افغانستان سے مذاکرات میں خیبر پختونخوا کی نمائندگی ناگزیر ہے، بیرسٹر ڈاکٹر محمد علی سیف

منگل 28 اکتوبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

خیبر پختونخوا کے سابق مشیرِ اطلاعات اور رہنما بیرسٹر ڈاکٹر محمد علی سیف نے کہا ہے کہ دوحا اور استنبول مذاکرات میں خیبر پختونخوا کی نمائندگی نہ ہونا انتہائی قابلِ افسوس اور وفاقی حکومت کی بدنیتی کا مظہر ہے۔

انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا دہشتگردی کے خلاف فرنٹ لائن صوبہ ہے اور افغانستان کے ساتھ جاری کشیدگی کا سب سے زیادہ اثر اور نقصان اسی صوبے کو برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔

مزید پڑھیں: استنبول مذاکرات کا تیسرا دور 18 گھنٹے جاری رہنے کے بعد ناکام، افغان وفد کا مؤقف بار بار تبدیل، بہتر نتائج کے لیے کوششیں جاری

ڈاکٹر سیف کے مطابق، جعلی وفاقی حکومت قومی سلامتی جیسے حساس مسئلے پر بھی سیاست سے باز نہیں آ رہی۔ خیبر پختونخوا اور افغانستان کے عوام گہرے مذہبی، ثقافتی اور سماجی رشتوں میں جڑے ہوئے ہیں، اس لیے افغانستان سے متعلق کسی بھی پیشرفت کے براہِ راست اثرات اسی صوبے پر پڑتے ہیں۔

انہوں نے زور دیا کہ افغانستان سے امن مذاکرات میں خیبر پختونخوا کی نمائندگی ناگزیر ہے اور اس مقصد کے لیے قبائلی عمائدین اور مقامی قیادت کو اعتماد میں لیا جانا چاہیے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp