حمیرا اصغر کیس میں نیا انکشاف، 2 مختلف شناختی کارڈ منظرِ عام پر آگئے

بدھ 16 جولائی 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پولیس ذرائع کے مطابق، حمیرا اصغر دو شناختی کارڈ استعمال کرتی تھیں۔ ایک شناختی کارڈ میں ان کی تاریخِ پیدائش 10 اکتوبر 1983 درج ہے جبکہ دوسرے میں یہی تاریخ 1997 لکھی گئی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ حمیرا اصغر مبینہ طور پر شوبز فیلڈ میں ٹیمپرڈ شناختی کارڈ استعمال کرتی تھیں۔

مزید پڑھیں: اداکارہ حمیرا اصغر کی پراسرار موت، تفتیش میں مزید انکشافات سامنے آگئے

شناختی کارڈز کی نقول تفتیش کا حصہ بنا دی گئی ہیں اور انہیں فرانزک جانچ کے لیے بھجوایا جا رہا ہے۔ پولیس کے مطابق واقعے کی ہر پہلو سے تحقیقات جاری ہیں۔

خیال رہے کہ حمیرا اصغر کی لاش 8 جولائی کو اتحاد کمرشل کے ایک فلیٹ سے اس وقت ملی جب کرائے کی عدم ادائیگی پر مالک مکان کے عدالت پہنچنے پر عدالتی بیلف ان کے گھر پہنچا اور فلیٹ کا دروازہ نہ کھولنے پر دروازہ توڑا گیا تو اداکارہ کی لاش برآمد ہوئی۔

لاش کے پوسٹ مارٹم کی ابتدائی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ لاش ڈی کمپوز کے آخری اسٹیج پر ہے جسے دیکھ کر اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ اداکارہ کی موت تقریباً 8 ماہ پرانی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

’بار بار مذاکرات نہیں کریں گے‘، حافظ نعیم الرحمان کا پیٹرولیم لیوی اور آئی پی پیز کے خاتمے پر اصرار

طالبان حکام کا طرزِ عمل اسلامی تعلیمات سے مطابقت نہیں رکھتا، طالبان وزیر داخلہ کا اعتراف

غزہ امن معاہدے پر عمل نہ ہونا عالمی نظام کی ناکامی کا ثبوت ہے، رجب طیب اردوان

پاکستان میں توانائی کا بڑا بریک تھرو: 20 سال بعد سمندری حدود میں تیل و گیس کی تلاش کا نیا سفر شروع

امریکی سینیٹ انتخاب میں ووٹ تقسیم کرنے کا مبینہ کھیل، ایف بی آئی نے تحقیقات شروع کردیں

ویڈیو

اسموگ کے خاتمے کے لیے لاہور میں اینٹی اسموگ گنز کا دائرہ وسیع، لاک ڈاؤن کا کوئی منصوبہ نہیں

ترقی کے سفر میں لیہ کب شامل ہوگا؟ شہری بڑے ترقیاتی منصوبوں کے منتظر

10 روپے کا نوٹ بند ہونے سے شادیوں کی رونق اور محنت کشوں کی آمدن متاثر ہونے کا خدشہ

کالم / تجزیہ

امریکی الیکشن جو ریفرنڈم بن گیا

تحریک انصاف، جے یو آئی اور جماعت اسلامی: ایک سماجی مطالعہ

نئے صوبے کس کی اجارہ داری توڑیں گے؟