میانوالی میں فرقہ وارانہ فسادات کی رپورٹنگ: صحافیوں کی جان کو لاحق خطرات اور تحفظ کی راہیں

جمعہ 19 دسمبر 2025
author image

مہ پارا ذوالقدر

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

میانوالی کے علاقے کالاباغ میں 26 اگست 2024 کو ایک مذہبی گروہ کی جانب سے جاری جلوس پر پیش آنے والے فرقہ وارانہ تصادم نے نہ صرف امن و امان کی صورتحال کو ہلا کر رکھ دیا، بلکہ صحافیوں کے لیے بھی یہ ایک کڑا امتحان بن گیا۔

اس جھڑپ میں 2 افراد جاں بحق اور درجنوں زخمی ہوئے، جبکہ 6 گھنٹے تک دونوں گروہوں کے درمیان فائرنگ کا سلسلہ جاری رہا۔ پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری تعینات کی گئی اور ضلع بھر میں 3 دن کے لیے موبائل و انٹرنیٹ سروس معطل رہی۔

فرقہ وارانہ فسادات اور ان کے اثرات

کالاباغ کا واقعہ میانوالی میں فرقہ وارانہ تصادم کی تازہ مثال ہے، جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ ضلع میں فرقہ وارانہ کشیدگی ایک مستقل خطرہ ہے۔ مقامی رہائشی حاجی عبدالوحید نے بتایا کہ ’ فائرنگ شروع ہوتے ہی ہم نے بچوں کو بستر کے نیچے چھپا دیا۔ محلے میں خوف کی فضا کئی دنوں تک قائم رہی اور کرفیو جیسے حالات تھے۔‘

رپورٹنگ کے دوران خطرات

ایسے حالات میں رپورٹنگ کرنے والے صحافی شدید خطرات سے دوچار ہوتے ہیں۔ فری لانس جرنلسٹ فیصل شہزاد کے مطابق ’میں جائے وقوعہ پر پہنچا تو دونوں اطراف سے فائرنگ جاری تھی۔ جان کو براہِ راست خطرہ تھا اور کسی قسم کا تحفظ موجود نہیں تھا۔‘

فیصل شہزاد نے بتایا کہ جب وہ فائرنگ کے دوران جائے وقوعہ پر موجود تھے تو ان کے والد نے بار بار فون کر کے گھر واپس آنے کی التجا کی۔ ان کے مطابق ’میرے والد کی آواز میں خوف صاف محسوس ہو رہا تھا۔‘ فائرنگ کے شور، آنسو گیس اور افراتفری کے دوران وہ لمحے ایسے تھے جن میں پیشہ ورانہ فرض اور ذاتی خوف کے درمیان توازن رکھنا سب سے بڑا امتحان تھا۔

اے آر وائی نیوز کے رپورٹر جنید خان کا کہنا تھا کہ مقامی ہونے کے باعث دونوں مسلک کے افراد ان پر دباؤ ڈالتے رہے کہ وہ ان کے حق میں رپورٹنگ کریں۔ ان کے مطابق ’خاندان والوں نے بھی تنبیہ کی کہ رپورٹنگ میں توازن رکھنا ورنہ بعد میں گروہی ردعمل بھگتنا پڑ سکتا ہے۔‘

پریس کلب میانوالی کے صدر اختر مجاذ کے مطابق ایسے حساس واقعات کی رپورٹنگ کرتے وقت صحافیوں پر اکثر تعصب کا الزام لگتا ہے اور انہیں ہراسانی کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔

بھکر کے صحافی رانا زاہد شریف کے مطابق دھمکیوں کی صورت میں صرف صحافی ہی نہیں، بلکہ ان کے اہلِ خانہ بھی شدید دباؤ اور خوف میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ اکثر گھر والے انہیں صحافت چھوڑنے کا مشورہ دیتے ہیں، جس سے صحافی خود کو تنہا محسوس کرتا ہے۔ 23 اپریل 2024 کو ان کے خلاف  ایک مقامی  سرکاری ہسپتال کے خلاف وڈیو سوشل میڈیا پر پوسٹ کرنے پر تھانہ کلورکوٹ ضلع بھکر میں ایک ایف آئ آر درج کی گئی۔

زاہد شریف کے اہلِ خانہ نے بتایا کہ جب ان پر مقدمہ درج ہوا تو محلے والوں نے ان کے گھر آنا چھوڑ دیا۔ ان کی بیٹی کہتی ہے، ’ابّو کو جب بھی فون آتا ہے تو ہم سب سہم جاتے ہیں، ڈر لگتا ہے کہیں پھر کوئی نئی مشکل نہ کھڑی ہو جائےایسے حالات میں خاندان اور پیشہ کے درمیان لکیر دھندلا جاتی ہے، اور ہر خبر صرف فیلڈ سے نہیں بلکہ گھر کی دہلیز سے جڑی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔ یہی وہ انسانی پہلو ہے جو بتاتا ہے کہ فرقہ وارانہ فسادات کی رپورٹنگ محض ایک پیشہ نہیں بلکہ مسلسل خوف، قربانی اور حوصلے کی کہانی ہے۔

مثبت رپورٹنگ کی مثال

میانوالی کے مقامی اخبار نوائے شرر نے فرقہ وارانہ مسائل کو متوازن اور مثبت انداز میں اجاگر کیا۔ چیف ایڈیٹر رانا امجد اقبال کے مطابق ’ہماری ذمہ داری ہے کہ ایسی صورتحال میں سنسنی پھیلانے کے بجائے ذمہ دارانہ رپورٹنگ کریں تاکہ مزید انتشار سے بچا جا سکے۔‘

ماہرین اور اداروں کی رائے

ریٹائرڈ ڈائریکٹر انفارمیشن تنویر خالد کے مطابق صحافیوں کے لیے تربیت اور حفاظتی سامان جیسے بلٹ پروف جیکٹس اور ہیلمٹس ناگزیر ہیں۔

تجاویز اور حل:

پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے صدر افضل بٹ کے مطابق، خطرات کم کرنے کے لیے صحافیوں کو پیشہ ورانہ تربیت، حفاظتی سازوسامان، قانونی معاونت اور ذہنی صحت کی سہولتیں فراہم کی جانی چاہییں۔
رپورٹنگ کے دوران پولیس و انتظامیہ کے ساتھ رابطہ، غیر جانبدار زبان کا استعمال، اور سوشل میڈیا پر ذاتی معلومات کے انکشاف سے گریز ضروری ہے۔
اگر حالات قابو سے باہر ہوں، جیسے فائرنگ جاری ہو یا جان کو خطرہ لاحق ہو، تو فوراً رپورٹنگ روک دینا چاہیے۔

پریس کلبز کا کردار

ایسے بحرانوں میں پریس کلب صحافیوں کے لیے سب سے مؤثر سہارا بن سکتے ہیں۔ انہیں کوارڈی نیشن سینٹرز قائم کرنے چاہییں جہاں رپورٹرز معلومات اور خطرات شیئر کر سکیں تاکہ رپورٹنگ متوازن رہے۔
مزید برآں، قانونی معاونت کے لیے وکلاء کے ساتھ شراکت داری، ضلعی انتظامیہ سے رابطہ میکانزم، اور ذہنی صحت کی کونسلنگ جیسے اقدامات بھی ناگزیر ہیں۔
اگر پریس کلبز ان تین محاذوں رابطہ، قانونی تحفظ، اور نفسیاتی معاونت پر فعال کردار ادا کریں، تو وہ نہ صرف صحافیوں کی حفاظت بلکہ ذمہ دارانہ اور پرامن رپورٹنگ کو بھی فروغ دے سکتے ہیں۔

یہ واقعہ اس بات کا ثبوت ہے کہ فرقہ وارانہ فسادات کی رپورٹنگ محض خبر رسانی نہیں بلکہ جان جوکھم میں ڈالنے والا عمل ہے۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

دہشتگردی کو پاکستان کی سرحدوں سے اٹھا کر بحرِ ہند میں ڈبو دیا جائے گا، وزیراعظم محمد شہباز شریف

کراچی: پارک سے اغوا ہونے والا 3 سال کا بچہ انس کیسے بازیاب ہوا؟

خود کو ایلون مسک کے بیٹے کی ماں قرار دینے والی خاتون نے ایکس اے آئی پر مقدمہ دائر کردیا

ارکانِ اسمبلی کے واٹس ایپ اکاؤنٹس ہیک، قومی اسمبلی میں خطرے کی گھنٹی

  سپریم کورٹ نے پینشن سے متعلق تاریخی فیصلہ جاری کر دیا

ویڈیو

محمود خان اچکزئی کی بطور اپوزیشن لیڈر تقرری کا نوٹیفکیشن جاری

‘انڈس اے آئی ویک’ پاکستان میں ڈیجیٹل انقلاب کی طرف ایک قدم

جامعہ اشرفیہ کے انگریزی جریدے کے نابینا مدیر زید صدیقی

کالم / تجزیہ

یہ اظہارِ رائے نہیں، یہ سائبر وار ہے

دو مہکتے واقعات جنہوں نے بہت کچھ سکھایا

’شام ڈھل جائے تو محسنؔ تم بھی گھر جایا کرو‘