اسلام آباد ہائیکورٹ میں ججز ٹرانسفر اور سنیارٹی سے متعلق اہم درخواست دائر

جمعرات 24 اپریل 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اسلام آباد ہائیکورٹ بار کے 4 سابق صدور نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کردی، جس میں اسلام آباد ہائیکورٹ ججز ٹرانسفر کالعدم کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ججزکے بعد اسلام آباد ہائیکورٹ بارکا بھی سپریم کورٹ سے رجوع، جسٹس ڈوگر کی تعیناتی کالعدم قرار دینے کا مطالبہ

اسلام آباد ہائیکورٹ بار کے 4 سابق صدور ریاست آزاد ،عارف چوہدری ،شعیب شاہین اور زاہد محمود راجہ کی جانب سے دائر درخواست میں سپریم کورٹ سے استدعا کی گئی ہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ ججز ٹرانسفر کالعدم قرار دیے جائیں۔

درخواست کے متن کے مطابق استدعا کی گئی ہے کہ ٹرانسفر ہونے والے ججز کی اسلام آباد ہائیکورٹ میں سنیارٹی نئے حلف لینے سے شروع کی جائے۔

درخواست میں اسلام آباد ہائیکورٹ ججز سنیارٹی تبدیل کرنے کے فیصلے کو بھی کالعدم کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:اسلام آباد ہائیکورٹ میں بینچز کی تبدیلی کو لے کر ججوں کے درمیان کیا تنازع چل رہا ہے؟

اسلام آباد ہائیکورٹ بار کے 4 سابق صدور نے درخواست میں  جسٹس سرفراز ڈوگر کے قائمقام بنانے کا نوٹیفیکشن کالعدم قرار کی استدعا بھی کی ہے۔

درخواست وکیل فیصل صدیقی کے ذریعے سپریم کورٹ میں دائر کی گئی ہے

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

صرف کراچی نہیں پورا پاکستان مسائل کا شکار، ملک بھر میں بلدیاتی انتخابات کی ضرورت ہے، مفتاح اسماعیل

وی ایکسکلوسیو: ایران امریکا جنگ بندی میں پاکستان اور قطر کی ثالثی اب بھی کلیدی حیثیت رکھتی ہے، اعزاز چوہدری

بلوچستان: پری ٹیررازم ، ٹیررازم اور پوسٹ ٹیررازم

کوہاٹ میں طوفانی بارش کے باعث مکان کی چھت گرنے سے 9 افراد جاں بحق، 3 زخمی

پاکستان جنوبی افریقہ انڈر 19 ویمنز ٹی 20 سیریز: تمام میچز میں مفت داخلے کا اعلان

ویڈیو

وی ایکسکلوسیو: ایران امریکا جنگ بندی میں پاکستان اور قطر کی ثالثی اب بھی کلیدی حیثیت رکھتی ہے، اعزاز چوہدری

’چاہتا ہوں یہ چیزیں نہ ہوں، پارٹی کارکنان سکون کا سانس لیں‘، وسیم اختر کا خالد مقبول صدیقی اور مصطفیٰ کمال کی لفظی جنگ پر ردعمل

وفاقی کابینہ میں ردوبدل کا فیصلہ، کون سے نئے چہرے شامل ہونے جا رہے ہیں؟

کالم / تجزیہ

بلوچستان: پری ٹیررازم ، ٹیررازم اور پوسٹ ٹیررازم

برداشت کی بھی حد ہوتی ہے

میسی کے گول سے 45 برس بعد کھلنے والا سفارتخانہ