فرحان غنی کے خلاف مقدمہ دہشتگردی کا نہیں بنتا، تفتیشی افسر متعلقہ عدالت سے رجوع کریں، فیصلہ جاری

منگل 30 ستمبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

انسداد دہشتگردی کی منتظم عدالت کے روبرو ٹاؤن چیئرمین فرحان غنی و دیگر کے خلاف سرکاری ملازمین پر تشدد کےکیس کی سماعت ہوئی جس نے تفتیشی افسر کی درخواست پر تحریری حکم نامہ جاری کردیا۔

یہ بھی پڑھیں: تشدد اور دھمکانے کے کیس میں نامزد فرحان غنی کو عمرہ پر جانے کی اجازت مل گئی

حکم نامے کے مطابق  تفتیشی افسر کی جانب سے زیر دفعہ 497 بی ٹو کے تحت درخواست دائر کی گئی، تفتیشی افسر کے مطابق گواہان کا بیان شکایت کنندہ کے بیان کے متضاد ہیں۔ تفتیشی افسر نے ملزمان کو دفعہ 497 بی ٹو کے تحت ضمانت پر رہا کیا۔

عدالتی حکم نامے کے مطابق عدالت نے گزشتہ سماعت پر گواہان کو پیش کرنے کا حکم دیا تھا۔ تفتیشی افسر نے بتایا کہ گواہان دستیاب نہیں یا نہیں مل سکے، مدعی کے وکیل بھی دوران سماعت غیر حاضر رہے، فریقین نے متفقہ طور پر قرار دیا کہ انسداد دہشتگردی کی دفعات کا عنصر نہیں ملا۔

عدالتی حکم نامے کے مطابق وکلا کا کہنا ہے کہ تنازع کے نتیجے میں عوام میں عدم تحفظ کا احساس پیدا نہیں ہوا، وکلا کے مطابق الزامات کے تحت انسداد دہشتگردی قوانین کے تحت جرم نہیں بنتا اور تفتیشی افسر نے 29 اگست کو مدعی مقدمہ کا دفعہ 162 کا بیان رکارڈ کیا۔
وکلا نے کہا کہ کیس کے گواہان نے اپنے بیان میں ملزمان کے نام نہیں بتائے، گواہان کے بیان انسداد دہشتگردی قوانین کے بنیادی اجزاکو سپورٹ نہیں کرتے اور عینی شاہدین نےبیان میں مدعی مقدمہ کےاسلحہ کے استعمال کےدعوےکی حمایت نہیں کی۔

انہوں نے مزید کہا کہ استغاثا کے گواہان کے مطابق ملزمان نے کام میں رکاوٹ ڈالی۔

مزید پڑھیے: چیئرمین چنیسر ٹاؤن فرحان غنی کے جسمانی ریمانڈ میں 3 روز کی توسیع

تحریری حکم نامے کے مطابق استغاثا کے گواہان نے بیان میں جائے وقوعہ پر فائرنگ کا نہیں بتایا، مدعی مقدمہ اور استغاثاکے گواہان کے بیانات پر یہ مقدمہ دہشتگردی کا نہیں بنتا، تفتیشی افسر معمول کے مطابق متعلقہ عدالت سے رجوع کرسکتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

رائٹرز کی مالک کمپنی نے عالمی پرنٹ کاروبار کے 51 فیصد حصص 50 کروڑ ڈالر میں فروخت کردیے

میٹا پر طبی مسائل کے شکار ملازمین کو برطرفیوں میں نشانہ بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت استعمال کرنے کا الزام

حکومت نے ہمیشہ مذاکرات کا راستہ اپنایا، تشدد ایکشن کمیٹی کی جانب سے کیا گیا، طارق فضل چوہدری

ذہنی تھکن سے پریشان ہیں؟ صدیوں پرانے طریقے آج بھی مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں

اداروں اور شہدا سے متعلق استعمال کیے گئے الفاظ ناقابل قبول، مولانا فضل الرحمان معافی مانگیں : حافظ میاں محمد نعمان

ویڈیو

ایم کیو ایم کے دھڑے آمنے سامنے، شہری سندھ کے حقوق کی تحریک یا اقتدار کی نئی جنگ؟

خوبصورت پنجاب: گوجرانوالہ کے ایمن آباد بازار کی اپ گریڈیشن مکمل

ممنون حسین نے دور صدارت میں اردو، سی پیک کے قومی بیانیے اور کفایت شعاری کو فروغ دیا، ڈاکٹر فاروق عادل

کالم / تجزیہ

پانی کی بڑھتی قلت ایک مربوط منصوبہ بندی کی متقاضی

پاکستان کی اسلامی روح اور خوارج کا جھوٹا پروپیگنڈہ….!!

ہم چین سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟