بنگلہ دیش نے چٹوگرام وار سیمٹری میں دفن کیے گئے 18 جاپانی فوجیوں کی باقیات کی نکاسی اور ان کی جاپان واپسی کامیابی سے مکمل کر لی۔ یہ فوجی دوسری عالمی جنگ کے دوران ہلاک ہوئے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: شیخ حسینہ، شیخ ریحانہ اور برطانوی رکنِ پارلیمنٹ ٹولپ صدیق کو بنگلہ دیش میں کرپشن کیس میں سزائیں
جاپان کی حکومت کی جانب سے منتخب 10 رکنی ماہرین کی ٹیم 17 تا 28 نومبر 2025 کے دوران چٹگام میں موجود رہی اور نکاسی کے عمل کی نگرانی کی۔
یہ کارروائی بنگلہ دیش آرمی کے چٹگام ایریا کی مکمل انتظامی اور سکیورٹی معاونت کے تحت، ملک کی عبوری حکومت کی ہدایات کے مطابق انجام دی گئی۔
اس عمل کی نگرانی معروف آزادی پسند اور کھدائی ماہر، لیفٹیننٹ کرنل (ریٹائرڈ) قاضی سجاد علی ظہیر، بیر پروتیک نے کی۔
باقیات کی بازیابی کے بعد، 28 نومبر کو بنگلہ دیش آرمی کی جانب سے سرکاری گارڈ آف آنر پیش کیا گیا، اور بعد ازاں باقیات کو باقاعدہ طور پر جاپان بھیج دیا گیا۔
مزید پڑھیے: بنگلہ دیش کے شہر کھلنا میں عدالت کے باہر فائرنگ سے 2 افراد ہلاک
یہ کارروائی حالیہ برسوں میں دوسری بار انجام دی گئی ہے۔ سنہ 2024 میں بھی جاپان کی درخواست پر بنگلہ دیش نے کومیلا کے مینہماٹی وار سیمٹری سے 23 جاپانی فوجیوں کی باقیات نکال کر واپس بھیجی تھیں۔














