حمیرا اصغر کے خلاف کرایہ داری کیس کی تفصیلات سامنے آگئیں

بدھ 23 جولائی 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

معروف پاکستانی اداکارہ حمیرا اصغر کی ڈیفنس فیز 6  کراچی میں واقع فلیٹ لاش ملنے کے واقعے کے بعد ان کے خلاف جاری کرایہ داری کیس کی تفصیلات منظر عام پر آگئی ہیں۔

دستاویزات کے مطابق اداکارہ اور مکان مالک کے درمیان تنازع کا آغاز 2019 میں ہوا، جب کرائے کی ادائیگی میں تاخیر اور معاہدے کی شرائط کی خلاف ورزی کے معاملات سامنے آئے۔

یہ بھی پڑھیں: حمیرا اصغر نے واٹس ایپ ہیک ہونے کی شکایت درج کرائی، ڈی آئی جی ساؤتھ کا انکشاف

دستاویزات کے مطابق حمیرا اصغر نے مذکورہ فلیٹ 20 دسمبر 2018 کو کرائے پر لیا تھا، جس کے تحت سالانہ کرائے میں 10 فیصد اضافہ طے پایا تھا۔ مکان مالک کا مؤقف ہے کہ اداکارہ نے یہ اضافی رقم کبھی ادا نہیں کی، جس پر پہلی مرتبہ 3 جون 2021 کو فلیٹ خالی کرنے کا نوٹس جاری کیا گیا، جب کہ دوسرا نوٹس 17 جون 2021 کو بھیجا گیا۔

مالک مکان کے مطابق 2019 اور 2020 کے دوران حمیرا نے 40 ہزار روپے واجب الادا چھوڑ دیے، جو 2021 تک بڑھ کر 92 ہزار 400 روپے ہوگئے۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہ رقم مزید بڑھتی گئی، اور 2024 تک واجبات کی مجموعی مالیت 5 لاکھ 35 ہزار 84 روپے تک جاپہنچی۔

یہ بھی پڑھیں: حمیرا اصغر کیس: پولیس کو فلیٹ سے ملنے والے نئے ثبوت کیا ہیں؟

دستاویزات میں یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ حمیرا اصغر نے عدالتی نوٹسز کے باوجود اپنا جواب داخل نہیں کیا، جس پر عدالت نے 21 ستمبر 2023 کو فلیٹ خالی کرنے کا حکم جاری کیا، جب کہ 26 مارچ 2025 کو اس فیصلے پر عملدرآمد کا حکم دیا گیا۔

تاہم 8 جولائی 2025 کو جب مکان مالک فلیٹ خالی کرانے کے لیے وہاں پہنچا، تو اداکارہ حمیرا اصغر کی لاش فلیٹ سے برآمد ہوئی، جس کے بعد واقعے نے نیا رخ اختیار کرلیا۔

یہ بھی پڑھیں: قتل یا طبعی موت؟ حمیرا اصغر کی موت کی گتھیاں سلجھنے لگیں

واقعے کی تحقیقات جاری ہیں، جب کہ کرایہ داری کیس کی یہ تفصیلات اداکارہ کی زندگی کے آخری دنوں میں درپیش قانونی و مالی مشکلات کی عکاسی کرتی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

رائٹرز کی مالک کمپنی نے عالمی پرنٹ کاروبار کے 51 فیصد حصص 50 کروڑ ڈالر میں فروخت کردیے

میٹا پر طبی مسائل کے شکار ملازمین کو برطرفیوں میں نشانہ بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت استعمال کرنے کا الزام

حکومت نے ہمیشہ مذاکرات کا راستہ اپنایا، تشدد ایکشن کمیٹی کی جانب سے کیا گیا، طارق فضل چوہدری

ذہنی تھکن سے پریشان ہیں؟ صدیوں پرانے طریقے آج بھی مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں

اداروں اور شہدا سے متعلق استعمال کیے گئے الفاظ ناقابل قبول، مولانا فضل الرحمان معافی مانگیں : حافظ میاں محمد نعمان

ویڈیو

ایم کیو ایم کے دھڑے آمنے سامنے، شہری سندھ کے حقوق کی تحریک یا اقتدار کی نئی جنگ؟

خوبصورت پنجاب: گوجرانوالہ کے ایمن آباد بازار کی اپ گریڈیشن مکمل

ممنون حسین نے دور صدارت میں اردو، سی پیک کے قومی بیانیے اور کفایت شعاری کو فروغ دیا، ڈاکٹر فاروق عادل

کالم / تجزیہ

پانی کی بڑھتی قلت ایک مربوط منصوبہ بندی کی متقاضی

پاکستان کی اسلامی روح اور خوارج کا جھوٹا پروپیگنڈہ….!!

ہم چین سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟