اسرائیل کے مذہبی پیشواؤں نے یہودیوں کو عبادت گاہوں میں نہ جانے کا مشورہ کیوں دیا؟

جمعہ 13 جون 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اسرائیل کے چیف ربی (یہودی مذہبی رہنما) کالمن بیر اور ڈیوڈ یوسف نے عوام سے کہا ہے کہ وہ ملک کی موجودہ صورت حال کے پیشِ نظر فوجی ہدایات پر مکمل عمل کریں اور کسی بھی قسم کے اجتماعات سے گریز کریں، چاہے وہ کھلی جگہ ہوں یا عمارتوں کے اندر۔

ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق ان پیشواؤں اپیل میں درپردہ یہ پیغام بھی ہے کہ لوگ اس ہفتے کے اختتام (شبات) پر عبادت کے لیے عبادت گاہوں (سیناگاگ) نہ جائیں۔

ربائیوں نے کہا کہ عوام پر لازم ہے کہ وہ ہوم فرنٹ کمانڈ کی تمام ہدایات پر ہر جگہ عمل کریں۔

یہ بھی پڑھیں:ایران-اسرائیل تصادم: تنازعات کو طاقت نہیں سفارت سے حل کیا جائے، روس

اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد فوجی حکام نے تعلیمی سرگرمیاں، عوامی اجتماعات اور دفاتر پر پابندی لگا دی ہے، صرف ہنگامی اور ضروری سروسز کو اجازت دی گئی ہے۔ یہ پابندیاں ہفتے 14 جون رات 8 بجے تک جاری رہیں گی۔

اسی دوران سخت گیر مذہبی جماعت ‘شاس’ کی مذہبی قیادت نے بھی عوام سے کہا ہے کہ وہ خدا سے یہ دعا کریں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ایران امریکا معاہدے کے امکانات روشن: پاکستان نے سفارتی کوششیں تیز کردیں اور مثبت اشارے ملے ہیں، مارکو روبیو

گوگل جیمنائی اور کیپ کٹ میں اشتراک، اب ایپ کے اندر ہی ویڈیو ایڈیٹنگ ممکن

سیکیورٹی فورسز کی خیبر پختونخوا میں انٹیلیجنس پر مبنی کارروائیاں، فتنہ الخوارج کے 23 دہشتگرد ہلاک

ہڈیوں جیسے میٹیریلز تیار، مصنوعی کولہے زیادہ مضبوط اور دیرپا بنانے میں کامیابی

مظفرآباد میں تعلیمی ادارے کے پرنسپل پر فائرنگ، مبینہ ملزم گرفتار

ویڈیو

ایران امریکا معاہدے کے امکانات روشن: پاکستان نے سفارتی کوششیں تیز کردیں اور مثبت اشارے ملے ہیں، مارکو روبیو

بڑی شخصیت کی ایران میں انٹری، ایران امریکا ڈیل کا مسودہ تیار، فائنل راؤنڈ پاکستان میں، اسرائیل کو منہ کی کھانا پڑی

پاکستان ٹی وی کا خصوصی دستاویزی پروگرام ’بھارت کی ساکھ داؤ پر، پاکستانی بیانیے کی فتح‘، سچائی کی ایک لازوال کہانی‘

کالم / تجزیہ

عورت اور مرد کی کشمکش

کامیابی کی سب سے بڑی غلط فہمی

سندھ طاس: ثالثی عدالت کے فیصلے کے بعد کیا ہو گا؟