پریس کلبز اور صحافتی تنظیمیں کیسے صحافیوں کی حفاظت یقینی بنا سکتی ہیں؟

جمعرات 18 دسمبر 2025
author image

مہ پارا ذوالقدر

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

’سچ بولنا یہاں جرم ہے۔‘ یہ الفا ظ ضلع  میانوالی سے تعلق رکھنے والے صحافی حسن ناصر بھچر کے ہیں، جنہیں حال ہی میں حکومتی احکامات کے خلاف آواز اٹھانے کی پاداش میں ایف آئی آرز میں نامزد کیا گیا۔

حسن کا کہنا ہے کہ ’میانوالی کے علاقے واں بھچراں میں عوام کی جانب سے مویشی منڈی کی منتقلی کے خلاف احتجاج کیا گیا، جسے انہوں نے بطور رپورٹر کور کیا اور عوام کی آواز بنا۔ اس جرم کی پاداش میں پہلے مجھے سرکاری اداروں کی جانب سے ہراساں کیا گیا، بعد ازاں مجھے مقدمات میں نامزد کر دیا گیا۔‘

حسن ناصر بھچر کی کہانی جنوبی پنجاب میں صحافت کے خطرناک ماحول کا ایک عکس ہے، جہاں سچ کی قیمت اکثر جان سے ادا کی جاتی ہے۔ حسن کا تعلق دنیا نیوز سے ہے اور ان کے ساتھ یہ واقعہ 20 دسمبر 2024 کو پیش آیا۔ ملتان، مظفرگڑھ، ڈیرہ غازی خان، راجن پور، بہاولپور اور لودھراں جیسے اضلاع میں صحافیوں کو روزانہ کسی نہ کسی دباؤ، دھمکی یا سازش کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

فریڈم نیٹ ورک کی رپورٹ کے مطابق  جنوبی پنجاب میں 2021 تا 2024 کے دوران دھمکی اور حملےکے 28 واقعات دستاویزی طور پر ریکارڈ کیے گئے۔ ان 28 واقعات میں 2 قتل اور 7 ایسے واقعات شامل تھے، جن میں صحافیوں کو چوٹیں آئیں۔

پاکستان پریس فاؤنڈیشن کے مطابق جنوبی پنجاب میں پیش آنے والے ان دونوں قتل کے واقعات کے صحافتی کام کے ساتھ ممکنہ تعلق کی تحقیقات تاحال جاری ہیں۔ 24 اپریل 2022 کو 7 نیوز کے رپورٹر ضیاالرحمٰن فاروقی کو کبیر والا، خانیوال میں کینال روڈ پر 12 مسلح افراد نے روک کر شدید زخمی کر دیا۔ وہ 28 اپریل کو ملتان کے ایک اسپتال میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے۔

اسی طرح 15 مئی 2022 کو روزنامہ خبریں اور سچ نیوز کے رپورٹر مہر اشفاق سیال کو اس وقت فائرنگ کا نشانہ بنایا گیا جب وہ بستی بھیمہ سے تھرمل بائی پاس کی طرف دفتر جا رہے تھے۔ 2 مسلح افراد نے انہیں روک کر 3 گولیاں ماریں جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہوئے اور ڈی ایچ کیو اسپتال میں انتقال کر گئے۔

ان واقعات نے جنوبی پنجاب میں صحافیوں کی سلامتی کے حوالے سے کئی سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔ ان حملوں کے محرکات کے بارے میں تحقیقات جاری ہیں، مگر یہ حقیقت اپنی جگہ قائم ہے کہ اس خطے میں صحافتی فرائض انجام دینا جان لیوا خطرات سے خالی نہیں۔

ان حالات میں خبر دینا یہاں محض ایک پیشہ نہیں، بلکہ ایک مسلسل جدوجہد بن چکا ہے۔ مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا پریس کلبز اور صحافتی تنظیمیں ان صحافیوں کی مدد، رہنمائی اور حفاظت کے لیے کوئی مؤثر کردار ادا کر رہی ہیں۔

ملتان سے تعلق رکھنے والی رپورٹر الشبہ آصف  کا کہنا ہے کہ جب ہم فیلڈ میں جاتے ہیں تو کوئی گارنٹی نہیں ہوتی کہ شام تک زندہ واپس آئیں گے یا نہیں۔ ان کے مطابق صحافیوں کے پاس نہ تو قانونی مدد ہوتی ہے اور نہ ہی کسی ادارے کی طرف سے تحفظ کا کوئی انتظام۔ اگر کسی خبر کے نتیجے میں خطرہ پیدا ہو جائے تو ہر صحافی خود اپنے طور پر کوئی راہ نکالنے کی کوشش کرتا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ بعض اوقات تو پریس کلب میں بھی ایسی فضا نہیں ہوتی کہ کوئی صحافی اعتماد کے ساتھ اپنا مسئلہ بیان کر سکے۔ وہ سمجھتی ہیں کہ خاص طور پر خواتین صحافیوں کے مسائل کو سنجیدگی سے نہیں لیا جاتا جس کی بڑی وجہ خواتین صحافیوں کا یونینز اور پریس کلبز میں نمایاں عہدوں پر نہ ہونا ہے۔

الشبہ کہتی ہیں کہ ’جنوبی پنجاب کے بیشتر پریس کلبز میں خواتین کی شمولیت برائے نام ہی ہوتی ہے۔ عموما وہ ایگزیکٹو ممبرز کے طور پر شامل ہوتی ہیں اور اہم عہدے مثلا صدر، جنرل سیکرٹری، سینئر نائب صدر وغیرہ پر مرد صحافی ہی براجمان ہوتے ہیں، ایسے میں خواتین صحافیوں کے مسائل ترجیحات میں آخری نمبروں پر ہوتے ہیں۔‘

الشبہ کا تعلق روہی ٹی وی  کے ساتھ ہے۔ وہ بتاتی ہیں کہ اکثر فیلڈ میں رپورٹنگ کے دوران ہراسمنٹ کے واقعات پیش آتے رہتے ہیں، جنہیں خود ہی نمٹانا ہوتا ہے۔ پریس کلبز اور یونینز تک بات تب پہنچائی جاتی ہے جب حکومت کی جانب سے ہراسانی کا سامنا ہو جیسے ایف آئی آرز میں نامزد کر دیا جائے۔

ایسی صورتوں میں  صحافتی تنظیمیں اور کلبز اظہارِ یک جہتی کرتے ہیں۔ لیکن خواتین رپورٹرز کو تو  کم و بیش روزانہ کی بات پر فیلڈ میں ہراسانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے جن کےلیے نہ تو پریس کلبز کا ماحول ایسا ہے جو جینڈر سینسٹو ہو نہ یونیز  تک بات پہنچتی ہے۔

جنوبی پنجاب کے مختلف اضلاع کے ڈسٹرکٹ پریس کلب میں صنفی توازن نہ ہونے کے برابر ہے۔ ملتان میں کل صحافیوں کی تعداد 680 ہے، جن میں سے 642 مرد، جبکہ 38 خواتین صحافی ہیں۔

ضلع میانوالی کے ڈسٹرکٹ پریس کلب کے ممبران  کی تعداد 123 ہے، جس میں کوئی خاتون صحافی شامل نہیں ہے۔ اسی طرح رحیم یار خان میں کل صحافیوں کی تعداد 92 ہے، اور ان میں کوئی خاتون صحافی پریس کلب کی ممبر نہیں۔ جبکہ ڈیرہ غازی خان ڈسٹرکٹ پریس کلب کے ممبران کی تعداد 142 ہے، جو تمام کے تمام مرد ہیں۔

ضلع بھکر کی تحصیل   کلور کوٹ سے تعلق رکھنے والے صحافی رانا زاہد  کا کہنا ہے کہ مقامی پریس کلب اکثر صرف فوٹو سیشن یا دعوت ناموں کی حد تک فعال ہوتے ہیں۔ جب کسی صحافی پر حملہ ہوتا ہے یا اس پر جھوٹا مقدمہ درج کیا جاتا ہے تو ابتدا میں چند بیانات جاری کیے جاتے ہیں، مگر پھر سب خاموش ہو جاتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ’مجھ پر پیکا ایکٹ کی دفعات کے تحت 2 مقدمات درج ہوئے ہیں، جنہیں میں، میرا خاندان اور ذاتی دوست احباب مل کر بھگت رہے ہیں۔ پریس کلب کے عہدیدار زبانی کلامی تو  ہمارے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے  ہیں لیکن  عملی طور پر سب کچھ خود ہی کرنا پڑتا ہے۔‘

رانا زاہد پر 23 اپریل 2024 کو ایک مقامی  سرکاری ہسپتال کے خلاف وڈیو سوشل میڈیا پر پوسٹ کرنے پر تھانہ کلورکوٹ ضلع بھکر میں ایک ایف آئی آر درج کی گئی، جبکہ دوسری ایف آئی آر 4 مارچ 2025 کو درج ہوئی۔ رانا زاہد کے مطابق انہوں نے ذاتی طور پر قانونی مدد حاصل کی۔ اس سلسے میں انہیں فریڈم نیٹ ورک کی جانب سے مالی معاونت بھی فراہم کی گئی۔

میانوالی پریس کلب کے صدر اختر مجاذ کا صحافیوں کےشکووں کے حوالے سے کہنا ہے کہ ہم نے متعدد بار ضلعی انتظامیہ کو درخواستیں دی ہیں کہ تمام  صحافیوں کو سیکورٹی فراہم کی جائے، خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں جرائم پیشہ عناصر کا اثر زیادہ ہے۔

تاہم ان کا کہنا ہے کہ پریس کلبز کے پاس نہ تو فنڈز ہوتے ہیں، نہ ہی قانونی اختیارات کہ وہ براہ راست کسی کو تحفظ فراہم کر سکیں۔ ان کے مطابق کلب کی کوشش صرف یہی ہو سکتی ہے کہ وہ آواز بلند کرے اور دباؤ ڈالے، مگر عملی اقدامات حکومت ہی اٹھا سکتی ہے۔

پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے صدر افضل بٹ کا کہنا ہے کہ یونین صحافیوں کی قانونی مدد فراہم کرتی ہے اور ان کے مقدمات کی پیروی بھی کرتی ہے۔ مگر  گزشتہ چند سالوں سے صحافت کا شعبہ حکومتی جبر اور پابندیو ں کی ز د میں ہے۔ ایسے قوانین منظور کیے گئے ہیں جو صحافیوں پر قد غن لگانے کےلیے استعمال کیے جا رہے ہیں۔

ایک طرف تو ہم ان قوانین کا شکار صحافیوں کی انفرادی طور  مالی معاونت یا قانونی ٹیم کی  فراہمی کی صورت میں  مدد کر رہے ہیں، دوسری طرف ایسے اقدامات کے خلاف پالیسی سطح پر محاذ بھی کھولے ہوئے ہیں۔ ان قوانین کے خاتمے کے علاوہ صحافیوں کے تحفظ کےلیے اسلام آباد اور صوبہ سندھ کے قوانین   کی طرح پاکستان کے باقی صوبوں میں بھی صحافیوں کی حفاظت کےلیے قوانین منظور کرانے کی کوشش کر رہے ہیں تا کہ ادارہ جاتی سطح پر صحافیوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔

اگست 2021 میں حکومتِ سندھ نے صحافیوں کے تحفظ اور آزادیِ اظہار کے لیے ایک جامع قانون منظور کیا جو تشدد، دباؤ اور ہراسانی کے خلاف قانونی ضمانت فراہم کرتا ہے۔ وفاقی حکومت نے اسی طرز پر ملک گیر سطح پر ایک قانون پاس کیا، جس میں صحافیوں کی سلامتی کے لیے سیفٹی کمیشن کے قیام کی شق شامل تھی۔ تاہم تین سال گزرنے کے باوجود یہ کمیشن تشکیل نہ دیے جانے کے باعث وفاقی قانون عملاً غیر مؤثر ثابت ہوا۔

ایسے میں بہاولپور پریس کلب کی حالیہ ’تحفظِ صحافت‘ مہم ایک امید کی کرن ہے۔ اس مہم کے تحت صحافیوں کو قانونی تربیت دی جا رہی ہے، فیلڈ میں خطرات سے بچاؤ کے طریقے سکھائے جا رہے ہیں، اور ذہنی صحت پر سیشنز رکھے جا رہے ہیں۔

بہاولپور پریس کلب کےصدر چودھری محمد سلیم نے بتایا کہ صحافیوں کےلیے آگاہی سیشنز کے ساتھ ساتھ  انہوں نے مقامی وکلاء اور سکیورٹی ماہرین کے ساتھ معاہدے کیے ہیں تاکہ صحافیوں کو وقتِ ضرورت فوری مدد فراہم کی جا سکے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ ماڈل دوسرے اضلاع میں بھی اپنایا جا سکتا ہے، بشرطیکہ پریس کلبز سنجیدہ ہوں۔

ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان سے وابستہ سرائیکی ڈیسک کی انچارج ڈاکٹر سعدیہ کے مطابق  ہر پریس کلب کو چاہیے کہ وہ ضلعی سطح پر تحفظاتی گائیڈ لائنز مرتب کرے، قانونی معاونت فراہم کرے، خواتین کے لیے الگ سیل بنائے، اور صحافیوں کو ڈیجیٹل دنیا کے خطرات سے آگاہ کرے۔ مگر ان تمام کوششوں کی کامیابی کا دار و مدار اسی پر ہے کہ صحافی آپس میں متحد ہوں، اپنے اداروں پر اعتماد کریں، اور سچ بولنے کی قیمت ادا کرنے کے لیے تیار ہوں۔

جنوبی پنجاب میں صحافت کرنا آج بھی ایک مشکل اور پرخطر راستہ ہے، لیکن اگر صحافیوں، ان کی تنظیموں، اور ریاستی اداروں کے درمیان بہتر ہم آہنگی پیدا ہو جائے، تو یہ راستہ محفوظ بھی ہو سکتا ہے۔ سچ کی جنگ صرف الفاظ سے نہیں جیتی جاتی، اس کے لیے ادارہ جاتی پشت پناہی، عوامی حمایت، اور پیشہ وارانہ اتحاد بھی لازم ہے۔

بنیادی طور پر صحافیوں کے پیشہ ورانہ اور سماجی اتحاد کا پلیٹ فارم ہیں، جن کا مقصد صحافیوں کو ایک جگہ اکٹھا کرنا، پریس کانفرنسز اور مکالمے کا ماحول فراہم کرنا، اور آزادیِ اظہار و صحافتی اقدار کے فروغ میں کردار ادا کرنا ہے۔ یہ ادارے زیادہ تر غیر منافع بخش تنظیموں کے طور پر رجسٹر ہوتے ہیں اور اپنے داخلی آئین یا قواعد و ضوابط کے تحت چلتے ہیں۔ ان کی قانونی حیثیت کسی مخصوص وفاقی قانون سے متعین نہیں بلکہ تنظیمی سطح پر طے شدہ ہوتی ہے، اسی لیے ان کے اختیارات زیادہ تر نمائشی یا اخلاقی نوعیت کے ہیں، مثلاً کسی صحافی پر حملے کی مذمت یا حکام کو تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ۔

دوسری جانب صحافیوں کی یونینز جیسے پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس ٹریڈ یونین یا پیشہ ورانہ تنظیموں کے طور پر کام کرتی ہیں، جن کا بنیادی مینڈیٹ صحافیوں کے معاشی، پیشہ ورانہ اور قانونی حقوق کا تحفظ ہے۔ یہ یونینز کام کے حالات، تنخواہوں، آزادیِ صحافت، اور حکومتی دباؤ کے خلاف اجتماعی سطح پر آواز اٹھاتی ہیں۔

ان کی قانونی بنیاد عمومی مزدور قوانین یا سوسائٹیز ایکٹ کے تحت رجسٹریشن پر مبنی ہوتی ہے، مگر پاکستان میں میڈیا ورکرز کے تحفظ سے متعلق مخصوص قانون سازی ابھی ادھوری ہے۔ اس وجہ سے ان یونینز کا کردار زیادہ تر وکالتی اور احتجاجی نوعیت کا رہتا ہے، اور وہ اپنے اثر و رسوخ سے پالیسی سطح پر بہتری کے لیے جدوجہد کرتی ہیں۔

میڈیا ادارے اس خلا کو پُر کرنے میں ایک ادارہ جاتی اور پالیسی سطح کے ضامن کے طور پر نہایت اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ انہیں چاہیے کہ وہ اپنے رپورٹرز اور میڈیا ورکرز کے تحفظ کو محض انفرادی نہیں بلکہ ادارتی ذمہ داری سمجھیں۔ سب سے پہلے، اداروں کو اندرونی طور پر سیفٹی پروٹوکولز مرتب کرنے چاہییں جن میں فیلڈ رپورٹنگ کے دوران خطرات، ہراسانی، یا دباؤ کی صورت میں فوری ردِعمل کا واضح نظام ہو۔

دوسرے، میڈیا ہاؤسز کو اپنی ٹیموں کے لیے ڈیجیٹل سکیورٹی، فیلڈ سیفٹی، اور ذہنی صحت سے متعلق تربیت کو ادارہ جاتی پالیسی کا حصہ بنانا چاہیے، تاکہ صحافی خطرناک یا دباؤ والے حالات میں زیادہ محفوظ طریقے سے کام کر سکیں۔

مزید برآں، میڈیا ادارے اپنی قانونی اور مالی وسائل کو استعمال کرتے ہوئے ان صحافیوں کی مدد کر سکتے ہیں جنہیں ریاستی یا غیر ریاستی دباؤ کا سامنا ہو، مثلاً قانونی معاونت، حفاظتی رہائش یا ہنگامی امداد فراہم کرنا۔

اس کے ساتھ، میڈیا اداروں کو اپنے رپورٹرز کے ساتھ شفاف اور بااختیار تعلق قائم کرنے کی ضرورت ہے،ایسا تعلق جس میں ادارہ کسی بھی دباؤ یا تنازع کی صورت میں اپنے رپورٹر کے ساتھ کھڑا ہو۔  اگر پریس کلبز اور یونینز فعال یا مؤثر کردار ادا نہیں کر پا رہیں، تو میڈیا ادارے ادارتی اتحادتشکیل دے سکتے ہیں تاکہ اجتماعی طور پر پالیسی اصلاحات، صحافیوں کے تحفظ کے قوانین، اور آزادیِ صحافت کے فروغ کے لیے مؤثر لابنگ کی جا سکے۔
پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (پی ایف یو جے)  کے صدر افضل بٹ کا کہنا ہے کہ صحافیوں کے تحفظ کو مؤثر بنانے کے لیے موجودہ نظام میں ادارہ جاتی اصلاحات ناگزیر ہیں۔ پی ایف یو جے نے حال ہی میں ’صحافی الرٹ‘ نامی ایک موبائل ایپ متعارف کرائی ہے جس کے ذریعے صحافی کسی بھی خطرے یا حملے کی صورت میں فوری اطلاع دے سکتے ہیں اور اپنی موقع کی تفصیلات شیئر کر سکتے ہیں، تاکہ انہیں فوری معاونت فراہم کی جا سکے۔ یونین کے مطابق ٹیکنالوجی کے ذریعے صحافیوں کی جان و مال کے تحفظ میں نمایاں بہتری لائی جا سکتی ہے، بشرطیکہ یہ نظام پورے ملک میں وسعت اختیار کرے۔

انہوں نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ صحافیوں کو فیلڈ میں کام کے دوران حفاظتی تربیت، انشورنس، اور بنیادی سیفٹی آلات فراہم کیے جائیں اور میڈیا اداروں کو اس کی ذمہ داری قبول کرنی چاہیے۔ ان کے مطابق پریس کلبز اور یونینز میں اصلاحات اور شفافیت کی سخت ضرورت ہے۔ ممبرشپ کے عمل کو واضح اور غیرسیاسی بنایا جائے، مالی شفافیت کے اصول وضع کیے جائیں، اور خواتین، نوجوانوں، فری لانس اور ڈیجیٹل صحافیوں کی شمولیت کو یقینی بنایا جائے تاکہ یہ ادارے حقیقی معنوں میں نمائندہ بن سکیں۔

چیئرمین ڈسٹرکٹ پریس کلب میانوالی اختر مجاز کا کہنا ہے کہ ان اداروں کو مقامی انتظامیہ یا سیاسی دباؤ سے آزاد رکھا جائے کیونکہ آزادی ہی ان کی ساکھ اور مؤثریت کی بنیاد ہے۔ ان کے مطابق، ہر ضلع کی سطح پر قانونی معاونت اور ہنگامی امداد کے فنڈز قائم کیے جانے چاہییں تاکہ جب کوئی صحافی جھوٹے مقدمات، گرفتاری یا حملے کا نشانہ بنے تو اسے فوری قانونی اور مالی سہارا مل سکے۔ ان سفارشات کا مقصد ایک ایسا محفوظ اور بااختیار ماحول پیدا کرنا ہے جہاں صحافی آزادانہ اور بلا خوف اپنے پیشہ ورانہ فرائض انجام دے سکیں۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

’مولانا کی قدم بوسی کے لیے حاضر ہوتا ہوں‘، شہباز شریف اور مولانا فضل الرحمان کے درمیان دلچسپ مکالمہ

آئینی ترمیم سے پہلے ملک بھر میں بلدیاتی انتخابات کرائے جائیں، بلاول بھٹو زرداری

خام تیل کی قیمتوں میں مزید کمی، پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کتنی سستی ہوسکتی ہیں؟

مہاجرین کی 12 نشستوں کا معاملہ حساس، انہیں حقِ رائے دہی سے محروم نہیں کیا جا سکتا، رانا ثنااللہ

ٹرمپ اور امریکا پر عالمی اعتماد میں ریکارڈ کمی، نئی سروے رپورٹ نے خطرے کی گھنٹی بجا دی

ویڈیو

پاک ایران گیس پائپ لائن سمیت متعدد بڑے معاشی منصوبوں کی بحالی کے امکان روشن

پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات مشترکہ تاریخ، اعتماد اور مذہبی وابستگی پر استوار ہیں، رحمان حیات

کراچی کے شہری سندھ حکومت کی کارکردگی سے کس قدر مطمئن ہیں؟

کالم / تجزیہ

مسکراہٹیں بکھیرنے والے ادیب کی داستانِ غم

بلوچستان: فیصلہ یہیں ہوگا

جب پاکستان ہاکی نے ارجنٹائن کو عالمی فٹبال کپ جتوایا