کیا تنخواہ دار طبقہ مجموعی ٹیکس وصولیوں کا صرف 4 فیصد ٹیکس ادا کرتا ہے؟

جمعرات 20 نومبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ملکی معاشی صورتحال کے باعث حکومت نے دیگر شعبوں کی طرح تنخواہ دار طبقے پر بھی بھاری مقدار میں ٹیکس عائد کیا تھا۔ یہ تصور کیا جا رہا تھا کہ تنخواہ دار طبقہ سب سے زیادہ ٹیکس دیتا ہے جبکہ دیگر شعبے زیادہ ٹیکس ادا نہیں کرتے۔ تاہم ایف بی آر کے ریکارڈ میں انکشاف ہوا ہے کہ مالی سال24-2025 کے دوران تنخواہ دار طبقے سے 498 ارب روپے ٹیکس وصول کیا گیا ہے جبکہ مجموعی ٹیکس وصولی 11 ہزار 747 ارب روپے رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: تنخواہ دار طبقہ ٹیکسوں کے بوجھ تلے دب گیا، ریلیف دینے کے لیے بڑی تجویز سامنے آگئی

فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے سب سے زیادہ ٹیکس وصولیوں میں حصہ ڈالنے والے شعبوں کی تفصیلات قومی اسمبلی میں جمع کرا دی ہیں، جس کے مطابق مالی سال 24-2025 کے دوران سب سے زیادہ ٹیکس دینے والا شعبہ بینکنگ سیکٹر ہے جس سے 1 ہزار 127 ارب روپے ٹیکس وصول کیا گیا۔

پیٹرولیم سیکٹر سے 1 ہزار 121 ارب روپے، پاور سیکٹر سے 858 ارب روپے، ریٹیلرز اور ہول سیلرز سے 693 ارب روپے جبکہ تنخواہ دار طبقے سے 498 ارب روپے ٹیکس وصول کیا گیا۔

ریکارڈ کے مطابق بینکنگ اور پیٹرولیم کے شعبے ٹیکس ادائیگی میں سب سے آگے رہے، جنہوں نے مشترکہ طور پر 2 ہزار 248 ارب روپے سے زائد قومی خزانے میں جمع کروایا، جو مجموعی ٹیکس کا 19.1 فیصد بنتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ٹیکس کی ادائیگی میں تنخواہ دار طبقہ سب سے آگے، اعداد و شمار سامنے آگئے

ایف بی آر کے ریکارڈ کے مطابق گزشتہ مالی سال میں چار بڑے ٹیکس ہیڈز کے تحت مجموعی وصولی 11 ہزار 747 ارب روپے رہی۔ 5 ہزار 794 ارب روپے انکم ٹیکس، 3 ہزار 901 ارب روپے سیلز ٹیکس، 767 ارب روپے فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی جبکہ 1 ہزار 285 ارب روپے کسٹم ڈیوٹی کی مد میں وصول کیے گئے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

رائٹرز کی مالک کمپنی نے عالمی پرنٹ کاروبار کے 51 فیصد حصص 50 کروڑ ڈالر میں فروخت کردیے

میٹا پر طبی مسائل کے شکار ملازمین کو برطرفیوں میں نشانہ بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت استعمال کرنے کا الزام

حکومت نے ہمیشہ مذاکرات کا راستہ اپنایا، تشدد ایکشن کمیٹی کی جانب سے کیا گیا، طارق فضل چوہدری

ذہنی تھکن سے پریشان ہیں؟ صدیوں پرانے طریقے آج بھی مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں

اداروں اور شہدا سے متعلق استعمال کیے گئے الفاظ ناقابل قبول، مولانا فضل الرحمان معافی مانگیں : حافظ میاں محمد نعمان

ویڈیو

ایم کیو ایم کے دھڑے آمنے سامنے، شہری سندھ کے حقوق کی تحریک یا اقتدار کی نئی جنگ؟

خوبصورت پنجاب: گوجرانوالہ کے ایمن آباد بازار کی اپ گریڈیشن مکمل

ممنون حسین نے دور صدارت میں اردو، سی پیک کے قومی بیانیے اور کفایت شعاری کو فروغ دیا، ڈاکٹر فاروق عادل

کالم / تجزیہ

پانی کی بڑھتی قلت ایک مربوط منصوبہ بندی کی متقاضی

پاکستان کی اسلامی روح اور خوارج کا جھوٹا پروپیگنڈہ….!!

ہم چین سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟