امریکا میں ایک پینی کے سکے نایاب، بینک اور دکاندار مشکلات کا شکار

جمعہ 31 اکتوبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایک پینی کے سکے کی تیاری بند کرنے کے فیصلے کے بعد ملک بھر میں سکوں کی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے۔ بینکوں اور دکانداروں کے پاس ایک پینی کے سکے ختم ہو چکے ہیں جبکہ امریکی ٹکسال نے ان کی تیاری رواں سال جون میں بند کر دی تھی۔

ٹرمپ نے رواں سال فروری میں اعلان کیا تھا کہ بڑھتی ہوئی لاگت کے باعث اب ایک پینی کے سکے نہیں بنائے جائیں گے۔ رپورٹ کے مطابق 2024 میں ایک پینی بنانے پر 3.7 سینٹ خرچ آیا، جو اس کی اصل قدر سے زیادہ ہے۔

دکانداروں کا کہنا ہے کہ سکے نہ ہونے کی وجہ سے لین دین میں دشواری ہو رہی ہے۔ کئی اسٹورز کو مجبوری میں قیمتوں کو کم کرنا پڑ رہا ہے تاکہ صارفین سے اضافی رقم نہ لی جائے، جس سے انہیں لاکھوں ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے۔

وفاقی ریزرو کے مطابق ملک میں سکے جمع کرنے کے رجحان اور سکوں کی تقسیم میں تعطل کے باعث مسئلہ مزید سنگین ہو گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق حکومت کو فوری طور پر واضح پالیسی دینا ہوگی، ورنہ خرید و فروخت کا یہ بحران چھٹیوں کے موسم میں مزید بڑھ سکتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ماجد ستی قتل کیس: فرخ کھوکھر سمیت 3 ملزمان کو عمر قید کی سزا

صدر زرداری کی فرانس کے قومی دن پر صدر میکرون اور فرانسیسی عوام کو مبارکباد

’کروڑ روپے لیکر اپنا بیٹا بھیج کر دکھائیں‘، اسپیکر پنجاب اسمبلی اور فہیم گوہر بٹ کی مولانا فضل الرحمان پر شدید تنقید

نیب مقدمات سپریم کورٹ سنے یا آئینی عدالت؟ اہم قانونی نکتے پر سماعت کا آغاز

فوجی جوان محض تنخواہ کے لیے جان نہیں دیتے، شہدا کی قربانی کو تنخواہ سے جوڑنا غیرمنصفانہ ہے، خواجہ آصف

ویڈیو

خوبصورت پنجاب: گوجرانوالہ کے ایمن آباد بازار کی اپ گریڈیشن مکمل

ممنون حسین نے دور صدارت میں اردو، سی پیک کے قومی بیانیے اور کفایت شعاری کو فروغ دیا، ڈاکٹر فاروق عادل

وی ایکسکلوسیو: ایران امریکا جنگ بندی میں پاکستان اور قطر کی ثالثی اب بھی کلیدی حیثیت رکھتی ہے، اعزاز چوہدری

کالم / تجزیہ

پاکستان کی اسلامی روح اور خوارج کا جھوٹا پروپیگنڈہ….!!

ہم چین سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟

بلوچستان: پری ٹیررازم ، ٹیررازم اور پوسٹ ٹیررازم