شہرِ قائد میں بچوں میں ایچ آئی وی (HIV) وائرس کا پھیلاؤ انتہائی تشویشناک صورت اختیار کر گیا ہے۔ ولیکا اسپتال کے بعد اب سندھ ایمپلائز سوشل سیکیورٹی انسٹی ٹیوٹ کے لانڈھی اسپتال میں بھی معصوم بچوں میں ایچ آئی وی کی تصدیق کے متعدد کیسز سامنے آئے ہیں، جس سے طبی حلقوں اور شہریوں میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔
سوشل سیکیورٹی لانڈھی اسپتال میں 15 متاثرہ بچے زیرِ علاج
اسپتال ذرائع کے مطابق سوشل سیکیورٹی اسپتال لانڈھی میں علاج معالجے کے لیے آنے والے 4 ماہ کے شیر خوار بچوں سے لے کر 8 سال تک کی عمر کے 15 بچے ایچ آئی وی وائرس سے متاثر پائے گئے ہیں۔ ان تمام متاثرہ بچوں کا علاج اسی اسپتال میں جاری رہا ہے، اس سنگین معاملے کی کھوج لگانے کی کوشش کی جائے تو اسپتال میں طبی آلات کی صفائی، آلودہ سرنجوں کے دوبارہ استعمال یا غیر محفوظ خون کی منتقلی سے متعلق متعدد خوفناک سوالات جنم لے رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے ملک بھر میں 20 ہزار ایچ آئی وی مریض ’لاپتا‘، 8 لاکھ ڈالر کی طبی امداد غائب
رواں سال کے دوران سامنے آنے والے کیسز کے مطابق جنوری میں 4، فروری میں 2، مارچ میں 1، اپریل میں 5 اور مئی میں 3 کیسز کی تصدیق ہوئی۔
اسپتال انتظامیہ کی پردہ پوشی اور والدین میں خوف
سینئر صحافی نیاز علی کے مطابق یہ ایک انتہائی حساس معاملہ ہونے کے باوجود اسپتال انتظامیہ کی جانب سے اس سنگین بحران کو مبینہ طور پر دبانے کی کوشش کی گئی اور بروقت اعلیٰ حکام یا محکمۂ صحت کو مطلع نہیں کیا گیا۔ ان کے مطابق اگر کراچی میں کسی آزاد ادارے سے تحقیقات کرائی جائیں تو ایچ آئی وی سے متعلق مزید تشویشناک اعداد و شمار سامنے آ سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی کیسز: 37 ملازمین معطل، 10 کو شوکاز نوٹس
ان کا کہنا ہے کہ انتظامیہ کی اس مجرمانہ خاموشی کے باعث خدشہ ہے کہ متاثرہ بچوں کی اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔ دوسری جانب سماجی دباؤ اور بدنامی کے خوف سے متاثرہ بچوں کے والدین میڈیا یا عوامی سطح پر سامنے آنے سے صاف انکار کر رہے ہیں، جس سے صورتِ حال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔
ولیکا اسپتال میں 100 کے قریب بچے متاثر، 9 جاں بحق
اس سے قبل ولیکا سوشل سیکیورٹی اسپتال میں بھی ایچ آئی وی کا خوفناک پھیلاؤ سامنے آ چکا ہے، جہاں تقریباً 100 بچے اس مہلک وائرس کا شکار ہو چکے ہیں، جبکہ بروقت اور مناسب علاج نہ ملنے کے باعث 9 بچے زندگی کی بازی ہار چکے ہیں۔
اس وقت حکومتِ سندھ اور محکمۂ صحت سے یہ مطالبہ زور پکڑتا جا رہا ہے کہ سوشل سیکیورٹی کے تمام اسپتالوں کا فوری فرانزک اور طبی آڈٹ کرایا جائے اور غیر محفوظ بلڈ ٹرانسفیوژن اور طبی لاپرواہی میں ملوث عناصر کے خلاف سخت ترین قانونی کارروائی کی جائے۔











