اگر 9 مئی کا پلان کامیاب ہوجاتا تو ہم میں سے آج کوئی بھی زندہ نہیں ہوتا، وزیردفاع خواجہ آصف

بدھ 9 جولائی 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی والے 9 مئی کی حقیقت کو ہلکا ظاہر کرنے کی کوشش کرتے ہیں، اگر 9 مئی کا پلان کامیاب ہوجاتا تو ہم میں سے آج کوئی بھی زندہ نہیں ہوتا۔

نجی ٹی وی پروگرام میں اینکر پرسن منیب فاروق کو انٹرویو دیتے ہوئے وزیر دفاع خواجہ آصف نے استفسار کیا  کہ اگر آپ کسی گھر کو جہاں لوگ رہائش پذیر ہوں حملہ کرتے ہوئے لوٹ مار کریں گے تو پھر کیا ہوتا ہے۔ انہوں نے اپنے سوال کا پھر خود ہی جواب بھی دیا۔

’خون خرابہ ہوتا ہے، آگ لگتی ہے، لوٹ مار ہوتی ہے، جس طرح جناح ہاؤس کو انہوں نے کیا، اگر جناح ہاؤس میں مکین ہوتے تو وہاں کیا ہونا تھا، سب کچھ پلان کیا ہوا تھا اور یہ سب اسکرپٹ کا حصہ تھا۔‘

عمران خان کی جناح ہاؤس حملہ سمیت لاہور میں درج 9 مئی کے مقدمات میں گرفتاری ڈال دی گئی

خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ وہ بالکل صحیح بتارہے ہیں، یہ ان کے دل کی آواز نہیں بلکہ وہ اسے منطقی انداز میں ترتیب دے کر بتارہے ہیں۔

’انہوں (پی ٹی آئی والوں) نے گھروں پر حملے کیے، میرے گھر کے نزدیک جی او سی کے گھر ہیں، پی ٹی آئی والے خود بتاتے ہیں کہ تینوں جگہوں پر اٹیک کرنا تھے۔‘

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پاکستان مزید عالمی بانڈز جاری کرنے کی تیاری میں، ایران معاہدے سے معیشت کو بہتری کی امید، وزیر خزانہ

کیا بشریٰ انصاری نے خوبصورتی کے لیے لپ فلرز کروائے؟ اصل حقیقت سامنے آگئی

ایران امریکا معاہدے کے باوجود عالمی معیشت کو چیلنجز درپیش، آئی ایم ایف کا انتباہ

غلافِ کعبہ تبدیل، نئے غلاف میں کیا خاص ہے؟

کیا ٹیلر سوئفٹ اور ٹریوس کیلسی کی شادی کی تاریخ طے ہو گئی؟ نیویارک میئر ظہران ممدانی کا بیان زیرِ بحث

ویڈیو

امریکا اور ایران کے درمیان معاملات طے، بلوچستان کے کاروبار پر اس کے کیا اثرات ہوں گے؟

پی ٹی آئی کے اندرونی اختلافات، نقصان عوام کا کیسے؟

ایران امریکا فریم ورک معاہدہ کیا ہے اور آئندہ ہونے والے تکنیکی مذاکرات میں کیا طے ہو گا؟

کالم / تجزیہ

تاریخ کا رخ موڑنے والا ایک نیا اور سرخرو پاکستان

پنجاب کا حق، ایتھے رکھ

سرحدوں سے ماورا یاری: سید بابر علی اور ہرچرن سنگھ