ایوان صدر میں یتیم بچوں کے لیے افطار ڈنر، آصف زرداری نے کمپیوٹر ٹیب تحفے میں دیے

منگل 25 مارچ 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ایوان صدر اسلام آباد میں پاکستان آرفن کیئر فورم کے زیرِ کفالت یتیم بچوں کے لیے افطار ڈنر کا اہتمام کیا گیا۔

صدر مملکت آصف علی زرداری نے یتیم بچوں میں بطور تحفہ کمپیوٹر ٹیب بھی تقسیم کیے۔

یہ بھی پڑھیں خرطوم خانہ جنگی، یتیم خانے کے 50 بچے بھوک پیاس سے دم توڑگئے

صدر مملکت آصف زرداری نے یتیم بچوں کے لیے افطار ڈنر سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ آپ اپنی تعلیم پر توجہ دیں، آپ سب مجھے اپنے بچوں کی طرح عزیز ہیں۔

انہوں نے کہاکہ آصفہ بھٹو زرداری نے مجھے مشورہ دیا کہ آپ کو کمپیوٹر ٹیب تحفے میں دوں، تمام بچے ان کو تعلیم حاصل کرنے اور سیکھنے کے لیے استعمال کریں۔

افطار ڈنر سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان آرفن کیئر فورم کے چیئرمین ایئر مارشل ریٹائرڈ فاروق حبیب نے کہاکہ ہم ملک بھر میں ایک لاکھ 20 ہزار کے قریب بچوں کی کفالت کررہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں دل چاہتا ہے کہ ہر بچے کے پاس لیپ ٹاپ ہو، وزیر اعظم شہباز شریف

انہوں نے کہاکہ پاکستان میں ایک اندازے کے مطابق 46 لاکھ یتیم بچے ہیں، معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ یتیم اور محروم بچوں کی کفالت کی جائے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

راستوں کی تلاش کے بعد گوگل میپس میں کھانا منگوانے کا فیچر متعارف کرائے جانے کی تیاریاں

پاکستان کو اب معرکہ معیشت جیتنا ہے، احسن اقبال کی امریکا میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کو سرمایہ کاری کی دعوت

موسمی پیش گوئی اور قدرتی آفات سے نمٹنے کی تیاری، محکمہ موسمیات کے لیے 1.6 ارب روپے مختص

عامر گیلانی کی 30ویں سالگرہ، یاد گار لمحات مداحوں کے ساتھ شیئر

آزاد کشمیر انتخابات 2026: امیدواروں کی حتمی فہرست جاری، 45 حلقوں میں 852 امیدوار مدمقابل

ویڈیو

پاکستان اور ترکیہ معاشی شراکت داری کو نئی بلندیوں تک لے جائیں گے، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار

’بھارت نے پانی روکا تو پاکستان بھارت کی لائف لائن بند کر دے گا‘

’مریم کی دستک‘ ایپ کیا ہے اور اس کے ساتھ کتنے ادارے منسلک ہیں؟

کالم / تجزیہ

ریڈیو کا روشن باب: بھائی لال اور اوم پرکاش

بریسٹ کینسر: خوف نہیں، آگاہی کی ضرورت

بھارتی آبی دہشتگردی کا پاکستان کیسے جواب دے؟