علاج سے بڑھ کر احتیاط: سعودی عرب کا صحت مند معاشرہ تشکیل دینے کا نیا وژن

جمعرات 30 اکتوبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سعودی عرب میں صحت عامہ کے شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور ایک صحت مند معاشرہ تشکیل دینے کے لیے ’علاج سے بڑھ کر احتیاط‘ کے اصول کو بنیاد بنایا جا رہا ہے۔

ریاض میں جاری 8ویں عالمی ہیلتھ کانفرنس کے دوران ماہرینِ صحت، سرمایہ کاروں اور فیصلہ سازوں نے اس حکمتِ عملی پر تفصیلی گفتگو کی۔

یہ بھی پڑھیں:سعودی عرب میں ‘جینیاتی و خلیاتی علاج ساز فیکٹری’ کا افتتاح، طبی تحقیق میں سنگِ میل

یہ 4 روزہ ’گلوبل ہیلتھ ایکزیبیشن‘ 27 سے 30 اکتوبر تک ریاض میں منعقد ہو رہی ہے، جس میں مملکت کے مستقبل کے صحت کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے مختلف تجاویز پیش کی جا رہی ہیں۔

بین الاقوامی میڈیکل سینٹر (IMC) کے بانی و چیئرمین ڈاکٹر ولید فتحی نے ’عرب نیوز‘ سے گفتگو میں کہا کہ جب میں امریکا سے واپس آیا تو میرا مقصد یہ تھا کہ صحت کے شعبے میں ایک جامع تصور، ’جسم، ذہن اور روح‘ کو متعارف کرایا جائے تاکہ علاج محض جسمانی بیماری تک محدود نہ رہے بلکہ انسان کی مکمل فلاح کا احاطہ کرے۔

یہ بھی پڑھیں:دنیا کا پہلا ’ اسکائی اسٹیڈیم‘: سعودی عرب 2034ء کے فٹبال ورلڈ کپ میں نئی تاریخ رقم کرنے کو تیار

انہوں نے کہا کہ سعودی وژن 2030 نے صحت کے میدان میں ایک نئی سوچ پیدا کی ہے جو علاج کے بجائے احتیاط، آگاہی اور صحت مند طرزِ زندگی کو فروغ دینے پر مبنی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ دنیا کی 90 فیصد بیماریاں دراصل ہماری روزمرہ زندگی کے انتخاب کا نتیجہ ہیں، اگر ہم اپنے کھانے، پینے، طرزِ زندگی اور سوچ کے انداز کو درست کر لیں تو 80 سے 90 فیصد امراض جیسے موٹاپا، ذیابطیس اور بلڈ پریشر سے بچا جا سکتا ہے۔

آئی ایم سی کے چیف میڈیکل آفیسر ڈاکٹر اشرف امیر نے بھی اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم اب علاج سے احتیاط کی طرف، بیماری سے صحت کی طرف اور کمزوری سے تندرستی کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ بطور معالج اب ہمارا کردار صرف علاج نہیں بلکہ بیماریوں کی روک تھام اور معیارِ زندگی کو بہتر بنانا بھی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ڈیووس اِن ڈیزرٹ: سعودی عرب کی سرمایہ کاری کا سفر اور پاکستان کے لیے نیا موقع

انہوں نے مزید کہا کہ وزارتِ صحت مملکت میں اوسط عمر بڑھانے کے لیے کام کر رہی ہے۔ چند سال قبل مملکت میں اوسط عمر 76 سال تھی، جبکہ ہمارا ہدف 2045 تک اسے 80 سال تک پہنچانا ہے۔ آج ہم 79 سال تک پہنچ چکے ہیں، جو ہماری پالیسیوں کی کامیابی کا ثبوت ہے۔

ماہرین کے مطابق سعودی عرب کا یہ نیا ماڈل، جس میں علاج سے زیادہ احتیاط، صحت مند طرزِ زندگی اور ذہنی و روحانی توازن کو ترجیح دی جا رہی ہے، مملکت کو مستقبل میں ایک جامع اور پائیدار صحت مند معاشرہ بنانے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر 20 فیصد فیس لینے کا منصوبہ واپس لے لیا، تیل کی قیمتوں میں کچھ کمی

ناروے کے تعلیمی نظام نے ایک شخص کی بچپن سے متعلق سوچ بدل دی، سوشل میڈیا پر بحث چھڑگئی

ایم کیو ایم کے دھڑے آمنے سامنے، شہری سندھ کے حقوق کی تحریک یا اقتدار کی نئی جنگ؟

پاکستان نے مدت پوری ہونے سے قبل 47 کھرب روپے سے زائد قرض واپس کردیا، مشیر خزانہ

شاہراہوں کی بحالی کے لیے کلیئرنس آپریشن، کالعدم ایکشن کمیٹی کے مسلح افراد کی فائرنگ سے پولیس اہلکار شہید، متعدد زخمی

ویڈیو

ایم کیو ایم کے دھڑے آمنے سامنے، شہری سندھ کے حقوق کی تحریک یا اقتدار کی نئی جنگ؟

خوبصورت پنجاب: گوجرانوالہ کے ایمن آباد بازار کی اپ گریڈیشن مکمل

ممنون حسین نے دور صدارت میں اردو، سی پیک کے قومی بیانیے اور کفایت شعاری کو فروغ دیا، ڈاکٹر فاروق عادل

کالم / تجزیہ

پانی کی بڑھتی قلت ایک مربوط منصوبہ بندی کی متقاضی

پاکستان کی اسلامی روح اور خوارج کا جھوٹا پروپیگنڈہ….!!

ہم چین سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟