امریکا میں سیاسی تشدد کے الزامات، ایف بی آئی کٹہرے میں

جمعرات 18 ستمبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ایف بی آئی کے ڈائریکٹر کاش پٹیل نے بدھ کو ہاؤس جوڈیشری کمیٹی کے سامنے بیان دیتے ہوئے کہا کہ بہت سے نوجوان اور نو عمر افراد آن لائن فورمز کے ذریعے انتہاپسندی کی طرف مائل ہو رہے ہیں، جس کے نتیجے میں نظریاتی بنیادوں پر تشدد آمیز حملے سامنے آ رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ایف بی آئی نے پاکستان میں ایرانی سفیر کو انتہائی مطلوب افراد کی فہرست میں شامل کرلیا

انہوں نے کہا کہ ایف بی آئی سیاسی تشدد کے واقعات کی ’بلا امتیاز‘ تحقیقات کرتی ہے، چاہے حملہ آور یا متاثرہ شخص کسی بھی جماعت سے تعلق رکھتا ہو۔

ڈیموکریٹک رکن کانگریس بیکا بالِنٹ نے ٹرمپ انتظامیہ پر الزام لگایا کہ وہ 10 ستمبر کو قدامت پسند کارکن چارلی کرک کے قتل کو ’بائیں بازو کے تشدد‘ کے طور پر استعمال کر رہی ہے، جبکہ منیسوٹا کی رکن اسمبلی میلیسا ہورٹمین اور ان کے شوہر کے قتل پر زیادہ توجہ نہیں دی گئی۔

بالِنٹ نے کہا کہ ایف بی آئی ریپبلکنز پر حملوں کی زیادہ تحقیقات کرتی ہے، حالانکہ 96 فیصد سیاسی قتل دائیں بازو کے انتہاپسندوں کے ہاتھوں ہوتے ہیں۔

مزید پڑھیں: کورونا وائرس چینی حکومت کے زیر انتظام تجربہ گاہ سے پھیلا، ایف بی آئی کا دعوٰی

کاش پٹیل نے جواب دیا کہ ادارہ تمام کیسز پر یکساں توجہ دیتا ہے اور بتایا کہ ایجنسی مالی وسائل کے بہاؤ کا پیچھا کر رہی ہے تاکہ ان نیٹ ورکس کو بے نقاب کیا جا سکے جو ایسے حملوں کی معاونت کرتے ہیں۔

’کوئی بھی تنہا بھیڑیا نہیں ہے، ہر ایک کو کسی نہ کسی طور پر مدد ملتی ہے۔‘

مزید پڑھیں: ایف بی آئی کا شمالی کورین ہیکرز پر ڈیڑھ ارب ڈالر کے ورچوئل اثاثے چرانے کا الزام

بحث کے دوران ریپبلکن رکن ویسلی ہنٹ نے دعویٰ کیا کہ بائیں بازو کے کارکن بھی تشدد کی طرف بڑھ رہے ہیں اور قدامت پسندوں کو ’فاشسٹ‘ اور ’نسل پرست‘ جیسے القابات سے پکارنے کے باعث مزید انتہاپسندی پھیل رہی ہے۔

کاش پٹیل نے یہ بھی کہا کہ آن لائن اور گیمنگ پلیٹ فارمز کی بہتات نوجوانوں کو انتہاپسندی کی طرف لے جا رہی ہے، اکثر والدین کو اس کا علم بھی نہیں ہوتا۔

مزید پڑھیں: ڈونلڈ ٹرمپ بھارتیوں کے ساتھ اپنے سمدھیوں کو بھی بڑے عہدوں سے نوازنے لگے

کانگریس اراکین نے ایف بی آئی کے سربراہ سے جیفری ایپسٹین کیس، حکومتی پالیسیوں، ایف بی آئی کے اندرونی معاملات اور ان کی اہلیت پر بھی سخت سوالات کیے۔

ڈیموکریٹک ارکان نے ان پر جانبداری اور ایف بی آئی کو کمزور کرنے کا الزام لگایا جبکہ ریپبلکن اراکین نے ان کا دفاع کیا اور ان کے تجربے کو سراہا۔

اس 5 گھنٹے طویل سماعت میں ایوان کے دونوں جماعتوں کے اراکین نے شدید سیاسی تناؤ کے ماحول میں سوالات کیے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

قومی سلامتی کمیٹی کا بھارت کو سخت پیغام، کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے گا

سکھر میں ٹوپی کس نے اتاری؟ گورنر سندھ نہال ہاشمی کی وائرل ویڈیو پرنئی بحث چھڑ گئی

بھارتی وزیر دفاع جرمن آبدوز میں پھنس گئے، تنگ ہیچ سے گزرنے کی ویڈیو وائرل

کینسر کی مریضہ نے لاعلاج قرار دیے جانے کے 5 دن بعد شادی کر لی

استعمال شدہ موبائل فونز پر ڈیوٹیز میں 175 فیصد تک اضافہ، 62 ماڈلز مہنگے

ویڈیو

قومی سلامتی کمیٹی کا بھارت کو سخت پیغام، کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے گا

کرکٹ اسٹیڈیم میں اسمبلی اجلاس، پشاور کے شہری کیاکہتے ہیں؟

پاکستان کی کوششوں سے امن قائم ہو گا، اسلام آباد کے شہریوں کی رائے

کالم / تجزیہ

عالمی دن پر کتاب سے مکالمہ

جنگ اور جنگ بندی کے مابین مرتب کیے 9 نتائج

لاہور پر ’مغل اعظم‘ کی یلغار