گا۔

مزید پڑھیں: خردہ فروش ڈیجیٹل لین دین سہولیات مربوط کریں، ایف بی آر

جرمانے کی ادائیگی اور آڈٹ کے دوران پیدا ہونے والی ڈیمانڈ کے 24 گھنٹے کے اندر متعلقہ کمشنر ان لینڈ ریونیو کی طرف سے کاروباری احاطے کی ڈی سیلنگ کا حکم جاری کیا جائے گا۔

کوئی بھی چیز کاروباری احاطے کو سیل کرنے میں رکاوٹ نہیں ڈالے گی بشرطیکہ سافٹ ویئر کی خرابی کو دور کردیا گیا ہو اور سیلز ٹیکس رولز 2006 کے باب XIV-AA کی تمام ضروریات کو مربوط ٹیئر-I ریٹیلرز یعنی خوردہ فروش نے پورا کیا ہو۔

مزید پڑھیں: لاہور کے مقابلے میں کراچی زیادہ ٹیکس کیوں دیتا ہے؟ چیئرمین ایف بی آر نے بتا دیا

رجسٹرڈ شخص حکم کے خلاف اپیل دائر کر سکتا ہے۔ کمشنر ان لینڈ ریونیو کاروباری احاطے کو سیل کرنے کے بعد تین کام کے دنوں کے اندر ایسے خوردہ فروش کی تمام شاخوں میں نصب تمام پوائنٹ آف سیل یعنی پی او ایس مشینوں کے انٹیگریٹر کے ذریعے سافٹ ویئر آڈٹ کو یقینی بنائے گا۔

کمشنر ان لینڈ ریونیو اس مدت کے دوران فروخت کو ریکارڈ کرنا یقینی بنائے گا، کمشنر ان لینڈ ریونیو سافٹ ویئر آڈٹ کے نتیجے میں غیر اعلان شدہ فروخت کی صحیح مقدار کا پتا لگائے گا اور ٹیکس کا تعین کرے گا جس سے بچنے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔

مزید پڑھیں: ایف بی آر افسران کو ہدف میں ناکامی پر 6 ارب کی گاڑیاں دی جارہی ہیں، فیصل واوڈا

ایف بی آر کے مطابق عدم ادائیگی کی صورت میں، ڈی سیلنگ ایک ماہ کے بعد کی جائے گی اور اگر ڈیفالٹ جاری رہا تو 15 دن کے بعد کاروباری جگہ کو دوبارہ سیل کر دیا جائے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی سربراہ کاجا کالاس اسٹریٹجک مذاکرات کے لیے یکم جون کو اسلام آباد پہنچیں گی

یو ایف او فائلز جاری ہونے کے بعد نئی بحث: حقیقت، راز یا محض غلط فہمیاں؟

اگر مختلف چیٹ بوٹس کو انسانوں پر حکومت سونپی جائے تو کیا ہوگا؟ دلچسپ نتائج، گروک نے تباہی مچا دی

ٹیکنالوجی کی دنیا میں ہلچل: اوپن اے آئی کا آئی فون کو ٹکر دینے کے لیے اسمارٹ فون لانے کا فیصلہ

کراچی: ڈکیتی ناکام ہونے پر مبینہ ڈاکو نے خود کا خاتمہ کرلیا، معاملہ شرمندگی کا یا کچھ اور؟

ویڈیو

عرفات منہاس ون ڈے ڈیبیو میں 5 وکٹیں لینے والے پاکستان کے پہلے بولر بن گئے

امریکا کے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے حقیقی دوستی والے تعلقات ہیں، امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ

فلسطینی ریاست کے قیام تک اسرائیل سے تعلقات کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، اسحاق ڈار کا دوٹوک اعلان

کالم / تجزیہ

اچکزئی صاحب کا مسئلہ کیا ہے؟

بڑے شہر نگل جاتے ہیں

عید الاضحی ، بھارتی مسلمان اور ہندو شاؤنزم