وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف نے اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کے بعد قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وہ سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ کے فیصلے کو نہیں مانتے۔
اعتماد کا ووٹ لینے کے بعد قومی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا ہے کہ ایوان نے ایک بار پھر ان پر اعتماد کیا ہے جسے وہ کبھی ٹھیس نہیں پہنچائیں گے۔
وزیراعظم نے کہا کہ ملک آج جس مشکل میں ہے وہ ان کی یا اس ایوان کی وجہ سے نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر انہیں گھر بھجوایا جاتا ہے تو وہ اس کے لیے ہزار بار تیار ہیں لیکن وہ ایوان کا مان کبھی نہیں توڑیں گے۔
شہباز شریف نے جمعرات کو قومی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لینے کا فیصلہ کیا تھا جس میں وہ کامیاب رہے اور 180 اراکین کے ووٹ حاصل کرلیے۔
پی ٹی آئی سے بات چیت کے حوالے سے انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس کا آغاز جمعرات کو ہوجائے گا تاہم انہوں نے واضح کیا کہ مذاکرات کاایجنڈا پورے ملک میں شفاف انتخابات ہو گا۔
ان کا کہنا تھا کہ ساری دنیا جانتی ہے کہ کس طرح آر ٹی ایس کو بند کروایا گیا اور کی تاریخ کا پہلا الیکشن تھا جس میں دیہاتوں کے نتائج پہلے آئے اور شہروں کے نتائج مہینوں التوا کا شکار ہوگئے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ جب گنتی کرانے کے لیے درخواست ڈالی گئی تو ثاقب نثار نے حکم دے دیا کہ اس کے بعد کوئی گنتی نہیں ہو گی۔
وزیر اعظم نے اسمبلی سے مطالبہ کیا کہ وہ الیکشن 2018 میں دھاندلی کی بھرپور تحقیقات کرائے اور دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہونے دیں تاکہ قوم کو پتا لگے کہ کس طرح مینڈیٹ چرایا گیا۔
انہوں نے کہا کہ جب ہماری آئی ایم ایف سے بات چیت بہت تیزی سے آگے بڑھ رہی تھی تو عمران خان کے اشارے پر دو صوبائی وزرائے خزانہ کو یہ کہا گیا کہ نئی وفاقی حکومت کے لیے مشکلات کھڑی کرنے کے لیے آپ کہہ دیں کہ ہم یہ شرائط نہیں مانتے اور سازش کا وہ سلسلہ آج تک جاری ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ سائفر کو آپ اچھے طریقے سے جانتے ہیں، امریکا کو کس طرح نشانہ بنایا گیا کہ اس نے سازش سے گزشتہ حکومت بدلی اور موجودہ حکومت امپورٹیڈ ہے اور کس طرح چین اور روس کے حوالے سے ہمدردی کا اظہار کیا گیا لیکن وہ ہمدردی کا اظہار نہیں تھا بلکہ مگرمچھ کے آنسو تھے۔
وزیراعظم نے بتایا کہ روس سے سستے تیل کا جہاز پاکستان آنے کی تیاری کر رہا ہے اور وہ تیل لے کر جلد پہنچ جائے گا۔
180 اراکین کی حمایت کے ساتھ وزیر اعظم اعتماد کا ووٹ لینے میں کامیاب
جمعرات کو ایوان زیریں کے اجلاس کے دوران وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے وزیر اعظم پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے وزیر اعظم کے لیے اعتماد کا ووٹ لینے کی تحریک پیش کی۔
ووٹوں کی گنتی کا عمل مکمل ہونے کے بعد اسپیکر اسمبلی نے اعلان کیا کہ 180 اراکین نے وزیر اعظم پر اعتماد کے حق میں ووٹ دیا اور قرارداد کو منظور کیا جاتا ہے لہٰذا وزیر اعظم شہباز شریف قومی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لینے میں کامیاب رہے۔
خبر اَپ ڈیٹ کی جا رہی ہے۔













