اقوام متحدہ کی ہنگامی امدادی ایجنسی نے کہا ہے کہ اگر اسرائیل غزہ شہر پر حملے کا منصوبہ جاری رکھے گا، تو اس کے تباہ کن نتائج سے صورتحال زیادہ سنگین ہو جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں:اسرائیلی فون نے غزہ کو ’وار زون‘ قرار دیدیا، عارضی جنگ بندی معطل
اس خدشے کی شدت ایسے وقت میں ہے جب دو سال پر محیط جنگ کے بعد غذائی قلت نے غزہ کو زخم زدہ کر دیا ہے، اور سینکڑوں دفعات، بشمول بچے اور معمر افراد، نقل مکانی کی حالت میں ہیں۔
لبنان کی عالمی تنبیہ
ہیگ کے OCHA نے خبردار کیا کہ غزہ شہر پر بڑا آپریشن ’خونریز‘ ہو سکتا ہے، کیونکہ وہاں کے باشندے پہلے ہی بھوکے، بیمار، اور نقل مکانی سے اکتا چکے ہیں۔
ادارے نے زور دیا کہ ہنگامی ایندھن، خوراک اور ادویات کی بروقت فراہمی ہونی چاہیے تاکہ شہریوں کی بقا یقینی بنائی جا سکے۔

واضح رہے کہ اسرائیلی فوج نے غزہ شہر کو ایک ’خطرناک جنگی زون‘ قرار دیتے ہوئے انسانی وقفوں کو ختم کر دیا ہے، جس سے امداد رسانی شدید متاثر ہوئی ہے۔
اس پیشرفت نے تقریباً ایک ملین فلسطینیوں کی اجباراً نقل مکانی کا خدشہ بڑھا دیا ہے، جبکہ اقوام متحدہ نے فاقے، انسدادِ بیماریوں کے بحران، اور پھیلتی قحط کی وجہ سے شدید بے امنی کا الرٹ جاری کیا ہے۔














