وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے خلاف مبینہ فارورڈ بلاک اور اندرونی اختلافات کو ختم کرنے کے لیے بلائے جانے والے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں بڑی تعداد میں اراکین نے شرکت نہیں کی، جس سے اندرونی اختلافات کھل کر سامنے آگئے ہیں۔
پارلیمانی پارٹی کا اجلاس اتوار کی رات وزیراعلیٰ ہاؤس پشاور میں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی سربراہی میں ہوا، جس میں اراکین نے کھل کر شکایات کے انبار لگا دیے۔
مزید پڑھیں: گورننس کے بجائے نیا سیاسی اسٹنٹ، سہیل آفریدی کا سنگجانی میں سڑک بند کرنا عوام دشمن طرز عمل قرار
پی ٹی آئی کی جانب سے کوئی باضابطہ پریس ریلیز جاری نہیں کی گئی۔ تاہم اندرونی اطلاعات کے مطابق 92 اراکین میں سے 57 کے قریب منتخب نمائندوں نے اہم اجلاس میں شرکت کی۔ بیشتر اراکین کی عدم شرکت پر وزیراعلیٰ پر اعتماد کے حوالے سے سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
اراکین نے شکایات کے انبار لگا دیے
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی جانب سے پارلیمانی پارٹی اجلاس کے لیے اتوار کی شام 7 بجے کا وقت دیا گیا تھا، جو ڈیڑھ گھنٹہ تاخیر سے شروع ہوا۔ جرگہ ہال میں ہونے والے اجلاس کا آغاز ہی شکایات سے ہوا۔
اجلاس کے اندرونی حالات سے باخبر ایک ذریعے نے بتایا کہ اجلاس میں بیشتر اراکین نے کھل کر وزیراعلیٰ اور حکومت کے خلاف بات کی۔ شکوہ کیا گیا کہ ان کی بات نہیں سنی جا رہی، جبکہ بیوروکریسی بھی ان کی بات سننے کو تیار نہیں۔
انہوں نے بتایا کہ مالاکنڈ ڈویژن سے منتخب ایک رکن نے سوال کیاکہ ان کے علاقے کے لیے سہیل آفریدی کی حکومت نے کیا کام کیے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ ترقیاتی کام نہیں ہو رہے اور حلقے کے لوگ ان سے ناراض ہیں۔
ذرائع کے مطابق ایک اور رکن نے کرپشن کے حوالے سے شکایات کیں اور کہاکہ کوئی کام کرپشن کے بغیر نہیں ہوتا۔ انہوں نے مبینہ کرپشن سے تنگ آ کر اپنا استعفیٰ دینے کی پیشکش بھی کردی۔
ذرائع نے بتایا کہ بیشتر اراکین نے بیوروکریسی کے حوالے سے شکایات کیں اور شکوہ کیاکہ موجودہ حکومت کا بیوروکریسی پر کنٹرول نہیں ہے۔
انہوں نے کہاکہ گزشتہ دور میں بیوروکریسی پر کنٹرول تھا، اراکین نے عمران خان کی رہائی کے حوالے سے پیشرفت پر بھی سوالات اٹھائے اور کہاکہ سہیل آفریدی نے اب تک کیا کیا ہے۔
’وزیراعلیٰ سے رابطہ نہیں ہوتا‘
اجلاس میں شریک ایک رکن نے بتایا کہ بیشتر اراکین نے شکوہ کیا کہ وزیراعلیٰ اراکین سے رابطہ نہیں رکھتے اور اراکین کی کالز اور پیغامات کا جواب بھی نہیں دیتے۔
انہوں نے بتایا کہ ایک رکن نے کہاکہ آپ خود نہ فون اٹھاتے ہیں اور نہ ہی پیغامات کا جواب دیتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اراکین نے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کی مثال بھی دی اور کہا کہ علی امین گنڈاپور ہر وقت دستیاب ہوتے تھے اور بروقت جواب دیتے تھے، جس پر سہیل آفریدی نے اراکین کے لیے ایک الگ نمبر دینے کا وعدہ کیا۔
پارلیمانی پارٹی میں کس کس نے شرکت نہیں کی؟
پی ٹی آئی پارلیمانی پارٹی اجلاس کے اندرونی حالات سے باخبر ذرائع نے بتایا کہ اجلاس میں 92 میں سے 57 اراکین نے شرکت کی، تاہم پی ٹی آئی کے بعض اراکین نے یہ تعداد 65 تک بتائی۔
پارٹی کی جانب سے اراکین کی تعداد اور اجلاس کے حوالے سے کوئی تفصیل نہیں دی گئی۔ وزیراعلیٰ کے ترجمان نے اجلاس سے خطاب کی خبر جاری کی، جس میں اراکین کی تعداد کے حوالے سے کچھ نہیں بتایا گیا۔
ذرائع کے مطابق اراکین کی تعداد کم تھی، لیکن جن اراکین نے شرکت کی انہوں نے سہیل آفریدی کو اپنی مکمل حمایت، تعاون اور اعتماد کا یقین دلایا۔
انہوں نے بتایا کہ تمام اراکین نے یہ مؤقف اپنایا کہ سہیل آفریدی کو عمران خان نے وزیراعلیٰ بنایا ہے اور عمران خان کے ہر فیصلے کے ساتھ وہ کھڑے ہیں۔
ذرائع نے بتایا کہ اجلاس میں علی امین گنڈاپور نے شرکت نہیں کی، جبکہ ان کے قریبی سمجھے جانے والے کچھ دیگر اراکین بھی شریک نہیں ہوئے۔
انہوں نے کہاکہ پشاور سے تعلق رکھنے والے کچھ اراکین بھی غیر حاضر رہے۔ ’وزیراعلیٰ کو اعتماد کے لیے 72 اراکین کی حمایت درکار ہوتی ہے، جبکہ اجلاس میں 57 اراکین موجود تھے۔‘
انہوں نے بتایا کہ اجلاس میں کہا گیا کہ کچھ اراکین ملک سے باہر ہونے اور بعض دیگر مصروفیات کے باعث شرکت نہیں کر سکے۔
پارلیمانی پارٹی اجلاس کے بعد کیا سہیل آفریدی اعتماد کھو بیٹھے؟
سیاسی حالات پر نظر رکھنے والے صحافیوں کے مطابق وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے پارلیمانی پارٹی کا اجلاس اس وقت بلایا تھا جب کابینہ میں توسیع کے بعد اندرونی اختلافات اور فارورڈ بلاک کی خبریں سامنے آ رہی تھیں۔
انہوں نے بتایا کہ سہیل آفریدی اجلاس بلا کر اندرونی اور بیرونی مخالفین کو پیغام دینا چاہتے تھے کہ وہ مضبوط وزیراعلیٰ ہیں، لیکن مطلوبہ تعداد پوری نہ ہونے کی وجہ سے وہ شاید اس میں کامیاب نہ ہو سکے۔
ارشد عزیز ملک سینیئر صحافی ہیں اور سیاسی معاملات پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ ان کے مطابق مطلوبہ تعداد سے کم اراکین کی شرکت عدم اعتماد اور فارورڈ بلاک و اختلافات کی تصدیق ہے۔
انہوں نے بتایا کہ وزیراعلیٰ کو اعتماد کے لیے 72 اراکین کی حمایت درکار ہوتی ہے اور اس سے کم تعداد عدم اعتماد کی نشاندہی کرتی ہے۔
انہوں نے کہاکہ اندرونی اختلافات اور فارورڈ بلاک کے باوجود سہیل آفریدی کو اس وقت کوئی فوری خطرہ نہیں ہے۔ ان کے مطابق سہیل آفریدی الیکشن کمیشن یا عدالتی احکامات کے نتیجے میں جا سکتے ہیں کیونکہ ان کے خلاف کئی کیسز ہیں۔
ارشد عزیز ملک نے دعویٰ کیاکہ سہیل آفریدی اس وقت مقتدر حلقوں سے تعلقات بہتر بنانے کی مکمل کوشش میں ہیں تاکہ ان کی حکومت کو کوئی خطرہ نہ ہو۔
سینیئر صحافی علی اکبر بھی کسی حد تک ارشد عزیز ملک سے اتفاق کرتے ہیں۔ ان کے مطابق اگرچہ پی ٹی آئی میں اندرونی اختلافات ہیں اور کابینہ میں توسیع پر تحفظات بھی پائے جاتے ہیں، لیکن کوئی کھل کر سہیل آفریدی کی مخالفت نہیں کرے گا۔
انہوں نے بتایا کہ پرویز خٹک اور محمود خان کے بعد سب کو یقین ہو گیا ہے کہ پی ٹی آئی کے بغیر ان کا کوئی سیاسی مستقبل نہیں ہے۔
انہوں نے کہاکہ پی ٹی آئی اس وقت شدید اندرونی اختلافات کا شکار ہے۔ ’اگر دیکھا جائے تو اختلافات جمہوریت کا حسن ہیں اور ہر پارٹی میں اختلافات ہوتے ہیں، لیکن کوئی بھی سہیل آفریدی کے خلاف کھل کر جانے کی ہمت نہیں کرے گا۔‘
نوجوان صحافی کامران علی کا مؤقف ہے کہ کچھ اراکین مصروفیات کے باعث شریک نہیں ہوئے، جبکہ بعض اراکین گروپ بندی اور اختلافات کی وجہ سے اجلاس میں نہیں آئے۔
انہوں نے بتایا کہ 2 اراکین ملک سے باہر ہیں جبکہ 2 کے گھروں میں شادی کی تقریبات تھیں۔
انہوں نے کہاکہ پی ٹی آئی نے ابھی تک کوئی باقاعدہ پریس ریلیز جاری نہیں کی۔
سہیل آفریدی کیا کہتے ہیں؟
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے پریس سیکریٹری نے ایک بیان جاری کیا، جس میں کہا گیا کہ پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں اسپیکر صوبائی اسمبلی، کابینہ اراکین اور اراکین صوبائی اسمبلی شریک ہوئے۔
بیان کے مطابق وزیراعلیٰ نے اجلاس سے خطاب میں کہاکہ پروپیگنڈے کے باوجود ایم پی ایز کی اجلاس میں شرکت اتحاد کا واضح ثبوت ہے۔ ’نہ ہمیں کوئی توڑ سکتا ہے اور نہ ہی عمران خان کے نظریے سے پیچھے ہٹا سکتا ہے۔‘
مزید پڑھیں: عمران خان سے ملاقات کے لیے سہیل آفریدی پھر سرگرم، برف پگھلے گی؟
انہوں نے کہاکہ مخالفین نے بھرپور کوشش کی کہ ہمارے درمیان دراڑ پیدا کریں، مگر کثیر تعداد میں آپ کی شرکت ان کے منہ پر طمانچہ ہے۔
وزیراعلیٰ نے اپنے خطاب میں سیاسی مخالفین کو نشانہ بنایا، لیکن یہ نہیں بتایا کہ پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں کتنے اراکین شریک تھے۔













