یو اے ای گولڈن ویزا: 10 سالہ رہائش اور خصوصی فوائد کے ساتھ غیر ملکیوں کے لیے نادر موقع

پیر 18 اگست 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

یو اے ای اپنی محفوظ زندگی، متنوع ثقافتی ماحول اور معیشتی مواقع کے باعث غیر ملکیوں کے لیے پرکشش ملک ہے۔ یہاں مختلف اقسام کے ویزے اور داخلے کے اجازت نامے دستیاب ہیں، جن میں سب سے زیادہ مقبول 10 سالہ گولڈن ویزا ہے۔

گولڈن ویزا ایک طویل المدت رہائشی ویزا ہے جو حاملین کو بغیر اسپانسر یا آجر کے یو اے ای میں رہنے، کام کرنے اور تعلیم حاصل کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ اس ویزا کے حاملین 6 مہینے سے زیادہ ملک سے باہر رہ سکتے ہیں اور ویزا کی تجدید ہر 10 سال بعد ممکن ہے۔

یہ ویزا مختلف شعبوں کے افراد کے لیے دستیاب ہے، جن میں سرمایہ کار، رئیل اسٹیٹ سرمایہ کار، کاروباری افراد، موجد، ثقافت و فنون کے ماہرین، ایگزیکٹو ڈائریکٹرز، کھلاڑی، انجینئرنگ اور سائنس کے ماہرین، نمایاں طلبا، انسانیت کے خدمتگار اور فرنٹ لائن ہیروز شامل ہیں۔

مزید پڑھیں: یو اے ای گولڈن ویزا: طلبا کو کون سے بڑے فائدے مل سکتے ہیں؟

حالیہ برسوں میں دبئی نے شاندار گیمرز، کانٹینٹ کریئیٹرز اور بہترین طلبا کے لیے، جبکہ راس الخیمہ نے شاندار اساتذہ کے لیے گولڈن ویزا متعارف کرایا ہے۔

پیشہ ور افراد کے لیے دبئی میں ویزا کے لیے کم از کم ماہانہ تنخواہ 30 ہزار درہم مقرر ہے۔ سرمایہ کاری کے زمرے میں درخواست دہندہ کو کم از کم 2 ملین درہم کی جائیداد یا سرمایہ کاری فنڈ میں سرمایہ کاری کرنا ہوگی۔

درخواست دہندہ وفاقی ادارہ شناخت و شہریت اور کسٹمز کے ذریعے ویزا کے لیے درخواست دے سکتا ہے۔ ویزا 10 سال کے لیے جاری کیا جاتا ہے اور تجدید کے لیے اہل رہنے کی شرط لازم ہے۔

مزید پڑھیں:  متحدہ عرب امارات: نئی امیگریشن پالیسی، اب گولڈن اور بلیو ویزا کن لوگوں کو ملے گا؟

گولڈن ویزا کے حاملین کے لیے کئی فوائد ہیں، جن میں طویل عرصے تک ویزا کی تجدید، بیرون ملک 6 مہینے سے زیادہ قیام کی اجازت، اور خاندان کے افراد کو اسپانسر کرنے کا حق شامل ہے۔

یو اے ای گولڈن ویزا دیگر رہائشی ویزوں سے مختلف ہے کیونکہ یہ طویل ترین مدت کے لیے رہائش کی اجازت دیتا ہے اور حاملین کو بغیر ملازمت کے ملک میں رہنے کی سہولت فراہم کرتا ہے۔

ویزا کی درخواست مسترد ہونے کی عام وجوہات میں غیر مناسب ملازمت کے عنوانات، قانونی ڈگری کی عدم موجودگی یا شرائط کی عدم مطابقت شامل ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ایرانی حکومت ہوش مندی سے کام لے ورنہ پورا خطہ پہلے سے زیادہ امریکی گرفت میں چلا جائےگا، منصور جعفر

پاکستان اور کشمیر کو دنیا کی کوئی طاقت الگ نہیں کر سکتی، فرزانہ یعقوب

طوفانی بولنگ اور ماجد خان کی دلیری

رائٹرز کی مالک کمپنی نے عالمی پرنٹ کاروبار کے 51 فیصد حصص 50 کروڑ ڈالر میں فروخت کردیے

میٹا پر طبی مسائل کے شکار ملازمین کو برطرفیوں میں نشانہ بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت استعمال کرنے کا الزام

ویڈیو

ایم کیو ایم کے دھڑے آمنے سامنے، شہری سندھ کے حقوق کی تحریک یا اقتدار کی نئی جنگ؟

خوبصورت پنجاب: گوجرانوالہ کے ایمن آباد بازار کی اپ گریڈیشن مکمل

ممنون حسین نے دور صدارت میں اردو، سی پیک کے قومی بیانیے اور کفایت شعاری کو فروغ دیا، ڈاکٹر فاروق عادل

کالم / تجزیہ

طوفانی بولنگ اور ماجد خان کی دلیری

پانی کی بڑھتی قلت ایک مربوط منصوبہ بندی کی متقاضی

پاکستان کی اسلامی روح اور خوارج کا جھوٹا پروپیگنڈہ….!!