پاکستان میں امریکی مشن نے وینڈر بلٹ یونیورسٹی (ٹینیسی، امریکا) کے تعاون سے STEMpowered منصوبے کی کامیاب تکمیل کا اعلان کیا، جس کی لاگت 294,000 ڈالر تھی۔ اس منصوبے کا مقصد پاکستان میں سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور ریاضی (STEM) تعلیم کو مضبوط بنانا اور امریکی تدریسی و قیادی مہارتوں سے استفادہ کرنا تھا۔
اس پروگرام کے تحت سکھر آئی بی اے (SIBA) یونیورسٹی اور بیونڈ دی کلاس روم ایجوکیشن کے تعاون سے SIBA کے اساتذہ کے لیے وینڈر بلٹ یونیورسٹی میں ایک ہفتے پر مشتمل تربیتی دورہ منعقد کیا گیا، جس میں اسٹیم تدریسی طریقے، تحقیق، تعلیم میں مصنوعی ذہانت، اور کلاس روم کے عملی مسائل کے حل پر توجہ دی گئی۔
مزید پڑھیں: ’یہ انتقام ہے، جنگ نہیں‘، امریکا کے شام میں داعش پر بھرپور فضائی و زمینی حملے
پروگرام کے اختتام پر امریکی قونصل جنرل کراچی کی زیرِ سرپرستی وینڈر بلٹ کی پیبوڈی کالج آف ایجوکیشن اینڈ ہیومن ڈیولپمنٹ کے اشتراک سے 4 روزہ ورکشاپ بھی منعقد ہوئی، جس میں 30 پاکستانی اسٹیم اساتذہ، پیبوڈی کالج کے 4 فیکلٹی ارکان، SIBA کے 11 اساتذہ، اور 16 طلبہ نے حصہ لیا۔ ورکشاپ میں انٹرایکٹو سیشنز اور پیشکشوں کے ذریعے شرکا نے اپنی تدریسی مہارتوں کو بہتر بنایا اور مستقبل میں پیشہ ورانہ روابط قائم کیے۔
اس پروگرام نے آغا خان یونیورسٹی سمیت دیگر تعلیمی اداروں کے ساتھ روابط کو بھی مضبوط کیا اور عالمی سطح پر اسٹیم تعلیم میں امریکی قیادت کو اجاگر کیا۔ شرکا نے STEM ٹول کِٹ اور کریکولم کوالٹی ایشورنس فریم ورک تیار کیا، جو ملک بھر میں بہترین تدریسی طریقوں کے نفاذ میں معاون ثابت ہوں گے۔
مزید پڑھیں: نیتن یاہو کیخلاف فیصلہ کیوں دیا؟ امریکا نے عالمی عدالتِ انصاف کے مزید 2 ججز پر پابندیاں عائد کردیں
سندھ کے منتخب تعلیمی اداروں میں کیے گئے ہدفی پائلٹ مطالعے کے دوران، منصوبے نے نمایاں نتائج دکھائے۔ کم لاگت اور تحقیق پر مبنی تدریسی طریقوں سے طلبہ کے اسٹیم تجربات میں اعتماد 60 سے 80 فیصد تک بڑھا، جبکہ ثقافتی طور پر موزوں تدریس کے ذریعے لڑکیوں کی اسٹیم میں شرکت اور قیادت میں 30 فیصد سے زائد اضافہ ہوا۔
STEMpowered منصوبہ امریکا اور پاکستان کے تعلیمی تعاون کی مضبوط مثال ہے، جو عالمی معیار کی مہارت اور تحقیقی معیار کو بروئے کار لا کر تعلیمی نظام میں پائیدار اصلاحات اور مستقبل میں اسٹیم شعبوں میں جدت کی راہ ہموار کرتا ہے۔















