بالی ووڈ اداکار ویویک اوبرائے نے انکشاف کیا ہے کہ انہوں نے اپنے فلمی کیریئر کے آغاز میں رام گوپال ورما کی فلم ’کمپنی‘ میں مرکزی کردار حاصل کرنے کے لیے غیرمعمولی محنت کی اور باقاعدہ طور پر کچی آبادی میں رہائش اختیار کی۔
ایک انٹرویو میں ویویک اوبراے نے بتایا کہ وہ تقریباً 2 ماہ کچی آبادی میں رہے جہاں رات کے وقت ’بڑے بڑے چوہے‘ آتے تھے اور انہیں پانی بھرنے کے لیے ڈرم استعمال کرنا پڑتا تھا، جب کہ غسل خانے کے لیے عوامی بیت الخلا کا سہارا لینا پڑتا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: بالی ووڈ کی سب سے امیر اداکارہ کون، حیران کن نام سامنے آگیا
ویویک کے مطابق جب انہوں نے پہلی بار رام گوپال ورما سے ملاقات کی تو ہدایتکار نے انہیں اس بنیاد پر مسترد کردیا کہ وہ ایک سخت گیر کردار کے لیے ’بہت پالشڈ‘ دکھائی دیتے ہیں۔ اس کے بعد اداکار نے فیصلہ کیا کہ وہ خود کو کردار کے قریب لانے کے لیے حقیقی حالات کا سامنا کریں گے۔
انہوں نے بتایا کہ ’میں 6 سے 7 ہفتے ایک کچی آبادی میں رہا۔ کرائے پر ایک کھولی لی۔ جس میں رات کو بڑے چوہے آتے تھے۔ پانی ڈرم سے نکالنا پڑتا تھا اور باتھ روم نہ ہونے کے باعث لائن میں کھڑا ہونا پڑتا تھا۔ اسی ماحول میں میں نے سمجھا کہ میرے کردار چندو ناگرے کی زندگی کیسی ہوگی، وہ کیسے بیڑی پیتا ہے، چائے پیتا ہے اور بات کرتا ہے‘۔
یہ بھی پڑھیں: بالی ووڈ کے کپور خاندان پر ڈاکیومنٹری جلد نیٹ فلیکس پر ریلیز کی جائے گی
کچی آبادی میں وقت گزارنے کے بعد ویویک اوبرائے کردار کے مکمل لُک میں رام گوپال ورما کے دفتر پہنچے جہاں ان کا آڈیشن دیکھ کر ہدایتکار نے فوراً انہیں فلم کے لیے منتخب کرلیا۔ ویویک کے مطابق، آر جے وی نے ان کا آڈیشن دیکھ کر کہا ’زبردست آڈیشن ایسا آڈیشن میں نے کبھی نہیں دیکھا‘۔
بعدازاں رام گوپال ورما، ویویک کو لے کر ان کے والد اور سینئر اداکار سریش اوبرائے کے گھر پہنچے اور انہیں بیٹے کے انتخاب سے آگاہ کیا۔ ویویک نے بتایا کہ والد کی آنکھوں میں فخر کے آنسو تھے۔ چونکہ ہدایتکار کے پاس سائننگ اماؤنٹ کے طور پر کوئی رقم موجود نہیں تھی، انہوں نے وہیں سے سریش اوبرائے سے 10 روپے ادھار لے کر ویویک کو بطور علامتی سائننگ اماؤنٹ دے دیے۔
2002 میں ریلیز ہونے والی فلم کمپنی ویویک اوبرائے کے کیریئر کی کامیاب اور غیر روایتی ڈیبیو فلم ثابت ہوئی۔













