پاکستان کی قطر میں اسرائیلی بمباری کی شدید مذمت، معصوم شہریوں کے تحفظ پر زور

منگل 9 ستمبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان نے قطر کے دارالحکومت دوحا میں اسرائیلی فوج کی جانب سے کیے گئے بمباری کے واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے، جس میں ایک رہائشی علاقے کو نشانہ بنایا گیا اور معصوم شہریوں کی زندگیوں کو شدید خطرہ لاحق ہوا۔

وزیر اعظم پاکستان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ غیر قانونی اور بزدلانہ حملہ نہ صرف قطر کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی کھلی خلاف ورزی ہے بلکہ خطے میں امن و استحکام کے لیے ایک سنگین خطرہ بھی ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ پاکستان پوری طرح قطر کے امیر، اعلیٰ شان شیخ تمیم بن حمد آل ثانی، شاہی خاندان اور عوام کے ساتھ یکجہتی اور ہمدردی کا اظہار کرتا ہے۔

مزید پڑھیں: اسرائیل کا قطر میں حماس قیادت پر حملہ، سینیئر رہنما خلیل الحیہ شہید

وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان نہ صرف قطر کے ساتھ کھڑا ہے بلکہ فلسطینی عوام کے ساتھ بھی اسرائیلی جارحیت کے خلاف اپنی مضبوط حمایت جاری رکھے گا۔
انہوں نے اس اقدام کو غیر ضروری اور اشتعال انگیز قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ خطے میں امن و سلامتی کے لیے سنگین خطرات پیدا کر سکتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

جنوبی ٹوریڈز شہابیوں کی بارش آج عروج پر ہوگی، آسمان پر روشن شعلے دکھائی دینے کا امکان

اولمپک گولڈ میڈلسٹ کے گھر چوری، ڈاکو 1980 کا تاریخی طلائی تمغہ بھی لے اڑے

یوکرین میں امدادی مرکز پر روسی بمباری، ہلاکتیں 40 تک پہنچ گئیں

ٹرمپ کو انتخابی دھچکا، ایران، اسرائیل اور یوکرین سے متعلق امریکی پالیسی میں تبدیلی کا امکان

ٹیکساس میں نئے ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر روکنے کا اعلان، اربوں ڈالر کے منصوبے غیر یقینی کا شکار

ویڈیو

کیا مریم نواز مستقبل کی وزیراعظم ہوں گی؟ پنجاب کے شہریوں کی رائے سامنے آگئی

13 سالہ اقتدار کے باوجود پی ٹی آئی لنڈی کوتل میں کوئی بڑا ترقیاتی منصوبہ شروع نہ کر سکی، شہری مایوس

مہمند میں ایک لاکھ سے زائد بچے اسکولوں سے باہر، پی ٹی آئی 13 سال میں ایک جامعہ بھی نہ بناسکی

کالم / تجزیہ

تحریک انصاف، جے یو آئی اور جماعت اسلامی: ایک سماجی مطالعہ

نئے صوبے کس کی اجارہ داری توڑیں گے؟

مولانا فضل الرّحمان اور خواجہ آصف کا نقد سودا