ایلون مسک کا نام ایپسٹن جنسی زیادتی فائلز میں، الزامات کی تردید

اتوار 28 ستمبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ارب پتی ایلون مسک نے اتوار کے روز واضح کیا کہ ملزم جنسی مجرم جیفری ایپسٹن نے انہیں امریکی ورجن جزائر جانے کی دعوت دی، جہاں متعدد خواتین نے ایپسٹن کے ساتھ زیادتی کے الزامات لگائے تھے، لیکن مسک نے انکار کر دیا۔

یہ بھی پڑھیں:ایلون مسک کے والد پر بچوں سے جنسی زیادتی کے الزامات، نیویارک ٹائمز کی رپورٹ

یہ بیان اس کے ایک دن بعد سامنے آیا جب ایپسٹن کے فائلز میں مسک کا نام بھی شامل کیا گیا، جس میں دیگر معروف شخصیات جیسے بل گیٹس اور ڈونلڈ ٹرمپ کے حلیف اسٹیو بینن بھی شامل تھے۔

جنسی مجرم جیفری ایپسٹن کا جزیرہ

مسک نے ایک پوسٹ میں کہا کہ ’ایپسٹن نے مجھے اپنے جزیرے پر جانے کی دعوت دی اور میں نے انکار کر دیا، پھر بھی میرا نام شامل کیا گیا۔ جو لوگ جھوٹی کہانی پھیلا رہے ہیں، وہ مکمل حقارت کے مستحق ہیں‘۔

6 صفحات پر مشتمل دستاویز میں دسمبر 2014 میں مسک کے ایپسٹن کے جزیرے جانے کی ممکنہ منصوبہ بندی کا ذکر تھا، جس کے ساتھ یہ نوٹ بھی تھا ’کیا یہ ابھی بھی ہو رہا ہے؟‘ تاہم یہ واضح نہیں کہ مسک نے واقعی یہ سفر کیا یا نہیں۔

مسک نے فوری طور پر الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ جھوٹ ہے‘۔

دستاویز میں اس کے علاوہ 16 فروری 2019 کو اسٹیو بینن کے ساتھ اور 5 دسمبر 2014 کو بل گیٹس کے ساتھ ممکنہ ناشتے کا ذکر بھی شامل تھا۔

ڈیموکریٹک قانون سازوں نے امریکی محکمہ انصاف سے ایپسٹن فائلز جاری کرنے کا مطالبہ کیا ہے، جسے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے مسترد کیا تھا۔

مسک نے حالیہ برسوں میں ٹرمپ انتظامیہ پر بھی تنقید کی ہے اور دعویٰ کیا تھا کہ ایپسٹن فائلز میں ٹرمپ کا نام بھی شامل ہے، جس کی وجہ سے دستاویزات جاری نہیں کی جا رہی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp