پیغامِ پاکستان کی روشنی میں علما کا متفقہ ضابطۂ اخلاق جاری

جمعرات 26 جون 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اسلامی نظریاتی کونسل کی زیر صدارت مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے جید علماء، محققین اور دانشوروں نے ایک اہم اجلاس میں شرکت کی، جس میں پاکستان کے موجودہ حالات اور بین الاقوامی تناظر کو سامنے رکھتے ہوئے ’پیغامِ پاکستان‘ کی روشنی میں ایک متفقہ ’ضابطۂ اخلاق‘ جاری کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:رویتِ ہلال کمیٹی کا اہم اجلاس آج، محرم کا چاند نظر آنے کا قوی امکان

علماء کرام نے اپنے مشترکہ اعلامیے میں اس بات پر زور دیا کہ آئین پاکستان اور ملکی قوانین میں جو بنیادی انسانی حقوق دیے گئے ہیں، وہ تمام شہریوں کو مذہبی آزادی، جان، مال، عزت اور بنیادی سہولیات کی مکمل ضمانت فراہم کرتے ہیں۔ اس ضابطۂ اخلاق میں واضح کیا گیا ہے کہ اسلامی تعلیمات کے مطابق ہر پاکستانی شہری کو مساوی حقوق حاصل ہیں اور ہر فرد کو اپنے مسلک و مذہب پر عمل کرنے کا حق حاصل ہے، بشرطیکہ وہ دوسروں کے انہی حقوق کا بھی احترام کرے۔

اعلایے کا عکس

اعلامیے میں مذہب کے نام پر ذاتی یا گروہی مفادات کے لیے انتہا پسندی، فرقہ واریت یا دوسروں کے خلاف نفرت انگیزی کو ریاست کے خلاف سازش قرار دیا گیا ہے۔ علماء نے دوٹوک مؤقف اپنایا کہ کسی فرد یا گروہ کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ کسی دوسرے شہری کے خلاف کفر یا واجب القتل کے فتوے دے یا اشتعال انگیزی کرے۔

ضابطۂ اخلاق میں پاکستان کے معاشرے میں پرامن بقائے باہمی، مکالمہ، اور اختلافِ رائے کے احترام کو فروغ دینے پر زور دیا گیا ہے۔ علماء کا کہنا تھا کہ قومی وحدت، ریاستی استحکام اور معاشرتی ہم آہنگی اسی وقت ممکن ہے جب تمام طبقات باہمی احترام کے ساتھ زندگی گزاریں۔

یہ بھی پڑھیں:اسرائیلی مصنوعات کا بائیکاٹ اور کے ایف سی پر حملے، چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل کا ردعمل آگیا

اعلامیے میں ریاستی اداروں کے خلاف جھوٹے پروپیگنڈے اور من گھڑت تحقیقات کی بنیاد پر چلائی جانے والی مہمات کو پہلے ہی ناکام قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ ایسے منفی رویے ریاست کے خلاف انتشار کا سبب بنتے ہیں، جن سے مکمل اجتناب برتنا ہوگا۔

مزید برآں، علماء نے خبردار کیا کہ کوئی بھی فرد یا تنظیم کسی دوسرے فرد یا گروہ کو ان کے نظریات، عقائد یا مذہبی وابستگی کی بنیاد پر واجب القتل قرار دینے یا ان کے خلاف تشدد پر اکسانے کی مجاز نہیں۔ اس عمل کو اسلام اور قانون دونوں کے خلاف قرار دیا گیا۔

اجلاس کے اختتام پر یہ بھی واضح کیا گیا کہ کوئی فرد، گروہ، ادارہ یا جماعت کسی مسجد، مدرسے، تعلیمی ادارے یا منبر و محراب کو ریاستی اداروں یا دوسرے افراد کے خلاف نفرت، اشتعال انگیزی یا شدت پسندی کے لیے استعمال نہیں کرے گا۔ ایسے کسی بھی عمل کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے گی۔

علماء کرام نے اس ضابطۂ اخلاق کو ملک میں امن، رواداری اور بین المذاہب ہم آہنگی کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

غیر قانونی مقیم افغان باشندوں کی بے دخلی: پنجاب میں کریک ڈاؤن تیز، اب تک 28 لاکھ سے زائد شہری واپس روانہ

چیٹ بوٹ کا مشورہ جان لیوا بن سکتا ہے، اے آئی ہارڈویئر ہیک کرنے کا انکشاف

’اگر آج نیوٹن زندہ ہوتا تو ن لیگ میں ہوتا‘، حذیفہ رحمان کے بیان نے نئی بحث چھیڑ دی

بیلٹ پیپر پر میرا نام ہوتا تو زبردست کامیابی ملتی‘، ریپبلکن امیدواروں کی ناکامی پر ٹرمپ کی ٹروتھ سوشل پر پوسٹ

بھارت: گجرات میں جعلی ڈاکٹروں کے خلاف بڑا کریک ڈاؤن، 38 افراد کی نشاندہی

ویڈیو

کیا پی ٹی آئی 28ویں آئینی ترمیم کی حمایت کر سکتی ہے، پشاور کے صحافی کیا کہتے ہیں؟

پاک افغان مذاکرات کی کامیابی طالبان کے دہشتگردوں کے خلاف عملی اقدامات پر منحصر ہے، سابق سفیر ابرار حسین شاہ

ضلع ٹنڈو محمد خان میں بیڈ گورننس کی انتہا

کالم / تجزیہ

تحریک انصاف، جے یو آئی اور جماعت اسلامی: ایک سماجی مطالعہ

نئے صوبے کس کی اجارہ داری توڑیں گے؟

مولانا فضل الرّحمان اور خواجہ آصف کا نقد سودا