متحدہ عرب امارات میں رئیل اسٹیٹ بروکرز کمیشن کی بنیاد پر لاکھوں درہم کما رہے ہیں، بعض ایجنٹس ایک ہی دن میں اپنی 2 سال کی تنخواہ کے برابر رقم حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔
مزید پڑھیں: متحدہ عرب امارات: نئی امیگریشن پالیسی، اب گولڈن اور بلیو ویزا کن لوگوں کو ملے گا؟
خلیج ٹائمز کے مطابق سابق ایئر ہوسٹس تمارا کورٹان نے وبا کے دوران ملازمت ختم ہونے کے بعد رئیل اسٹیٹ کا رخ کیا اور ایک ہی لانچ ایونٹ میں 3 خریداروں کو دو، 2 فلیٹس دلوا کر اپنی پچھلی نوکری کی 2 سالہ آمدن ایک دن میں حاصل کی۔
مزید پڑھیں: بحرین کا گولڈن ویزا کن پاکستانیوں کے لیے فائدہ مند ہو سکتا ہے؟
ماہرین کے مطابق دبئی اور ابوظہبی میں نئے منصوبے، گولڈن ویزا اسکیم اور سرمایہ کاری کے بڑھتے رجحان نے بروکرز کے لیے پرکشش مواقع پیدا کیے ہیں، تاہم یہ پیشہ غیر یقینی آمدن اور سخت مسابقت کی وجہ سے خطرات سے بھی خالی نہیں۔














