میٹا نے واٹس ایپ پر جنرل پرپز چیٹ بوٹس پر مکمل پابندی عائد کردی

اتوار 19 اکتوبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

میٹا نے واٹس ایپ پر پرائیویسی پالیسی میں بڑی تبدیلی کرتے ہوئے عمومی نوعیت کے چیٹ بوٹس کو پلیٹ فارم سے ہٹانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ یہ پالیسی 15 جنوری 2026 سے نافذ العمل ہوگی۔

نئی پالیسی کے تحت مصنوعی ذہانت فراہم کرنے والی کمپنیاں، جیسے پرپلکسی، لوزیا، اوپن اے آئی اور پوک، واٹس ایپ کی بزنس سلوشنز کے ذریعے اپنے چیٹ بوٹس یا جنریٹیو مصنوعی ذہانت فیچرز کو بطور بنیادی سروس استعمال نہیں کرسکیں گی۔

یہ بھی پڑھیں: میٹا کے ’ٹین اکاؤنٹس‘ کا دائرہ کار فیس بک اور میسنجر تک وسیع، پاکستان میں بھی آغاز

میٹا نے اس حوالے سے وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ یہ پابندی ان کاروباری اداروں پر لاگو نہیں ہوگی جو کسٹمر سروس کے لیے مصنوعی ذہانت استعمال کرتے ہیں، جیسے ریٹیلرز، ایئر لائنز یا ٹریول ایجنٹس۔

کمپنی کے مطابق واٹس ایپ بزنس اے پی آئی کا مقصد کاروباروں کو صارفین کو سپورٹ فراہم کرنے اور اپ ڈیٹس بھیجنے میں مدد دینا ہے، نہ کہ مکمل مصنوعی ذہانت چیٹ سروسز چلانا۔

ٹیک ماہرین کے مطابق گزشتہ ایک سال میں جنرل پرپز چیٹ بوٹس کے استعمال میں تیزی سے اضافے نے واٹس ایپ کے سسٹم پر بوجھ بڑھا دیا تھا، کیونکہ ان سے پیغامات کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ اور ایک مختلف سپورٹ ڈھانچے کی ضرورت پیدا ہو گئی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: میٹا نے رے بین اسمارٹ چشمے لانچ کردیے، خصوصیات کیا ہیں؟

میٹا کے مطابق یہ اقدام بزنس اے پی آئی کے ارادے کے مطابق ڈیزائن اور حکمتِ عملی پر مبنی فوکس کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے۔ اس پالیسی کے نفاذ کے بعد تیسرے فریق کے مصنوعی ذہانت اسسٹنٹس واٹس ایپ پر کام نہیں کر سکیں گے اور صرف میٹا اے آئی ہی پلیٹ فارم پر ضم شدہ چیٹ ایجنٹ کے طور پر دستیاب ہوگا۔

ٹیکنالوجی تجزیہ کاروں کے مطابق اس فیصلے کے پیچھے مالی مفادات بھی کارفرما ہو سکتے ہیں۔ واٹس ایپ کی بزنس اے پی آئی کمپنی کے لیے آمدن کا ایک اہم ذریعہ ہے جو پیغام کی قسم کے لحاظ سے فیس وصول کرتی ہے۔ چ

ونکہ مصنوعی ذہانت چیٹ بوٹس اس ریونیو ماڈل میں فِٹ نہیں بیٹھتے تھے، اس لیے میٹا کو ان سے خاطر خواہ مالی فائدہ حاصل نہیں ہو رہا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: واٹس ایپ نے صارفین کو پروفائل میں فیس بک آئی ڈی کا لنک شامل کرنے کی سہولت دیدی

واضح رہے کہ میٹا کے سی ای او مارک زکربرگ اس سے قبل بزنس میسجنگ کو کمپنی کی آمدن کا اگلا بڑا ستون قرار دے چکے ہیں۔ نئی پالیسی کے بعد واٹس ایپ کا مقصد اپنی سروسز کو صرف کاروباری اور صارفین کے درمیان رابطے تک محدود رکھنا ہے، تاکہ پلیٹ فارم کی سمت اور تجارتی ترجیحات واضح رہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

شمالی پہاڑی علاقوں میں بارشوں کی پیشگوئی، گلیشیئر پگھلنے اور سیلاب کا خدشہ، متعدد سڑکیں بند

امریکا کی پاکستان میں توانائی، معدنیات اور انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری میں دلچسپی

کوکین کوئین انمول عرف پنکی نے جب جیل میں من پسند لباس پہننے کی خواہش ظاہر کی تو کیا ہوا؟

ہنر مند نوجوان ہی پاکستان کی پائیدار ترقی کی ضمانت ہیں، وزیراعظم شہباز شریف

انتخابات تک آزاد کشمیر میں رہوں گا، احتجاج ختم کرکے مذاکرات کیے جائیں، بلاول بھٹو

ویڈیو

ایم کیو ایم کے دھڑے آمنے سامنے، شہری سندھ کے حقوق کی تحریک یا اقتدار کی نئی جنگ؟

خوبصورت پنجاب: گوجرانوالہ کے ایمن آباد بازار کی اپ گریڈیشن مکمل

ممنون حسین نے دور صدارت میں اردو، سی پیک کے قومی بیانیے اور کفایت شعاری کو فروغ دیا، ڈاکٹر فاروق عادل

کالم / تجزیہ

طوفانی بولنگ اور ماجد خان کی دلیری

پانی کی بڑھتی قلت ایک مربوط منصوبہ بندی کی متقاضی

پاکستان کی اسلامی روح اور خوارج کا جھوٹا پروپیگنڈہ….!!